لولی لنگڑی جمہوریت سے کیسی تبدیلی
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 08 / نومبر / 2016
- 7478
’’میڈیاآزاد ہوگیا ہے، اب ملک وقوم کی قسمت بدل جائے گی۔‘‘ یہ آج سے ڈیڑھ دہائی پہلے یقین کرایا گیا۔ ایک دہائی قبل وکلاء تحریک کے دنوں پریقین کرایا گیا کہ بس چیف جسٹس کی نوکری بحال ہونے کی دیرہے، قوم کی قسمت ہی بدل جائے گی۔ پھر پی پی پی مرکزاورمسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئیں، تو کہاگیا سیاست دان میچورہوگئے ہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور اب نوے کی دہائی دہرائی نہیں جائے گی ۔
لوگوں کویہ بھی باورکروایا گیا، جمہوریت کے بطن سے بہتری کے سرچشمے پھوٹ پڑیں گے۔ لیکن قدرت کا کرنا دیکھیں سرچشمے کیا پھوٹنے تھے ، سونامی نے سب کچھ دھوڈالا۔ پھر آغازہوا دھرنوں کاجوابھی بھی جاری ہے اورکہاجارہا ہے کہ دھرنے ملک قوم کی قسمت ہی بدل دیں گے۔ سب کچھ بدل رہاہے، اگرنہیں بدلا تو پاکستان نہیں بدلا۔ نوازشریف اور ان کے اہل خانہ جو جلاوطن تھے، اپنے تمام اہل خانہ کے ہمراہ وطن عزیزکے اقتدارپر براجمان ہیں۔ جوملتان اورگوجر خان کے میئر نہیں بن سکتے تھے، وزیراعظم بن کراتربھی گئے اور اُن کی زندگیاں سنور بھی گئیں۔ آصف علی زرداری جیلیں بھگتانے کے بعد صدربنے اورایسے طاقتورصدرجوکسی فوجی آمرہی کی قسمت میں لکھا ہے۔ اُن کے صاحب زادے بلاول زرداری بلوغت سے پہلے ہی سیاست کے ستارے بنے اورعمران خان سیاسی بھول بھلیوں سے نکل کرسیاسی شہرت وقیادت کے عروج پر پہنچ گئے۔ مگر سب کچھ ویساہی رہا، قوم ومملکت اورسماج۔ مگروہ لوگ ضروربدلتے نظر آئے جو سب کچھ بدلنے کے دعوے دارتھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ایسے لوگ قومی سیاست کے ستارے بن گئے، جن کوسیاست کی ابجد بھی نہیں آتی۔ لاگوجمہوریت کے وہ محافظ بن کرسامنے آگئے جو 1977ء میں منتخب حکومت کوگرا کرپاکستان میں اسلامی انقلاب برپاکرنے کے ذریعے جنرل ضیا کواقتدارمیں داخل کرنے پراطمینان کا اظہاراورشکرانے اداکرتے تھے۔ اسلامی نظام کے لیے شکرانے اور جمہوریت کو کافرانہ نظام قراردیتے تھے۔ اب وہی لوگ کہنے لگے ’’جیسی بھی جمہوریت ہو، وہ آمریت سے بہتر ہے۔‘‘ بلکہ یہ بھی کہنے لگے کہ ’’لولی لنگڑی جمہوریت غنیمت ہے، اسے چلتارہناچاہیے۔‘‘ ہمارے جیسے مجنون اُن کو کہتے ہیں کہ کبھی لنگڑے لولے نظام کامیاب نہیں ہوتے، لولے لنگڑے لوگوں کو دوڑمیں کبھی آپ نے جیتتے دیکھا؟ بہتر ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت کی بجائے بہتراورمکمل جمہوریت لائی جائے۔ ہمیں کہاجارہا ہے یہی گندا پانی ہے، اسے پی کرزندہ رہو۔ ہمارے جیسے مجنون کہتے ہیں کہ اس کو فلٹریاصاف کرکے پیاجائے، بھلا یہ کیا دلیل ہے کہ اسی گندے پانی پراکتفا کیاجائے۔
لولی لنگڑی جمہوریت، کیا طفلانہ دلیل ہے۔ ایک ایسی جمہوریت جواشرافیہ کی قیادت میں بے وسیلہ لوگوں کے سروں پرکھڑی ہے۔ ایسی جمہوریت اپنے بطن سے چند شاہراہیں، فلائی اوورزاورچند جدید سفری سہولیات ہی جنم دے سکتی ہے۔ لوگوں کواہل علم اور اپنا مالک خود بنانے سے قاصر ہے۔ ایسی جمہوریت اگر لوگوں کی قسمت بد ل سکتی توسات دہائیوں سے ہمارے پڑوس بھارت میں یہ معجزہ برپاہوچکا ہوتا جس کو عالمی سرمایہ داری نظام سب سے بڑی جمہوریتLargest Democracy قراردیتا ہے، جب کہ حقیقت میں وہ دنیا کی سب سے بڑی غربت Largest Poverty of the World ہے۔ جس میں اشرافیہ کے ساتھ ساتھ قاتل اورڈاکوبھی حصہ دارہیں۔ اب ہمیں یہ بھی کہاجارہاہے کہ چین ہماری قسمت بد ل دے گا۔ مجھے دنیا کی کوئی مثال دکھادیں جہاں بیرونی طاقتوں نے کسی قوم کی قسمت بدل دی ہو۔ جاپان اورجرمنی کی جنگ عظیم کی تباہی کے بعد ابھرنے کی کہانی اُن کی اپنی ہی جدوجہد میں پنہاں ہے۔
کیا46ارب ڈالر، ایک تجارتی راستہ اورسٹریٹجک مفادات کے لیے راستہ، ہماری قوم کی قسمت بدل دے گا۔ یہ شاہراہ ایک شان دار منصوبہ ہے لیکن یہ ہماری قوم کی بقا کا واحد راستہ نہیں۔ اس کے مفادات پاکستان سے جڑے ہیں ۔لیکن اس کے زیادہ اثرات اور ثمرات چین کے حصے میں آئیں گے۔ چین ہماری قسمت بدلے گا! ہم کتنے سادہ لوگ ہیں اورہمارے حکمران طبقات کس قدرچالاک ، یہی اس سیاسی نظام کی کامیابی ہے۔ جولوگ رات کو ٹیلی ویژن سکرینوں کے سامنے بیٹھ کربلند آوازمیں نشرہونے والے تجزیوں سے قوم کے مستقبل کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، مجھے بتائیں کہاں قسمت بدلی۔ ایک جج کی نوکری بحال ہونے سے، جمہوریت کے انتقام سے، دھرنے سے یافلائی اوورز سے۔ یہ چیزیں قسمت بدلنے کا کبھی ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ قوموں کی قسمت اجتماعی سیاسی شعوراورطبقاتی نظام کوڈھانے سے بنتی ہے جس پرسب حکمران اشرافیہ اکٹھی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں پر وسائل یافتہ لوگوں کی حکمرانی ہے۔ اوراسی طرح الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیامیں بھی۔ سب کے تانے بانے ایک دوسرے سے جاملتے ہیں۔
’’لولی لنگڑی جمہوریت‘‘ ، ’’جمہوریت بہترین انتقام‘‘ اوردھرنے والے، سب طرف انہی طبقات کاغلبہ ہے۔ یہی اس نظام کے محافظ ہیں۔ کوئی بھی سٹیٹس کوتوڑنا نہیں چاہتا۔ سب لولے لنگڑے نظاموں کے ہی خیرخواہ ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں چاہتاکہ جو سماج اور ریاست کولولے لنگڑوں سے نجات دلادے۔ لولے لنگڑے نظام ہی توان حکمران طبقات کے اقتدارکی ضمانت ہیں۔ جمہوریت کا تسلسل رہے یا آمریت تعطل کے بعد آئے، دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ دونوں ہی عوام سے کٹے ہوئے نظام ہیں۔ جنرل ضیا کی آمریت سے لے کرآپ جنرل پرویز مشرف کی آمریت دیکھ لیں، وہی لوگ حکمران ہیں جولولی لنگڑی جمہوریتوں میں اقتدارپربراجمان تھے۔ حتیٰ کہ ’’دھرنے بازوں‘‘ میں بھی وہی چہرے ہیں جوہمیں لولی لنگڑی جمہوریتوں اورتوانا آمرتیوں میں نظرآتے تھے۔ توپھرتبدیلی کہاں ہے؟
الفاظ ، دعووں اورنعروں کا گورکھ دھندا ہے۔ چند سالوں بعد ایک نئی نسل جوان ہوتی ہے، ان گورکھ دھندوں میں الجھانے کے لیے، کہاجاتا ہے نوجوان نسل ملک کی قسمت بدل دے گی۔ یہ توآبادی کا سیلاب ہے، علم سے بے بہرہ اورگورکھ دھندوں کانشانہ بننے کے لیے تیار۔ کثیر آبادیوں کے برپا ہوجانے سے تبدیلیوں کی امید لگانا، کیا مذاق ہے۔ غربت، جہالت، بے روزگاری، ایسی نوجوان نسل انقلاب اورتبدیلی کاہراول دستہ نہیں بن سکتی۔ یہ توآبادی کاسیلاب ہے جو ہمارے ہاں برپاہے۔ آبادی کایہ سیلاب چند سالوں میں ایک اور تباہی Disaster کا پیش خیمہ ہے۔ تبدیلی، شعورکی بھٹی سے نکل کر طبقاتی بغاوت سے جنم لیتی ہے، حکمران طبقات کے محلات سے نہیں اورنہ ہی حکمران طبقات کی عارضی باہمی کشمکش سے۔