مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل کیسے

  • تحریر
  • جمعرات 10 / نومبر / 2016
  • 5836

مقبوضہ کشمیر میں تین سینئر حریت رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ایک ملاقات میں گزشتہ چار ماہ سے جاری جدوجہد آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے  تحریک آزادی کے تمام فریقین ، تاجروں، ٹرانسپوٹرز ، سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ مشاورتی اجلاس کا فیصلہ کیا۔ اگلے روز مقبوضہ کشمیر کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں، سول سوسائٹی ، سیاسی رہنمائوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکا نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے حریت رہنماؤں کو اختیار دیا اور یقین دلایا کہ قیادت اس ضمن میں جو بھی پروگرام بنائے گی اور جو لائحہ عمل مرتب و متعین کرے گی سبھی لوگ اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ تاکہ تحریک آزادی کو منزل مقصود کے حصول تک جاری رکھا جاسکے۔ اجلاس میں مقررین اور نمائندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزادی کی تحریک کو شدو مد کے ساتھ جاری رکھنا سبھی کشمیریوں کا فریضہ ہے اور اس ضمن میں مشکلات کا سامنا  صبر و استقامت  سے کیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں شدید اور مسلسل  عوامی جدوجہد ور قربانیوں سے بھارت پر کشمیر کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا تھا کہ اس دوران اوڑی میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے اور19بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ سے بھارت نے توجہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے مطالبہ آزادی اور بھارتی مظالم سے ہٹا کر پاکستان بھارت کشیدگی کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لئے بھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری اور کشمیر کو جبری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین ( لائین آف کنڑول) سے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے اور پہلی مرتبہ بھارتی گولہ باری آزاد کشمیر کے کئی کلومیٹر اندر تک کے علاقے میں ہو رہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم ممالک میں خصوصی وفود بھی بھیجے گئے۔ تاہم مسئلہ کشمیر پر واضح اور مستقل پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کاز سے متعلق پاکستان کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کے اس بیان سے بھی پاکستان کی کشمیر پالیسی کے ناقص اور درست سمت میں نہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے کہ '' بھارت کشمیر میں ظلم اور بربریت کر رہا ہے، عالمی برادری نوٹس نہیں لے رہی۔ حکومت پاکستان کی کشمیر سمیت کوئی خارجہ پالیسی درست سمت میں نہیں ہے''۔ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق نمائشی تقریبات  ، کھوکھلے  بیانات تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن  غیر سنجیدگی کا یہ انداز کشمیریوں کے ساتھ اخلاص کے اظہار سے بھی قاصر ہے۔ پاکستانی میڈیا کی '' کشمیر گریز پالیسی'' بھی نمایاں طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ نجی ٹی وی چینلز پر کشمیر سے متعلق بے فائدہ اور بے مقصد گفتگو سے شاید پاکستان کے مختلف طبقات کی رائے تو سامنے آئی ہو لیکن پاکستانی میڈیا کشمیریوں کی رائے، امنگوں اور پاکستان کے کردار کو شاید جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔

سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے بلائے گئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کشمیری عوام کے ہر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں کو شامل کرنے کے حوالے سے اچھا قدم ہے۔ آزادی پسند رہنماؤں کی طرف سے کشمیر کاز کے حوالے سے مختلف شعبوں کے نمائندگان سے مسلسل رابطہ رکھنا درست ہے لیکن اس عمل میں حریت رہنماؤں کو ان کشمیری شخصیات کو نظر انداز نہیں کر چاہئے جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں پیش رفت کو یقینی بنانے کے حوالے سے موثر رہنمائی کر سکتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور بیرون دنیا کے ممالک میں مقیم کشمیری  تحریک آزادی کشمیر کے تین اہم جز ہیں اور تحریک آزادی کشمیر میں پیش رفت کے لئے کشمیریوں کے ان تینوں اجزا کے درمیان موثر رابطہ اور اشتراک عمل ناگزیر ہے۔ یہ کردار بھی مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما ہی ادا کر سکتے ہیں کہ وہ کشمیر کاز کے لئے پاکستان اور یورپ، امریکہ میں مقیم کشمیریوں کو مشترکہ حکمت عملی اور کوششوں میں مربوط کر نے کی ذمہ داری ادا کریں۔

یہ تلخ حقیقت بھی درپیش ہے کہ ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی مستقل اور واضح نہ ہونے کی وجہ سے کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں اور جدوجہد کے باوجود ، فیصلہ کن اور موثر ترین طریقہ کار اختیار نہیں کر پاتی۔ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے گہرے تعلق میں قائد اعظم محمد علی جناح کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جب انڈین کانگریس نے شیخ عبداللہ کو زیر دام لاتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو مطالبہ پاکستان کے خلاف اپنا  گڑھ بنانے کی کوشش کی تو قائد اعظم قیام پاکستان کی جدوجہد کے کٹھن ترین دور میں بھی کشمیر کے اکثریتی مسلمانوں، کشمیری عوام کو اپنی رہنمائی فراہم کی اور کشمیریوں کے اہم امور و مسائل پر برٹش حکومت سے بھی مطالبات کئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی پر اعتماد اور پرفخر قیادت نے کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنایا۔ جنگ کشمیر کے خاتمہ پر قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات پاکستان کی طرح کشمیریوں کے لئے بھی ایک المیہ ثابت ہوئی۔ جنگ کشمیر کے خاتمے اور قائد اعظم کی رحلت کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھارت سے جنگ نہ کرنے کی بات کرنے کے باجود کشمیر کاز سے متعلق ایسے شاندار عزم و ارادے کااظہار کیا۔ لیکن عالمی سازش کے نتیجے میں  لیاقت علی خان کو قتل کرا دیا گیا۔ اس کے بعد پاکستا ن کے ساتھ کشمیر کے تمام امور فوج کی نگرانی میں آگئے۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں قربانیوں کے مطابق پیش رفت نہ ہونے میں سیاسی کردار کی کمزوری کی وجہ سے اب اس بات کی اشد ضرورت  محسوس کی جا رہی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر سے متعلق سیاسی امور پر پاکستان  سیاسی ذرائع سے تعلقات رکھے۔ کشمیر کی جدوجہدآزادی میںغیر سیاسی ذرائع سے  ڈیل  کرنے سے کشمیر کاز اورمسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں پیش رفت کو دشوار تر بنا رکھا ہے۔