دیہات اور سیاسی شعور
- تحریر ڈاکٹر ساجد علی
- بدھ 09 / نومبر / 2016
- 8678
پاکستان کی تاریخ میں 1958 وہ منحوس سال تھا جب جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ میں اس وقت دوسری جماعت کا طالب علم تھا اور میرے سیاسی شعور کا یہ نقطہء آغاز تھا۔ اس وقت یہ تو پتہ نہیں تھا کہ ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں لیکن دادا جان کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ سابق وزیر اعظم پاکستان، چودھری محمد علی، جن کی جماعت کا نام نظام اسلام پارٹی تھا، ساتھ والے گاؤں میں جلسہ سے خطاب کرنے کے لیے آ رہے تھے۔ اور دادا جان بہت جوش و خروش کے ساتھ جلسہ میں شرکت کی تیاری کر رہے تھے۔ ان دنوں وہ میرے بڑے بھائی کو نظام دین اور مجھے اسلام دین کہا کرتے تھے۔ گاؤں کے پرائمری سکول میں اساتذہ ہڑتال پر تھے، اس لیے ہم چھٹیاں منا رہے تھے۔
ایک دن پتہ چلا کہ ملک میں فوجی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ لوگ خوش تھے یا نہیں لیکن خوف زدہ ضرور تھے۔ رات کے وقت اساتذہ گھروں پر پیغام دے رہے تھے کہ صبح سکول کھلے گا اور پڑھائی ہو گی۔ جن دکانداروں کے پاس ملاوٹ والا مال تھا، وہ رات کی تاریکی میں نہر میں پھینک آئے۔ فوجی حکومت میں صفائی پر بہت زور دیا جاتا ہے اور دکانداروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ نرخ نامہ آویزاں کریں۔ کچھ دن بعد دو فوجی ہمارے گاؤں میں آئے اور وہ دکانوں پر نرخ نامے چیک کر رہے تھے۔ ایک دکان پر پہنچے تو انہیں نرخ نامہ دکھائی نہ دیا۔ انہوں نے دکاندار سے بہت سختی سے پوچھا کہ اس نے نرخ نامہ کیوں نہیں لگایا۔ اس نے جواب دیا کہ وہ سامنے لگا ہوا ہے۔ فوجیوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کیا ہے اور اس میں اشیا کے نام کہاں ہیں۔ فوجیوں کا بھی قصور نہیں تھا کیونکہ وہ نرخ نامہ گورمکھی میں لکھا ہوا تھا۔ بعد میں بڑی دیر تک گاؤں میں اس لطیفے کا ذکر ہوتا رہا۔
فوجی حکومت کے قائم ہونے پر خوف زدہ ہونے کا سبب شاید یہ تھا کہ اس وقت لوگوں کی یادداشت میں انگریزوں کی فوج کا دبدبہ اور اس کی دہشت موجود تھی۔ اس کے علاوہ احمدیوں کے خلاف تحریک کے نتیجے میں پنجاب میں لگنے والے مارشل لا کی یادیں بھی ابھی ذہنوں میں تازہ تھیں۔ اس کے بعد جتنی دفعہ بھی مارشل لا لگا، لوگوں نے کبھی اسے سیریس نہیں لیا۔
فوجی حکومت کو قائم ہوئے ابھی شاید ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ رحیم یار خاں میں میرے ماموں جان کو گرفتار کر لیا گیا۔ امی جان ایک ہی بات کہتی تھیں کہ میرا بھائی نہ چور نہ ڈاکو، اسے کیوں پکڑ لیا ہے۔ جب کچھ بڑے ہو گئے تو پتہ چلا کہ ان پر حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش تیار کرنے کا الزام تھا اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلا تھا۔ ایک دن یہ خبر سننے میں آئی کہ پولیس نے ماموں جان کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ مجھے اس وقت اس لفظ کے ایک ہی معنی معلوم تھے۔ درخت کی کٹی ہوئی موٹی شاخ، جس پر بہت سی باریک شاخیں ہوں، اسے چھاپہ کہتے تھے اور اسے ایندھن کے طور پر چولھے میں جلایا جاتا تھا ۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ گھر پر چھاپہ کس طرح مارا جا سکتا ہے اور اس سے کیا حاصل ہو گا۔ چھاپہ مارنے کے معنوں کا کئی برس بعد پتہ چلا ۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ ماموں جان کو گرفتار ہوئے کتنا وقت گز چکا تھا، کہ ایک دن مغرب کے بعد پچھلی گلی میں کھلنے والی کھڑکی پر دستک ہوئی۔ میں بھاگ کر گیا تو ہمارے ایک عزیز، جو سکول میں استاد بھی تھے، کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا میرے ماموں جان کے بارے میں کوئی خبر آئی ہے تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اپنی امی کو جا کر بتا دو کہ بری ہو گئے ہیں۔ مجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا ہے مگر میں نے بھاگے بھاگے جا کر امی جان کو یہ خبر سنائی جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ تیرا شکر ہے۔ اس پر مجھے تسلی ہوئی کہ کوئی اچھی خبر ہے۔ اب اسے خاندانی تنازعہ سمجھ لیجیے کہ میں زندگی بھر کبھی ایوب خان کا حامی نہ ہو سکا اور سکول کی بزم ادب میں اس کے خلاف تقریریں کیا کرتا تھا۔
جب میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا تو اس وقت ملک میں صدارتی انتخاب کی مہم چل رہی تھی۔ اس میں ایوب خان کے مقابلے پر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح امیدوار تھیں۔ ہمارا خاندان مادر ملت کی حمایت کر رہا تھا۔ ہم بڑے فخر سے لالٹین کے بیج لگا کر پھرا کرتے تھے۔ رحیم یار خان میں ماموں جان مادر ملت کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ یہ انتخاب براہ راست نہیں تھا بلکہ بنیادی جمہوریت کے اسی ہزار ارکان پر مشتمل الیکٹورل کالج تھا۔ وہی اس میں ووٹ دینے کے حق دار تھے۔ عوام کی ایک بڑی اکثریت مادر ملت کی حامی تھی۔ تاہم سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ اس انتخاب میں اگرچہ بے تحاشا دھاندلی روا رکھی گئی تھی، پرمٹوں اور اسلحے کے لائسنسوں سے بی ڈی اراکین کے ضمیر خریدے گئے، سرکاری مشینری کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا، اس کے باوجود، کراچی کے بعد، جہاں مادر ملت نے اکثریت حاصل کی تھی، مغربی پاکستان میں ہمارا علاقہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، وہ واحد حلقہ تھا جہاں ایوب خان اور مادر ملت کے ووٹ برابر تھے۔
اس زمانے کے گاؤں آج کے حالات کے برخلاف بہت پس ماندہ تھے۔ علاقے میں پکی سڑکیں بہت کم تھیں، بلکہ نہ ہونے کے برابر تھیں۔ چھ سات میل کے فاصلے پر واقع شہر جانا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ گاؤں میں صرف ہمارا گھر تھا جہاں اخبار آتا تھا۔ تین چار گھر تھے جن میں ریڈیو تھا۔ اس انتخاب میں ایک عجیب واقعہ ہوا جو مجھے آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ گاؤں میں اباجان کے کزن بی ڈی ممبر منتخب ہوئے تھے اور وہ نمبردار بھی تھے۔ ہمارے ہمسائے میں دو بھائی رہتے تھے۔ دنوں ان پڑھ اور کانوں سے بھی بہرے تھے۔ سبھی انہیں ’بولے‘ کہتے تھے۔ ایک دن بڑا بھائی رات کے وقت ہمارے گھر آیا اور ابا جان سے اس نے یہ کہا: چودھری ساب، وڈے چودھری نوں آکھو ووٹ مائی نوں دینا اے۔ اوہدے بھرا نے سانوں پاکستان بنا کے دتا سی۔ (چودھری صاحب! بڑے چودھری سے کہیں کہ ووٹ مادر ملت کو دینا ہے۔ اس کے بھائی نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا تھا۔) اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس ان پڑھ، کانوں سے بہرے، دیہاتی کے پاس یہ سیاسی شعور کہاں سے آیا تھا کہ وہ ایوب خان جیسی وجیہ اور بارعب شخصیت کے مقابلے میں مادر ملت کے لیے ووٹ کا خواہاں تھا۔
1967 میں جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوتا تھا کہ ہم دیہاتیوں کی بہ نسبت انگریزی میڈیم اور شہری سکولوں کے پڑھے ہوئے طلبہ زیادہ تر ایوب خان کے حامی تھے۔ میرے نزدیک یہ ان کے سیاسی شعور کی ناپختگی کا واضح ثبوت تھا۔
ان واقعات کو لکھنے کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جب سے نجی چینلوں کا رواج شروع ہوا ہے، اور ان پر اینکروں کی بہار آئی ہے، ٹاک شوز کا شور شرابہ شروع ہوا ہے، ایک جملہ برابر سننے کو ملتا ہے کہ ٹی وی چینلوں نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کیا ہے۔ ان کا بین السطور مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ان چینلوں کی پیدائش سے قبل عوام سیاسی شعور سے محروم تھے، بالخصوص دیہات کے عوام۔ میرا خیال ہے کہ یہ دعویٰ اس ملک کے عوام کے شعور کی توہین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے پڑھے لکھے لوگوں نے جمہوریت کے ساتھ دغا کیا ہے اور آمروں کا ساتھ دیا ہے۔ جب شہر میں الیکشن والے دن زیادہ تر لوگ، بالخصوص پڑھے لکھے اور خوش حال، چھٹی منانے میں مصروف ہوتے ہیں، اس دن دیہات کے باسی قطاروں میں لگے اپنا ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
چینلوں پر چیختے چنگھاڑتے دانشوروں کو اس دیہاتی کا، اقبال کے الفاظ میں، بس اتنا پیغام ہے:
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی