دہلی کی فضائی آلودگی ، دوسرے شہروں کے لیے لمحہ فکر

گزشتہ کئی دنوں سے ہندوستان کا دارالحکومت دہلی اپنی خطرے کی حد کو چھوتی ہوئی فضائی آلودگی کے لیے دنیا بھر میں خبروں میں رہا ۔  تمام اقدامات کے باجود اس شہر میں فضائی آلودگی کا یہ عالم ہے کہ ریاستی حکومت کو دہلی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام چلنے والے 1700سے زیادہ اسکولوں کو تین دن کے لیے بند کرنا پڑا۔ پورے دہلی میں سرکاری و غیر سرکار ی جگہوں پر جنریٹرزچلانے پر 10دن کی پابندی لگا دی گئی۔  جبکہ دہلی میں  تعمیراتی کام بھی 5 دن کے لئے بند کرنے کا حکم دے دیاگیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے 2014 کے ایک سروے کے مطابق، دہلی فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا کا بدترین شہروں میں شامل  ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں ۔  شہر میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتوں کا دھؤاں، دہلی کے اطراف ریاستوں میں کھیتوں میں جلائی  جانے والی گھاس کا دھؤاں،  دیوالی کے موقع پرچلنے والے پٹاخوں کا دھؤاں اور دیگر عوامل شہری آلودگی کا باعث ہیں۔ فضا میں بڑھتی آلودگی پر شعور بیدار کرنے کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر اسکول کے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے ماسک لگا کر مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ دہلی میں ہونے والے گھریلوکرکٹ ٹورنامنٹ رنجی ٹرافی کے دو میچوں کو منسوخ کر دیا گیا۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میں بنگال اور گجرات کے درمیان اور کرنال سنگھ سٹیڈیم میں تریپورہ اور حیدرآباد کے درمیان ہونے والے میچوں میں پہلے دن کے کھیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کی شکایت ہے کہ آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ دہلی میں آلودگی کی خوفناک سطح پر مرکزی وزیر ماحولیات انیل دوے نے کہا کہ دہلی جیسے بڑے شہر میں ماحولیات کے حالات 365 دن خراب رہتے ہیں  لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر گذشتہ 10۔12دنوں میں حالات مزید بدتر ہو گئے ہیں۔

اب صورتحال اتنی خراب ہے کہ اس طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرروت ہے۔ در اصل یہ آلودگی پٹرول، ڈیزل، لکڑی، خشک پتے اور کوئلہ جلانے سے پیدا ہو رہی ہے۔ فضائی آلودگی پر نظر رکھنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس دیوالی کے موقعے پر آتش بازی کے سبب دہلی میں فضائی آلودگی کی شرح عام دنوں کے مقابلے میں 17 گنا تک بڑھ گئی تھی۔  دہلی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں عام دنوں میں بھی بہت زیادہ فضائی آلودگی رہتی ہے۔ فضائی آلودگی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ ہوا میں شامل خردبینی ذرّات کی مقدار (مائیکرو گرام) فی مکعب میٹر معلوم کی جائے۔ دہلی میں فضائی آلودگی کے 2.5 مائیکرومیٹر جسامت والے ذرّات کی قابلِ قبول شرح 60 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر جب کہ 10 مائیکرومیٹر تک جسامت والے ذرّات کی فضا میں زیادہ سے زیادہ قابلِ قبول مقدار 100 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے کیونکہ اس سے زیادہ مقدار سانس اور پھیپھڑوں کی کئی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ اور انہیں شدید تر بھی کرسکتی ہے۔ لیکن دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) نے شہر کے تین مختلف اور گنجان آباد علاقوں میں دیوالی کے موقعے پر فضائی آلودگی میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا جو قابلِ قبول حد سے 42 گنا زیادہ یعنی 1,680 مائیکرو میٹر فی مکعب میٹر معلوم ہوئی۔ یہ  قابلِ قبول حدود سے تقریباً 17 گنا زیادہ  ہے۔ اس کے باوجود  دہلی اور دوسرے شہروں میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔

دہلی میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گیے ہیں۔ چیف منسٹر دہلی  دہلی کی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے فکر مند ہیں۔ دہلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سال کے 365دن فضائی آلودگی برقرار رہتی ہے لیکن اب دیوالی کے ایک ہفتہ بعد بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے تو ہنگامی حالات کے تحت تین دن تک مدارس کو بند کیا گیا ہے۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات کے طور پر دہلی حکومت نے طاق اور جفت اعداد پر مبنی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو ایک دن کے وقفے سے چلانے کی اسکیم کا آغاز کیا ۔ اس اسکیم سے ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے اور آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ دہلی کی ٹریفک پولیس کے عملے کے ارکان کو ماسک فراہم کرے تاکہ دن بھر آلودگی کے درمیان خدمات انجام دینے والے ٹریفک پولیس ملازمین کی صحت کو بگڑنے سے روکا جاسکے۔ سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت دارالحکومت دہلی میں 2000سی سی سے ذائد کی پٹرول اور ڈیزل لکژری کاروں کے چلانے پر امتناع عائد کیا ہے۔ کیوں کہ جتنا بڑا انجن ہوگا اتنا ہی دھواں زیادہ نکلے گا۔ حکومت نہیں چاہتی کہ دولت مند طبقے کے شوق سے عوام کی صحت متاثر ہو۔عدالت نے دہلی میں داخل ہونے والی تمام بڑی اور تجارتی گاڑیوں کے داخلے پر گرین ٹیکس کو 100% بڑھا دیا ہے تاکہ غیر ضروری طور پر شہر میں گاڑیوں کے داخلے کو روکا جاسکے۔

حکومت نے 2005سے قبل کی رجسٹرڈ شدہ تجارتی گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے اور تمام ٹیکسی مالکان کو کہہ دیا ہے کہ وہ اگلے سال مارچ تک اپنے انجنوں کو پٹرول یا ڈیزل کے بجائے سی این جی سے تبدیل کرلیں۔ کیوں کہ گیس سے چلنے والی گاڑیاں کم دھواں چھوڑتی ہیں۔ پندرہ سال قدیم گاڑیوں کو بھی آہستہ آہستہ شہر سے ہٹایا جارہا ہے۔ دہلی میں سی این جی سے چلنے والی بسیں چلائی جارہی ہیں۔ نیشنل گرین ٹریبونیل نے اعلان کردیا ہے کہ تعمیراتی کاموں یا کسی اور مقام پر کچرے کو جلانے اور دھؤاں پیدا کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں۔ اسی ٹریبونیل نے حکم جاری کیا ہے کہ دہلی کی پڑوسی ریاستوں پنجاب ، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش میں کسانوں کی جانب سے فصلوں سے بچنے والی گھاس کوجلانے سے روکا جائے ۔ کیوں کہ اس طرح گھاس جلانے سے بھی دہلی کی فضائی آلودگی میں بے انتہا اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے بڑی صنعتوں کی جانب سے دھول اور دھؤاں چھوڑے جانے پر ان پر فی کس پچاس ہزار جرمانہ عائد کیا ہے۔ مختلف موبائل چیکنگ گاڑیوں کی جانب سے دھؤاں چھوڑنے والی گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا جارہا ہے۔

عوام میں آلودگی کو کم کرنے اور صاف ہوا کے لیے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے شعور بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ لیڈ والے پٹرول کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ کم سلفر کے ڈیزل کو 1997سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے بھی فضائی آلودگی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔ دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے عوامی تجاویز بھی سامنے آرہی ہیں۔ جیسے فٹ پاتھ کو چوڑا کرنا اور اسے سارے شہر میں عام کرنا تاکہ قریبی مقامات تک لوگ چل کر جاسکیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ دہلی کے اہم تجارتی علاقوں قرول باغ، لاجپت نگر، ہاؤز خاص، چاندنی چوک، ڈیفنس کالونی وغیرہ کو مکمل طور پر گاڑیوں اور کاروں سے پاک کیا جائے اور عوام کو صرف پیدل راستوں پر چلانے کی مہم شروع کی جائے۔ بمبئی کی طرح دہلی میں میٹرو ٹرینوں میں اِضافہ کیا جائے جو بجلی سے چلتی ہیں۔ ہر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر شہر میں میٹرو اسٹیشن بنایا جائے اور ان تک عوام کو پہنچانے کے لیے زیر زمین راستہ یا سڑک کے اوپر کے برج تعمیر کیے جائیں۔ عوام میں شعور بیدا ر کیا جائے کہ ذاتی گاڑیوں کے بجائے میٹرو کو آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جائے۔ اور ہر پانچ منٹ میں ایک ٹرین کی سہولت مہیا کرائی جائے۔ سی این جی یا بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں اور آٹو کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے فلنگ اسٹیشن بھی جگہ جگہ قائم کئے جائیں۔

شہر کے صنعتی زون کی از سر نو حد بندی کی جائے اور شہر سے پچاس کلو میٹر دور تک کسی صنعت کو برقرار نہ رکھا  جائے۔ فضائی آلودگی پھیلانے والے کارخانوں اور صنعتوں کو فوری طور پرشہر کے باہر منتقل کیا جائے اور ان صنعتوں میں کام کرنے والوں کو قریب میں مکانات،  اسکول ، دواخانے اور بازار فراہم کیے جائیں تاکہ لوگ اپنے گھر اور کام کے مقام کو سفر کرتے ہوئے آلودگی کا باعث نہ بنیں۔ شہری علاقوں میں ہوا کو صاف رکھنے والے اور خوشبو چھوڑنے والے پودے اور درخت بھاری مقدار میں لگائے جائیں۔ آج کل ایسی مشینیں آگئی ہیں کہ ایک جگہ پر پروان چڑھنے والے بڑے درخت کو بھی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح شہر میں پودے لگا کر ان کے بڑے ہونے کا انتظار کرنا ضروری نہیں ۔ مشین سے سیدھا تناور درخت لگا یا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی شجر کاری شہری علاقوں میں از حد ضروری ہے۔ لوگوں کو کم سے کم گاڑیاں رکھنے کی جانب راغب کیا جائے۔ لائسنس کے حصول کے لیے کڑی شرائط ہوں تو لوگ کم گاڑیاں خریدیں گے۔ ایک خاندان کے لیے ایک کار کی حد مقرر کی جائے اور بنکوں سے کہا جائے کہ وہ شہری آبادی کے اعتبار سے مرحلہ وار گاڑیوں کو لون دے اور لون کی شرائط سخت رکھیں۔

شہر میں زیادہ سے زیادہ پارکس بنائے جائیں اور ان کی بہتر طور پر نگہداشت کی جائے۔ تمام اپارٹمنٹس میں چھوٹے پودوں کو زیادہ سے زیادہ رکھنے کی عوام کو ترغیب دلائی جائے اور عوام سے کہا جائے کہ وہ اپنی آلودگی کے خود ذمہ دار ہیں۔ دیوالی کے موقع پر صرف چراغاں کیے جائیں اور کم سے کم پٹاخے چلائے جائیں۔ عوام میں اجتماعی شعور بیدار کیا جائے کہ وہ پٹاخے کم سے کم استعمال کریں۔ لوگ شجر کاری کرتے ہوئے اپنے حصے کی آکسیجن  کے لیے خود اقدامات کریں۔ اسکولوں میں طلبا کو پودوں کی نگہداشت کی ذمہ داری جائے اور احتیاط علاج سے بہتر ہے کہ مصداق آلودگی پیدا کرنے والے عوامل ترک کیے جائیں اور صاف ہوا پیدا کرنے والے حالات کو پروان چڑھا یا جائے ۔ شہری زندگی کے بجائے لوگوں کو اضلاع میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو لوگ کم تعداد میں شہروں کی جانب رخ کریں گے۔

فضائی آلودگی صرف دہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سارے ہندوستان کے بڑے شہروں کا مسئلہ ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ شہروں میں بڑھتی آبادی کو روکنا ، صنعتوں کو شہر کے باہر منتقل کرنا، سٹلائٹ ٹاؤن شپ کے قیام سے آبادی کو شہروں سے دور رکھنا،  کام کے مقامات پر ہی گھروں کو آباد کرنا ، گاڑیوں کا کم سے کم استعمال اور شہر کے باہر دیہی علاقوں اور جنگلات میں بڑے پیمارے پر شجر کاری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوم کو حفظان صحت کی ترغیب دینا اور بچوں کو آلودگی کے مسائل سے بچانا بھی ضروری ہے۔

انسان پہلے اپنے ہاتھ سے غلطیاں کرتا ہے فطرت میں دخل اندازی کرتا ہے اور جب فطرت جواب دیتی ہے تو وہ کف افسوس ملتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری اسکیموں میں آلودگی کو قابو پانے کے اقدامات کو جنگی بنیادوں پر فوقیت دی جائے اور آنے والی نسلوں کو صاف و ستھرا ماحول دینے کی کوشش کی جائے۔