ہمارے اعمال، ہمارے حکمران۔

تبدیلی کا نعرہ اتنا بلند ہو گیا ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان اب واقعی میں بدل جائے اور یہ عمل بھی راتوں رات ہو جائے ۔ رات کو سوئیں صبح نیا پاکستان بنا ہوا ہو اور اس پاکستان میں سب اچھا ہو۔ جیسے نہ کوئی کرپشن ہو نہ لوٹ مار، نہ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، پینے کو صاف پانی سب کو آسانی سے دستیاب ہو، کوئی فٹ پاتھ پہ نہ سوئے، سب کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات باآسانی دستیاب ہوں۔ کوئی کسی کا حق نہ کھائے اور نہ ہی کوئی آفیسر شاہی کے عتاب کا شکار ہوکر ذلیل ہوتا پھرے۔ عدالتوں سے انصاف سالوں میں نہیں دنوں میں حاصل ہونے لگے اور کسی بھی بےگناہ کوکوئی طاقت کے زورپر سزا نہ دلوا سکے ۔ تمام گلیاں، سڑکیں، شاہراہیں، پختہ اور وسیع ہو جائیں۔ یہ سب اور باقی سب ترقی و تبدیلی رات کے منظر کے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی رونما ہو۔

تاہم اگر کوئی چیز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو وہ ہیں اعمال اور اپنے کردارکو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا کردار اس قدر گر چکا ہے کہ اب مسجدوں کے وضوخانوں میں لوٹوں کو بھی زنجیریں لگانے کی ضرورت  ہے۔ پانی کے گلاسوں کو زنجیر پڑے تو بہت دفعہ دیکھا تھا، اور اسی کا صدمہ تھا  کہ آج سوشل میڈیا پر یہ تصویر ہمارے کرداروں پر لعنت کرنے کے لئے پہنچ گئی ہے جس میں مسجد کے لوٹے بھی ہم سے محفوظ نہیں۔ باتیں ہم اپنے حکمرانوں کی چوریوں کی کرتے ہیں ۔ محفوظ ہم سے لوگوں کی عزتیں نہیں اور شکوے ہم حکمرانوں کی بد سلوکیوں کے کرتے ہیں۔ دھوکہ دہی ، نوسربازی میں ہم نے تمام دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس کا جتنا اختیار ہے وہ اپنے حصے کا دھوکا فراڈ کر رہا ہے۔

مثال کے طور پر یک ریڑھی والے کے اختیار میں اتنا ہی ہے کہ وہ اچھا مال اوپرسجا کر رکھے اور تولتے ہوئے ایک تو اپنے تول میں ڈنڈی مارے،  دوسرا اچھی جنس کے ساتھ  اپنا خراب مال نکال سکے۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر آج کل میری اس بات کی تشریح کے لئے کافی ہے جس میں ایک گوالاایک کلو دودھ میں پانی ملا کر دو کلو کر رہا ہے اور ملکی حالات کے بارے بات کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ حکمران ہی چور ہیں جی، ملک لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ او بھائی تم جتنے ایماندار ہو اس کا ثبوت تو تم دے ہی رہے ہو۔ اپنی اوقا ت کے مطابق بے ایمانی کرکے۔ تمہارے اختیار میں اس سے زیادہ کی طاقت ہوتی تو تم وہ بھی کرتے۔ کوئی ٹیکس چوری کر رہا ہے تو کوئی ٹیکس چوری کروانے میں مدد کر رہا ہے۔ اب  ٹیکس چوری کروانے والے سے پوچھیں کے بھائی قومی خزانے کو کون نقصان پہنچا رہا ہے تو وہ کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکے گا اور سارا الزام حکومت پر لاد دے گا۔ حکومت تو واقعی لوٹ گھسوٹ کررہی ہے پر جو ٹیکس چوری کرنے میں مدد کے چکر میں تم نے اپنی چند روٹیاں کمانے کے لئے قومی خزانے کوٹیکا لگایا، وہ کس زمرے میں آئے گا ۔

جب آپ خود بے ایمان ہو ں، کرپٹ ہوں، دھوکے باز ہوں، بدزبان ہوں تو اپنے حکمرانوں کے بارے کیسے گمان کرتے ہیں کہ وہ فرشتے ہوں گے اور ان سب عیبوں سے پاک ہوں گے۔ جب کہ ہمارا دین صاف صاف بتا رہا ہے کہ انسان کے اعمال ہی اس کے حکمران ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارے اعمال ہوں گے ہمارے حصے میں ویسے ہی حکمران آئیں گے۔ جب تک ہم اپنے اعمال ، کردار اوراقدار کو ٹھیک نہیں کریں گے، ملک میں کسی بھی طرح کی حکومت آجائے کوئی بھی چہرہ تبدیل ہو کر حکومت کے تخت پر بیٹھ جائے، کوئی بھی واضع تبدیلی رونما نہیں ہو سکے گی۔

ہم اپنی ثقافت، اپنی اقدار اپنے تہذیب و تمدن سب بھول رہے ہیں اور نفس کی غلامی میں اپنے ایمان کا سودا تک کرنے لگے ہیں۔ اس میں میڈیا نے بھی بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ کوئی چینل دیکھیں۔ اس پر چلنے والے ڈرامے ہمارے معاشرے کی کونسی کلاس کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ لوگوں کو چکا چوند زندگیاں نظر آتی ہیں جس میں ایک شاہانہ لائف سٹائل دکھایا جاتا ہے، تو اسے حاصل کرنے کے چکر میں لوگ اپنی حدود کی پرواہ ہی نہیں کرتے۔ سوچ ایسی ہی رکھتے ہیں کہ ہم ایماندار ہوکر کیا کرلیں گے جب پورا معاشرہ ہی گمراہی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ وہ لائف سٹائل حاصل کرنے کی دوڑ میں اپنی ایمانداری وغیرہ کو گروی رکھ دیتے ہیں۔ ان ڈراموں میں رشتوں کے تقدس کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ اس سے ہماری زندگیوں کی چاشنی بھی مٹ رہی ہے۔   ہر ڈرامے میں بیوی اپنے شوہر کو ذلیل کرتی دکھائی جا تی ہے۔ حتی کہ ایک میں تو مارتی ہوئی بھی دکھائی ہے۔  ہم اپنی بہو بیٹیوں کوکیا تربیت دے رہے ہیں۔ یہ کونسے حقوق ہیں عورت کے، جن کا درس دیا جا رہا ہے۔  ہمارا مذہب تو کہتا ہے کہ شوہر کی تعظیم عورت پر فرض ہے۔ ہمارا معاشرہ بگاڑ کے اس موڑ پر آچکا ہے جہاں ہم عزت و تعظیم کے معنی ہی بھولتے جا رہے ہیں۔ لیکن ہم امید کر رہے ہیں کہ ملک میں اچانک تبدیلی آئے گی اور تمام لوگ باعزت زندگیاں گزارنے لگیں گے۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ا جب تک سب اپنا اپنا تزکیہ نفس نہ کریں اور اپنے اندر کی برائیاں ختم کرنے کا عہد نہ کریں، جب تک انفرادی تبدیلی نہیں آتی، اس وقت  تک قومی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ آپ نواز شریف صاحب کو ہٹائیں گے، عمران خان صاحب کو لے آئیں گے، بلاول بھٹو زرداری کو لے آئیں گے۔ لیکن جو  ہم نے معاشرے میںاپنے کرتوتوں سے کو خرابیاں پیدا کی ہیں، وہ تو ہم ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔ حکمرانوں کے بدل جانے سے ہم کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کرنا نہیں چھوڑ دیں گے، غیرمعیاری ادویات یا ڈرگز بنانا نہیں  چھوڑ سکیں  گے۔ یہ معاشرتی برائیاں تو ہمارے کردار کا حصہ ہیں۔   جب تک ہم تبدیل نہیں ہوں گے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔