نو آبادیاتی ریاست کا زوال اور نیا پاکستان

ہم اکثراپنی گفتگومیں پرانے دنوں کے پاکستان کویاد کرتے ہیں۔ جب ٹریفک کا نظام قانون کی پاسداری کے مطابق چلتا تھا۔ گاڑی، تانگہ حتیٰ کہ سائیکل بھی بتی کے بغیرسڑک پرنہیں آسکتے تھے۔ عدالتوں میں انصاف کاعمل تیزاورشفاف ہوتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے گتھم گتھا اور ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے نظرنہیں آتے تھے۔ ریاست، حکومت اورسماج میں ٹھہراؤ اوراحترامِ آدمیت تھا، قانون کاخوف اوراحترام، ریاستی ادارے بہت شان دارطریقے سے چلتے تھے۔

آخریہ سب کچھ کیوں تھا اوریہ سب کچھ کیوں نہ رہا، ریاست کیوں بکھرتی نظرآرہی ہے۔ اُس وقت ریاست اورسماج زیادہ منظم تھے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم جس پاکستان کویاد کرتے ہیں، وہ آج سے بیس تیس سال پہلے تک نظرآتاہے، اس کے بعد ہرطرف کھلبلی ہی ہے۔ میں نے بھی ایساپاکستان دیکھاہے جب ریلوے کا نظام شان دارہی نہیں، لاجواب اورمنظم تھا۔ سڑکوں پرمنظم ٹریفک اورگلی محلے زیادہ صاف اورلوگ زیادہ اطمینان میں تھے۔ اس پاکستان کی حقیقت یہ ہے 1947 تک برطانوی نوآبادیت کے تحت اس ریاست کا ڈھانچا قائم تھا اورآہستہ آہستہ یہ ریاست اپنی مدت پوری کرتی چلی گئی۔ شروع کے دس بیس سالوں میں نئی ریاست کے وارث لوگوں نے اس کالونیل نظام کے اندراپنا کردارادا کیا تو پی آئی اے، پاکستان ٹیلی ویژن، واپڈا، اورمتعدد ادارے بھی قائم ہوئے۔اسی کے نتیجے میں ایک جدید شہراسلام آباد بھی معرضِ وجود میں آیا۔ اسی دَور کے انسانوں میں بڑے بڑے شاعر، مفکر، ادیب، اداکار، گلوکار، مذہبی علما، سیاست دان، استاد، ماہرتعلیم، صحافی، سائنس دان، طلبا رہنما اورتخلیق کاروں نے جنم لیا۔ وہ ریاست جوہمیں 1947 میں ورثے میں ملی ہم نے اس کوآزادی کے بعد چند سالوں میں کافی بہترطریقے سے چلانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔ اس میں حصہ بھی ڈالامگروہ نظام جب مرتے گرتے اپنی مدت پوری کرنے لگا اوروہ نسل جواس نظام میں اپناکردارادا کررہی تھی، وہ بھی مٹنے لگی تووہ پاکستان بھی معدوم ہوگیا جس کوہم یاد کرتے ہیں۔

میں جس سیاسی فلسفے سے تعلق رکھتاہوں، وہ سراسرسامراجی، نوآبادیت اورغیرملکی تسلط کے خلاف ہے۔ یہ فلسفہ میرا سیاسی ایمان ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ خوب صورت پاکستان درحقیقت نوآبادیاتی دورکے آخری ماہ وسال تھے جوہمیں برطانوی نظام کے تحت ملے۔ جب اس نظام کی مدت پوری ہوئی تووہ پاکستان ابھرا جوآج ہمارے سامنے ہے۔ بکھری ریاست، غیرمنظم سماج، تنزلی، زندگی کے ہرشعبے میں تنزلی۔ ہم میں اتنی اہلیت ہی نہ رہی کہ ہم نوآبادیاتی دورکے دئیے گئے اداروں کومزید منظم اورجدید بنا کرترقی کرتے بلکہ ہرادارے کوزوال کا نشانہ بنتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ زوال اس نظام، ریاست اورسماج کاہے۔ ہمارے اہل علم وعقل وہنرمند لوگ لاکھوں کی تعداد میں جدید دنیا میں جاکرآباد ہونا شروع ہوگئے۔ یعنی اُن کواپناکرداراداکرنے میں ناکامی کا سامنا تھا۔ ہم نے اپنے آپ کوآبادی کے حوالے سے دنیاکی چھٹی بڑی قوم تصورکرلیا۔ درحقیقت یہ آبادی کا سیلاب ہے۔ قومیں آبادی سے نہیں، علم ، شعوروتخلیق، ہنراورمعیشت سے بڑی قراردی جاتی ہیں۔ ذرادیکھیں اپنے آپ کوہمارے ہاں ہرپرائیویٹ ادارہ انٹرنیشنل کے لفظ سے شروع ہوتاہے، حتیٰ کہ کانفرنسوں کانام بھی انٹرنیشنل کے لفظ سے، مگر حقیقت کیاہے ، ذرااپنا گریبان جھانکیں اورانٹرنیشنل (عالمی) دنیا میں اپنامقام دیکھیں۔

پہلی دوتین دہائیوں کے بعد جس پاکستان نے اپنا آپ دکھلایا، اس پاکستان کی حتمی بنیاد جنرل ضیا کی فوجی آمریت نے رکھی۔ یوں اس پاکستان کا بانی جنرل ضیا ہے، جواب ہرطرف نظرآتاہے۔ لاطینی امریکہ کا ادیب گبریل گارسیا مارکیزکہتا ہے، جس ریاست میں فوجی آمریتیں اپنا آمرانہ نظام مسلط کردیتی ہیں وہاں کاسماج، انسان اور ہرسطح پرآپ کوآمرانہ نظام نظرآنے لگتاہے۔ جنرل ضیا کا پاکستان اس پاکستان کونظروں سے اوجھل کرکے کھڑاکیا گیا، جس کوہم یاد کرتے ہیں۔ اب متعدد سیاسی جماعتوں کادعویٰ ہے کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گی، لیکن اپنے ناقص تجربے، مشاہدے اورمطالعے سے وہ اس پاکستان کی تعمیر کے اہل ہی نہیں جس کے وہ دعوے کررہے ہیں۔ اوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھرکی قومیں سیاسی جماعتوں اورسیاسی رہبروں کے ذریعے ہی اپنا مستقبل بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی ادارہ نہیں جس نے کسی قوم کامقدر بدل ڈالاہو۔

سیاست اورسیاسی جماعتیں ہی قوموں کی تعمیروترقی کا ہتھیار Instrument  ہوتی ہیں۔ عدلیہ، فوج اور دیگرادارے قوموں کے مستقبل کی رہنمائی نہیں کرسکتے۔ سیاسی قیادت اورسیاسی جماعتیں ، علم وفکرکے لیے دانشوروں کی مرہون منت ہوتی ہیں اورافسوس ہمارا دانشور Intelligentia سب سے زیادہ زوال یافتہ ہے۔ جدید علوم نے نابلد، صدیوں پرانے اوراق میں الجھے۔ ہمارے دانشورطبقے کا عالمی تصور  World View تو دورکی بات ہے، ا علاقائی تصور Regional View بھی مغالطوں، مفروضوں، جھوٹ اورخواہشات میں الجھا ہواہے۔ اس لیے کہ ہم جس زبان (اردو) سے اپنے علم کوجِلا بخشتے ہیں، اس کے اندرجدیدسوشل سائنسز اور سائنسی علوم منتقل ہی نہیں ہوئے۔ اردوخوب صورت زبان ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کتنے علوم ہیں جن کواپنی قومی زبان میں ڈھالا گیا۔ حتیٰ کہ عالمی ادب کی رتی بھراس میں جھلک نظرآتی ہے۔ زبانیں علم سے ترقی کرتی ہیں۔ افسوس سے ضبط تحریرکررہا ہوں، ہمارے وہ اردوادیب جودوسری زبانوں انگریزی، فرانسیسی یاکسی اورجدید دنیا کی زبان پرعبوررکھتے ہیں، وہی اردوادب میں گراں قدرادب تخلیق کرپائے، چوں کہ اُن کی رسائی عالمی ادب تک براہِ راست تھی۔ انہوں نے دنیاکی دوسری زبانوں میں پڑھا اورلکھا اپنی زبان میں۔

جب میں کسی اردوادیب سے مکالمہ کرتاہوں، مجھے اس کے ’’مطالعاتی ادراک‘‘ کاپورا احساس ہوتاہے۔ ایسے ادیبیوں کو دیکھ سن کردکھ ہوتا ہے۔ اُن کے ناموں کے ساتھ ڈاکٹربھی ہے۔ اسی طرح انٹرنیشنل افئیرزمیں بھی وہی قابل رشک ہیں جودوسری عالمی زبانوں میں مطالعہ کرتے ہیں اوریوں اگربھرپورتجزیہ کیاجائے تورازکھلتا ہے کہ ہمارا دانشورطبقہ علم کی کس معراج پرکھڑا ہے۔ ہم جن سائنس دانوں، سیاست دانوں، ادیبوں، مفکروں (بشمول علامہ اقبالؒ ) پر فخر کرتے ہیں، زیادہ ترجنہوں نے اس خطے اوربعد میں پاکستان میں اپنا کردارادا کیا، ان کا علم، عالمی سرچشموں سے فیض یاب ہوا تھا۔ لہٰذا نیا پاکستان تب ہی ممکن ہے اگرہم اپنے تعلیمی نظام کو ڈھا کر زمینی حوالوں کے ساتھ جدید بنائیں۔ ہماراتعلیمی نظام مختلف طبقات کوجنم دے رہاہے۔ ایک وہ جوحکمرانی کرتے ہیں دوسرے جوملک سے باہرجاکراپنے علم سے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں۔ اُن کا پاکستان کے اندرصرف اتنا کردارہے کہ وہ چند ڈالرز یہاں بھیجتے ہیں۔ اُن کے علم سے ٖفیض یاب وہ جدید ریاستیں ہی ہوتی ہیں جہاں وہ آباد ہوئے ہیں۔ تیسراطبقہ وہ تعلیم یافتہ مڈل کلاس ہے جوپاکستان کے حکمران طبقات کی ملازم ہے۔

یوں سماج اور ریاست، حکمران، ملازم اورمحکوم میں تقسیم ہوچکی ہے۔ محکوم طبقات پیداوارکرتے ہیں، مڈل کلاس طبقات حکمران طبقات کی نگہبانی اورآبادی کا بڑاحصہ غلامی۔ ایک ایسی ریاست جس کا نظام توبکھرا ہے لیکن پیداوار خوب ہے۔ اسی لیے توحکمران طبقات اربوں ڈالرزکماکربیرونِ ملک منتقل کردیتے ہیں۔ ایک شان دارپیداواری طبقات جوغلامی کے گنجلک رواستوں میں الجھا دئیے گئے۔اُن پرمڈل کلاس اوراس پرحکمران طبقات ۔ اگراس نظام کوبدلنا ہے توسب سے پہلے تعلیمی نظام کوڈھانا ہوگا۔ نئے عوامی پاکستان کاہراول دستہ وہ طبقات ہی ہوں گے جوجدید تعلیمی نظام کے بطن سے جنم لیں گے۔
جمہوریت Democracy ایک طرزِزندگی ہے، اسے تعلیم اورسماج تک لاگو ہونا چاہیے۔ ووٹوں ، انتخابات اور پارلیمنٹ کے قیام اورحکومت بنانے تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔  یعنی سوسائٹی اورسٹیٹ کی مکملDemocratization۔