کیا واقعی پاکستا ن ترقی کر رہاہے؟
- تحریر نوید کاظمی
- سوموار 07 / نومبر / 2016
- 7120
پہلے ترقی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید کچھ حقائق آشکار ہو سکیں۔ کیونکہ جسے ہمارے حکمران ترقی کہہ کر پرچار کر رہے ہیں، وہ در حقیقت صرف مصنوعی تعمیرات ہیں جن کو کبھی بھی ملکی ترقی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعمیرات واقعی ترقی ہوتی تو موہنجوڈارو ، مغلیہ سلطنتیں اور اسی طرح کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ان حکمرانوں نے تعمیراتی شعبے میں شاہکار نشانی کے طور پر چھوڑے۔ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لوگ رشک کی نگاہ سے انہیں دیکھتے ہیں۔ پر وہ اقوام اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکیں۔
چند ایک پل اور اہم شاہرایں بنا دینے سے ملک ترقی کر گیا ہے کیا؟ جبکہ کاروبار تباہ، اداروں کا ستیاناس، لوگ بے حال، لوڈشیدنگ کم ضرور ہوئی پر ختم کب ہوگی ۔کیونکہ حکومتی دعوے کی تو ڈیڈلائن گزرے مدت ہوگئی اور لوڈشیڈنگ برقرار ہے۔ سردی ابھی شروع ہوئی ہی نہیں کہ گیس کا بحران بھی شروع ہو گیا ہے ۔ یہ کونسی ترقی ہو رہی ہے جس میں عوام سٹون ایج میں واپس جا رہے ہیں جہاں نہ تو روشنیوں کے لئے بجلی ہے اور نہ روٹی پکانے کے لئے گیس۔ پانی کی سہولت کہیں کہیں شہری آبادیوں میں اگر پہنچا بھی دی گئی ہے تو وہاں پانی آتا اپنی مرضی سے ہی ہے۔ جو لائنز بچھائی گئی ہیں وہ راستے میں آبشاریں بناتی جا تی ہیں۔ نکاسی آب کا بندوبست نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحت عامہ دگرگوں ہے۔ سراکاری اسپتالوں کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے نواحی علاقوں میں جا کر دیکھیں تو تعمیراتی ترقی کا دعوؤں کا پول بھی کھل جاتا ہے۔ سڑکوں کا برا حال ہے اور سفر کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ وہاں ترقی کے ثمرات کب پہنچیں گے یا وہ علاقے پاکستان سے باہر ہیں۔ ساری ترقی صرف لاہور کا ہی حصہ ہے۔ جہاں پورے پنجاب کا بجٹ جھونک دیا گیا ہے۔ اس شہر میں بھی بارش ہوتے ہی ترقی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اگر چند سڑکیں اور پل ہی ترقی ہوں تو لاہور تو دنیا کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں شمار ہو چکا ہوتا۔ اس نام نہاد ترقی کا جو خمیازہ پنجاب بھگتنا پڑا ہے ، وہ بھی عبرت ناک ہے۔ ترقی کے نام پر پورے علاقے کو جنگلات سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس وقت شہر سموگ SMOG کے جس مسئلہ کا سامنا کررہا ہے ، اس کی وجہ جنگلات کو نیست و نابود کرنا ہی ہے۔ اب لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
لیپ ٹاپ سکیم ہو، آسان قرضوں کی فراہمی کی سکیم، ٹیکسی سکیم اور اسی طرح کے چند اور پروجیکٹس پر ملک کے کھربوں روپے لگا دیے گئے ہیں۔ پر کیا ان سکیموں سے ملک کو اجتماعی طور پر کوئی فائیدہ ہوا ہے یا چند مخصوص افراد کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کوبھی یہ سکیمں صرف وقتی فائیدہ پہنچا سکیں۔ ان سکیموں کی بجائے اگر سرکاری سکولوں، کالجوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دے دی جاتیں تو یہ فائیدہ نسلوں تک منتقل ہو جاتا ۔
میڑو پروجیکٹ ہو، اوورہیڈ بریج ، انڈرپاسز، سڑکوں کی توسیع، گرڈ سٹیشنز، غرض جو بھی ترقیاتی کام اس حکومت نے شروع کیا ہے ان کا مقصد ترقی ہو نہ ہو پر اپنا فائیدہ ضرور ہوتا ہے۔ ملکی خزانے کے کھربوں روپے نہ جانے کن کے نجی خزانوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ نہ احتساب کا نظام استوار ہوتا ہے اور نہ ہی ادارے مستحکم کئے جا رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ کوئی حکرمانوں کو پوچھنے والا نہیں ہے۔
سی پیک CPEC واحد پروجیکٹ ہے جو اگرسیاسی مخالفین کی سیاست سے بچ کر مکمل ہوگیا تو ترقی کے سفر پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے حقیقی ترقی کا سفر شروع کرتے ہوئے اداروں کی تنظیم نو کا کام شروع کردیں۔ عوام کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں تاکہ حکمرانوں کو نیک نامی میسر آسکے۔ ورنہ کب تک کنٹینر لگا کر عوام کو مظاہروں سے روکتے رہیں گے۔ ایسے اقدامات کرکے اقتدار سے رخصت ہوں کہ مخالفین اگر عوام کو اکسائیں بھی تو بھی لوگ یہ جواب دیں کہ ان لیڈروں نے تو پاکستان کو ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ بنا دیا تھا۔