پٹڑی سے اتری قوم
- تحریر سرور غزالی
- جمعرات 10 / نومبر / 2016
- 6176
پاکستان سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک ریل پٹڑی سے اتر گئی ہے۔ یہ خبر اس لیے حیران کن ہے کہ ریل پٹڑی پر تھی ہی کب جو اب اتر گئی ہے۔ ہمارے بچپن میں البتہ ریل پٹریوں پر ہی چلا کرتی تھی۔ اس وقت ریل کے انجن کا ڈرائیور اپنے صاحب کو وقت پر منزل پر پہنچانے کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری جانتا تھا۔ اور ریلوے کے وزیر سے لےکر اس محکمے سے منسلک ہر شخص ریل کے ذریعہ سفر کر نے کو ترجیح دیتا تھا۔ اس پر سفر کو فخر جانتا تھا۔ مگر وہی لوگ اب وی وی پی آئی ہوکر پی آئی اے پر بھی سفر کرنا گوارا نہیں کرتے اور کریں بھی تو اس لئے کہ پی آئی اے کونسا پٹڑیوں پر ہے۔ دیگر محکموں کی طرح پی آئی اے بھی پٹڑی سے اتری ہوئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پوری قوم ہی پٹڑی سے اتری ہوئی ہے۔
ویسے اگر دیکھا جائے تو بہ نسبت ایک طیارے کے، ہلتی ڈولتی ریل کے پٹڑی سے اترنے کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔ تو کیوں نہ ریل اور پی آئی اے کے مسائل بیک وقت حل کر نے کے لیے پی آئی اے کے طیاروں کو ریل کی پٹڑی پر ہی چلایا جائے۔ کم از کم پی آئی اے پٹڑی پہ تو آجائےگی۔ ارے میں نے ایسی کونسی انہونی تجویز پیش کر دی ہے جو آپ پریشان ہو رہے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ سعودی زمین پر سیارہ دوڑاتے ہیں تو ہم طیارہ کیوں نہیں ریل کی پٹڑی پر دوڑاسکتے ۔ اور ایک طیارہ ہی کیا ہمیں تو قوم کو واپس پٹری پر لانا ہے۔ چونکہ ریل کا پٹڑی سے اتر جانا، باوجود اس کے کہ یہ ایک افسوسناک بات ہے، کچھ اتنا زیادہ نقصان دہ نہیں جتنا نقصان قوم کے پٹڑی سے اتر جانے جا نے میں ہوا کرتا ہے۔ قوم کا ہر نیا لیڈر نئی پٹڑیاں بچھانے کی بات کرتا ہے اور نئی پٹڑیاں بچھانے میں ساری توانائیاں صرف کر کے تھک ہار جاتا ہے۔
پٹڑیوں پر چلنا دراصل پہلے سے طے شدہ بنے بنائے اصولوں پر چلنے کانام ہے۔ راستے طے ہوتے ہیں اور منزل متعین، راستے کہیں متصادم نہیں ہوتے۔ اور کراسنگ پر بھی الگ الگ سمت میں چلتے آگے بڑھتے رہنے کا تعین پہلے ہی سے ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہے کہ متعین کردہ راستے اور سمت میں چلنا ہماری افتاد طبع کے خلاف ہے۔ ٹرین ہو یا قوم پٹڑی سے اترے گی تو حادثہ تو ہوگا۔
ادھر کچھ دھرنے کی روایت چلی تھی لیکن پھردھرنے سے توہمارے سمیت بہت لوگوں کو بہت مایوسی ہوئی۔ کیا زور شور سے معرکہ آرائی ہورہی تھی، رن پڑا تھا، سب مشغولِ کار تھے کہ اچانک یہ اعلان ہوگیا کہ بھئی مقابلہ ختم۔ بے شمار لوگوں نے تو طنعہ بھی دینا شروع کر دیا کہ یہ کیا ہوا لطف تو آیا ہی نہیں۔ زرا گھمسان کی جنگ ہوتی تو مزہ بھی آتا۔ لیکن ایک دھرنا ہی تو اٹکا ہے ۔ ابھی بہت سارے مشاغل ہیں جن پر قوم کو لگا یا جاسکتا ہے۔
آج کل قوم کو ایک نیا شوق چڑھا ہے۔ وکی لیک، پانامہ لیک کے بعد ڈان لیک کا۔ وہ تو قسمت اچھی تھی یا پھر اس کے پاس تگڑی سی سفارش ہوگی جو ڈان کا نمائندہ بچ گیا۔ ورنہ تو جوکوئی پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے تو خود پولیس بھی نہیں بچا سکتی۔ اب اسی ڈان لیک کے سلسلے میں د و وزیر تو۔۔۔ اعظم ۔۔۔۔۔۔ بھئی یہ املا کی غلطی ہے میرا مطلب ہے دو وزیر تو عازم دوبئی ہو چکے ہیں اور کچھ تو پہلے ہی سے وہاں مقیم ہیں۔ تو پھر چند اور کو بھی اگر اس ڈان لیک کے انجام کے طور پر دوبئی آنا پڑا تو وہیں ایک سکریٹریٹ کرایہ پر نہ لینا پڑے ۔ آخر کو کرکٹ کو بھی تو عدم تحفظ کا سامنا تھا اور دوبئی منتقل ہو نا پڑا۔
حالانکہ ڈان لیک میں کون سی بات ڈھکی چھپی ہے جو لیک ہوتی۔ کھیت کھائے گدھا مارکھائے جولاہا، کی مانند ادھرادھر پکڑ دھکڑ کرکے دہشت گردوں کی پشت پناہی کا علم کس کو نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی خوب ہے روز روشن کی طرح عیاں بات لیک ہوگئی ہے اور حکومت کو عدم تحفظ کا خدشہ لاحق ہے۔ اب بھلا ایسی حکومت عوام کو کیا خاک تحفظ دے گی۔
بس اب اس سے پہلے کہ کسی کو شبہ ہونے لگے کہ ہم خود پٹڑی سے اتر رہے ہیں، بات ختم کرتا ہوں۔