سیاسی کارکنوں کی تربیت
- تحریر سید محمد اشتیاق
- سوموار 07 / نومبر / 2016
- 5420
ملکی سیاسی صورتحال ا نتشار کا شکار ہے۔ ہرسیاسی جماعت میں وفاقی اور صوبائی سطح پرا نتشار اورہم آہنگی کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہرجماعت کا قائد اور درجہ بدرجہ ہر رہنما ، ایک ہی مسئلے کے حل کے لیے، متضاد رائے، تجاویز یا حکمت عملی بیان کررہا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوری دور ہمیشہ تعطل کا شکار رہا ہے، اسی وجہ سے جمہوری اور سیاسی بلوغت کی کمی محسوس ہورہی ہے ۔
گزشتہ 8 سال سے ملک میں جمہوری حکومتیں کام کررہی ہیں لیکن دوبارہ آمریت مسلط ہونے کے خوف میں مبتلا حکومتوں نے بہتر طرز حکمرانی پر توجہ دینے سے پھر بھی گریز کیاہے۔ حکمران ، وزراء اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی پارلیمنٹ میں حاضری بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اہم قومی معاملات پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے لیکن بعض جماعتیں اور رہنما اس سیشن کا بھی بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ایوان میں اراکین کی عدم دلچسپی اس بات کی مظہر ہے کہ عوامی نمایندوں کو ،عوام کے مسائل کے حل سے دلچسپی نہ ہونے کے علاوہ، اہم قومی معاملات سے بھی دلچسپی نہیں ہے ۔ ملک جب بحران میں مبتلا ہوتاہے تو حکومت کے ساتھ ، سیاسی جماعتیں بھی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کرتی ہیں۔ لیکن ان کانفرنسز میں بھی بعض سیاستدان ملکی و قومی معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض ذاتی رنجشوں کے باعث شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سرکردہ رہنماؤں کے بیانات کا نوٹس، کارکنان اور ووٹرزنہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان بیانات کو لے کر بحث و مباحثہ بھی کرتے ہیں۔ جس کے اثرات معاشرے میں سرایت کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس بحث و مباحثہ کا نتیجہ خوشگوار نہیں ہوتا بلکہ آپس میں مزید رنجشیں، بغض و عناد اور سیاسی انتشار پیدا ہو تاہے۔ کسی منطق یا دلائل سے مخالف کو قائل کرنے کی بجائے بس اپنے قائد کی تعریفوں کے پُل باندھے جاتے ہیں اور حریف و مخالف سیاسی جماعت کے قائد پر پھبتیاں کسنے کے علاوہ اس کی ذاتی زندگی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کارکن کم پارٹی کے تنخواہ دار ملازم کا حق زیادہ ادا کررہے ہیں۔ سیاسی کارکنان کے اس طرز عمل کے ذمہ دار، سیاسی جماعتوں کے قائد اور سرکردہ رہنما ہیں۔ کیونکہ عوامی جلسے اورجلوسوں میں ، اپنے سیاسی حریفوں ا ور مخالفین کے لیے جو زبان وہ ا ستعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کے کارکن اورووٹر گلی ، محلوں، دفاتراور بازاروں میں، دوران بحث و مباحثہ استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح ناخوشگوارماحول جنم لیتا ہے ۔
سیاسی جماعتوں کی طلبا تنظیمیں تعلیمی اداروں میں بھی قائم ہیں لیکن یہاں بھی یہ تنظیمیں علم کے فروغ ، طلبا میں نظم و ضبط پیدا کرنے اور تعلیم میں معاون ہونے کی بجائے تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں اورطلبا میں گروہ بندی اور لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنتی ہیں۔ جامعات میں تو خاص کر بعض دفعہ صورتحال بہت ہی نازک ہوجاتی ہے۔ دنگا فساد اورقتل و غارت گری کے واقعات کئی دفعہ رونما ہوچکے ہیں۔ سیاسی کارکنان اور طلبا میں بحث و مباحثہ کے دوران شائستگی، رواداری ا ورتحمّل کے ساتھ مخالف کی بات سننے کا حوصلہ ناپید ہے۔ جب تک شرکائے بحث ان آداب سے ناواقف ہوں گے تو بحث کا اختتام ناخوشگوار ہی ہوگا۔ اس صورتحال میں یہ ذمّہ داری سیاسی قائدین اور رہنماؤں کی ہے کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل پارٹی اجلاسوں میں تمام رہنماؤں کو اس بات کا پابند کریں کہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کوئی بھی رہنما بیان بازی سے اجتناب کرے اور پارٹی قائدین اپنی جماعت کے سیاسی کارکنان کی تربیت کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل بنائیں۔ تاکہ سیاسی انتشار کی فضا کا خاتمہ ہو اور بامقصد مکالمے کی بنیاد پڑسکے۔
اکّا دُکّا جماعتیں اپنے سیاسی کارکنان اور طالب علم رہنماؤں کی سیاسی تربیت کا خیال رکھتی ہیں۔ ان جماعتوں نے اس مقصد کے لئے مراکز بھی بنائے ہوئے ہیں۔ ان مراکز میں جماعت کے قائد اور سرکردہ رہنما سیاسی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے لیکچر دینے کے علاوہ جماعت کے نظریے، مقاصد اور منشور سے بھی روشناس کراتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام بڑی پارلیمانی جماعتیں ڈنڈا بردار، جاں نثار کارکنان کی فوجیں تیار کرنے کی بجائے ، وفاقی ، صوبائی ، شہری اور ضلعی سطح پرقائم پارٹی دفاتر اور طلبا تنظیوں کے دفاترمیں لائبریریاں قائم کریں اور دنیا کے تمام نامور اور کامیاب سیاست دانوں کی سوانح عمری اور جدوجہد پر مبنی کتب خصوصی طور پر وہاں دستیاب ہوں۔ تاکہ کارکنان ان سے استفادہ کرسکیں ۔ اس کے علاوہ قائدین اور پارٹی کے سرکردہ سیا سی رہنماؤں کے لیکچرز کے ذریعے، نوجوان سیاسی کارکنان کی تربیت کا خصوصی اہتمام ہونا چاہئے۔
فہم و فراست ، تحمّل اور برداشت کو فروغ دینے سے ہی موجودہ سیاسی انتشار کی فضا رفتہ رفتہ ختم ہوسکتی ہے اور عوام اگلے عام انتخابات میں بے مقصد مباحث میں پڑنے کی بجائے، سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق آزادانہ اور پرامن ماحول میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ اس طرح ملک میں جمہوریت مستحکم بنیادوں پر قائم ہوسکے گی۔ اور عوام بھی جمہوریت کے ثمرات کا فائدہ اٹھاسکیں گے۔