حضور اکرم ﷺ کی ہجرت مقدسہ

ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ 12 ربیع الاول بروز 2 شنبہ (سوموار ) مطابق اپریل570 میں مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کے بطن مبارک سے یتیمی کے عالم میں ظہور پزیر ہوئے ۔ 12 ربیع الاول بروز سوموار 11 ہجری 63 برس عمر مبارک پا کر مدینہ منورہ میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔ عمر مبارک کے 53 سال مکہ مکرمہ میں گذارے جن میں 40 سال اعلان نبوت سے پہلے کا زمانہ ہے اور 13 سال بعد از اعلان نبوت کا دور ہے ۔

اس 13 سالہ زندگی میں ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے شب و روز اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ  کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ۔ خدا کا پاک کلام قراٰن کریم جو مسلسل نازل ہو رہا تھا اس کی تعلیمات سے روشناس کرایا ۔ مگر گردو پیش کے لوگ جو کہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، ان میں سے چند خوش نصیب لوگوں کے سوا اکثریت نے توجہ نہ دی بلکہ دشمنی و مخالفت پر اتر آ ئے۔ خاندان بنو ہا شم سے بھی وفا نہ ملی اور خاندان بنو امیہ سے اور دیگر خاندانوں اور قبائل کے لوگوں سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اصحابؓ رسول پاکﷺ کو انتہائی کرب ناک تکالیف کا بھی سامنا کرنا پڑا جو کہ ایک طویل کہانی ہے ۔ انہی حالات میں 13 سال گزرے اور جتنی محنت ہوئی اتنے ثمرات حاصل نہ ہوئے۔ مگر اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تبارک و تعالی نے مدینہ طیبہ کے لوگوں کی ملاقات حج کے موقع پر منی میں عقبہ کے مقام پر حضور اکرمﷺ سے کرا دی۔ آپﷺ نے ان کو دعوت ایمان دی اور انہوں نے قبول فرمائی اور خدا کے فضل وکرم سے پھر عقبہ میں دوسری اور تیسری بیعت بھی ہوئی۔

اللہ تبارک و تعالی نے مدینہ طیبہ کو اسلام کی روشنی سے منور کر دیا  اور اہل مدینہ نے با ضابطہ طور پر انتہائی عجز و نیاز کے سا تھ اور بے حد اصرار سے اپنے محبوب ﷺ کو مدینہ طیبہ میں تشریف   لانے کی پر خلوص دعوت دی جس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں اس با رے میں اللہ تبارک و تعالی کے حکم کا انتظار کروں گا ۔ اس دوران حضور اکرم ﷺ نے بااذن خداوندی اپنے پیارے صحابہ کرام کو فردا فردا مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ بہت سی جماعتیں مدینہ طیبہ تشریف لے گئیں۔ سب سے پہلے حضرت ابو سلمی، حضرت صہیب اور حضرت ہشام بن عاص نے  ہجرت کی۔ پھر فاروق اعظمؓ نے شان و شوکت اور وجاہت کے سا تھ سفر ہجرت فرمایا ۔ ادھرجب کفار نے اسلام کو مٹانے اور حضور اکرم ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تو اللہ تعالی نے اسلام کی فتح و نصرت کی خاطر کفار کو نافرمانی کی پاداش میں سزا دینے کے لیے آپﷺ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرما دی ۔  ایک روز کفار کے نمائندے دارالندوہ میں جمع ہوئے اور اسلام پر آخری ضرب لگانے کا مشورہ ہوا۔ اور تمام قبائل کے نمائندگا ن نے مل کر طے کیا کہ حضور اکرم ﷺ کے گھر پر حملہ کر دیا جائے اور آپ ﷺکو شہید کر دیاجائے ۔ کفار کے اس مشورہ کی اطلاع اسی وقت اللہ تبارک و تعالی نے بذریعہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ کوفرمادی۔ اور ہجرت کا حکم بھی دیا۔ ہجرت کا راستہ اور منزل بھی متعین فرما دی ۔

طے شدہ پروگرام و مشورہ کے مطابق قریش نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور آپ کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے کیونکہ عرب کسی کے زنانہ مکان میں گھسنا معیوب سمجھتے تھے۔ اس لیے باہر ٹھہرے رہے۔ قریش کو باوجود عداوت کے آپ کی دیانت پر بہت اعتماد تھا اپنی امانتیں حضرت کے پاس ہی رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علیؓ کو لٹایا تاکہ آپ کے بعد لوگوں کی امانتیں احتیاط سے مالکوں کو حوالہ کریں اور حضرت علیؓ کو تسلی دی کہ کافر تمہارا بال بیکا نہ کر سکیں گے۔ پھر خود بنفس نفیس سورہ یسین کی ابتدائی آیتیں پڑھتے ہوئے اور ان کی آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے صاف نکل گئے۔ اللہ تعالی نے ان پر نیند کا غلبہ کر دیا تھا ۔ اپنے دولت کدہ سے سیدھے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی رہائش گاہ پر پہنچے اور مختصر حال احوال کے بعد دونوں محبوب ہستیاں غار ثور کی طرف روانہ ہو گئیں۔ غار ثور پر پہنچ کر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اندر داخل ہوئے۔ غار کی صفائی کی۔ اپنے کندھے کی چادر کو پھاڑ کر تمام سوراخ بند کیے۔ ایک سوراخ جو باقی بچا اس پر ایڑھی رکھ لی اور محبوب رب العلمین کو جلوہ فگن ہونے کے لیے اندر بلایا۔ آپﷺ اندر تشریف لے گئے صدیق اکبرؓ نے اپنی ران کو بطور تکیہ پیش فرمایا حضور اکرم ﷺ بہت تھکے ہوئے تھے۔ اسی وقت نیند آ گئی۔ اس دوران ایک کالے ناگ نے نکلنے کی کو شش کی رکاوٹ پا کر صدیق اکبرؓ کی ایڑھی پر ڈنگ مارا جس پر صدیق اکبرؓ کے تکلیف کی وجہ سے آنسو نکلے۔ چہرہ پر نور پر گرے تو سرکار دو عالمﷺ بیدار ہوئے۔ حالات سن کر ایڑھی پر لب مبارک لگایا۔ دکھ درد دور ہو گیا۔

تین دن تک غار ثور میں قیام رہا روزانہ رات کو سیدنا صدیق اکبرؓ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا تازہ کھانا پکا کر اپنے بھائی عبداللہ کو سا تھ لے کر غار میں پہنچاتی تھیں۔ عامر بن فہیرہ غلام اردگرد بکریاں چراتے اور موقع پا کر دودھ پلاجایا کرتے تھے۔ پہلے دن ابو جہل ایک کھوجی کے ساتھ کفار کی ایک جماعت لے کر غارکے منہ پر پہنچ گیا۔ مگر ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جالا بن دیا تھا۔  ایک کبوتری  نے ایک طرف انڈے دے رکھے تھے۔ انہیں دیکھ کر اللہ تعالی نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا ۔ اور وہ نامراد واپس لوٹ گیا۔ تین دن غارثور میں قیام کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوئی۔ کفار جنہوں نے چاروں طرف اپنے آدمی سرکار دو عالم ﷺ کی تلاش میں بھیج رکھے تھے ان میں سے ایک پہلوان سراقہ کا سامنا ہو گیا۔ اسے آپ سے شرف کلامی ہوئی۔ آپ نے اسے کسری کے کنگن پہننے کی بشارت دی اور آ گے روانہ ہو گئے۔ پھرمدینہ طیبہ کے قریب بریدہ اسلمی ستر آدمیوں کو لے کر اسی ارادے سے ایک جگہ پر ملا۔ اللہ تعالی نے اسے بھی ہدایت کے نور سے نواز دیا اور اس نے اپنی پگڑی کو ایک لکڑی پر لپیٹ کر جھنڈا بنا کر آپ کے سامنے چلنا شروع کر دیا۔ 8 دن کے سفر کے بعد بستی قبا میں ورود مسعود ہوا۔ قبا کی بستی کے باہربستی والوں نے فقید المثال استقبال کیا اور خوشی خوشی بستی میں لے گئے۔ حضرت امر بن عوف کے خاندان کے سردار کلثوم بن ہدم کے گھر کوانوارات نبوت سے منور فرمایا۔  وہیں بقیہ ایام مقیم رہے۔ وہاں 14 روز قیام رہا اور ایک مسجد جو کہ آ ج مسجد قبا کے نام سے زیارت گاہ خواص و عام ہے، جہاں دو رکعت نماز کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ملتا ہے۔ اس کی بنیاد رکھی۔ 14 روز کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوئی۔

قبا سے مدینہ پاک تین کلومیٹر ہے۔ سڑک کے دونوں طرف عشاق موجود تھے چھوٹی بچیاں دف بجا بجا کر استقبالیہ نغمے عربی زبان میں پیش کر رہی تھیں ۔ راستے میں بنی سالم کا با غ آیا جہاں جمعہ کا وقت شروع ہو گیا، وہیں نماز جمعہ ادا فرمائی۔ وہاں پر اس وقت مسجد جمعہ موجود ہے ۔ وہاں سے مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوئی۔ مدینہ میں چھتوں پر خواتین بچے نظارہ کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ آپ ﷺ کی ناقہ مبارکہ کی مہار گلے سے لپیٹ دی گئی اور اسے اللہ تبارک و تعالی کے حوالے کر دیا گیا۔ ناقہ مبارکہ نے پورے شہر کا چکر لگایا اور بالاخر وہ اس عظیم ہستی، جنہیں میزبان رسول پاک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ان کے مکان پر جا ٹھہری۔ سرکار دو عالم ﷺ نے وہیں چند روز قیام فرمایا۔ مدینہ طیبہ کی آب و ہوا کے خوشگوار کے ہونے کی اور ناپ تول میں برکت کی دعائیں فرما تے رہے۔

اس دوران سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اور بہت سے دوسرے اصحاب بھی مدینہ طیبہ ہجرت کرکے تشریف لے آئے اور چند روز بعد مسجد نبوی کی تعمیر شروع فرمائی۔  تعمیر مسجد کے بعد ایک طرف کونے میں ایک دینی مدرسہ  قائم کیا جس کا نام مدرسہ صفہ مشہور ہوا۔ اس کے بعد امہات المومنین کے لیے حجرات تعمیر کرائے گئے۔ باقاعدہ و باضابطہ طور پر مدینہ طیبہ کو ایک فلاحی ریاست قرار دے کر پہلی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ پھربقیہ دس سالہ زندگی مدینہ طیبہ میں گزاری۔

یہ سفر ہجرت کی انتہائی اختصار کے سا تھ کہانی ہے۔ یہ بہت بڑا خیرو برکت کا سفر تھا۔ اہل علم حضور اکرم ﷺ کی 53 سالہ زندگی مبارک جو مکۃ المکرمہ میں گزری اور 13 سالہ آ خری ایام جو اعلان نبوت کے بعد بیتے اس دور کی پریشانیوں آزمائشوں اور دکھ بھری سچی کہانیوں سے بخوبی واقف ہیں ۔ اس دور میں جو ہوا، جو دکھ برداشت کیے، ذہنی جسمانی جن جن تکالیف کا سامنا فرمایا وہ اظہر من الشمس ہے ۔ جسے لکھنے اور دہرانے کی کم از کم میرے جیسے الحمد اللہ محب رسول پاک ﷺ انسان کے  بس کی بات نہیں ہے ۔ ہجرت کی رات وہ رات ہے جب غم کے بادل چھٹ گئے ہجرت کے نتیجے میں مدینہ طیبہ کی ریاست معرض وجود میں آئی ۔ ہجرت کی وجہ سے جہادکا حکم نازل ہوا اور جہاد کے حکم کے بعد 110 اسلامی جنگیں جن میں 27 غزوات ہیں (جن میں بنفس نفیس حضور اکرم نور مجسم ﷺ کی شرکت ہوئی) اور 83 سرایا ہیں۔ جن میں حضور اکرم ﷺ کے جانثار صحابہ کرام شریک ہوئے جنہیں بدست مبارک رسول اکرم ﷺ نے روانہ فرمایا ۔

یہی وہ ہجرت ہے جس نے فتوحات کے دروازے کھولے اور قیصر وکسری کے تخت الٹ دیے گئے۔ یہی وہ ہجرت ہے جس کے نتیجے میں بے شمار حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ہجرت کے وقت جو مسلمانوں کی تعداد تھی وہ دیکھیں اور رحلت طیبہ کے وقت جو تعداد ہو چکی تھی وہ دیکھ لیں، خود بخود ہجرت کی برکات سمجھ آ جائیں گی ۔ اسی رات کی اہمیت کے پیش نظر امام عدل و حریت امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسلامی سنہ کا آغاز ہجرت کی رات سے شروع فرمایا تھا ۔ حضور اکرم ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی۔ آپ ستائیس صفر  بروز جمعرات مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے اور تین روز غار ثور کو نور علی نور فرمایا۔ یکم ربیع الاول بروز ہفتہ غار ثور سے روانہ ہوئے اور آٹھ ربیع الاول بروزسوموار دوپہر کے وقت بستی قبا میں ورود مسعود فرمایا ۔ 14 روز وہاں قیام ہے اور پھر مدینہ طیبہ میں جلوہ افروزہوئے۔ اس طرح سے سفر ہجرت کی مقدس کہانی27 روزمیں مکمل ہوئی ۔

اللہ تبارک و تعالی سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں اپنے پیارے پیغمبر ﷺ سے سچی محبت اور اسوہ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔