یورپ میں ٹرمپ کی کامیابی پر کون خوش ہے

امریکی صدارتی انتخاب  میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن جمہوریت کی اس کامیابی  پر امریکہ میں اور دنیا کے دیگر ممالک میں تحفظات کا اظہار بھی سامنے آئے ہیں۔   ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے نہ صرف امریکہ کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا  ہےبلکہ اس تقسیم کا اثر یورپ پر بھی پڑا ہے۔ یورپ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہا پسندانہ نظریات اور  مسلمانوں کے خلاف اقدامات  کی حمایت کرنے والے یورپی رہنما بڑی گرمجوشی سے انہیں مبارکباد کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

یہ عناصر ٹرمپ کی کامیابی پر جشن منا رہے ہیں ۔ ایسا کرنے والے یورپی رہنماؤں میں فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست مسلمان مخالف  پارٹی کی رہنما مارینے لی پن، ہالینڈ کے متنازعہ سیاستدان گیرٹ ولڈرز کے علاوہ  یونان، آسٹریا اور ہنگری کی دائیں بازو کی شدت پسند اور تارکین وطن دشمن سیاسی پارٹیوں کے رہنما ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دے چکے ہیں ۔ 

ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے ’’ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘‘ کے مترادف اپنے تحفظات کے ساتھ ٹرمپ کی کامیابی پر محتاط الفاظ میں اظہار خیال کیا ہے۔ تاہم انتہا پسند  رویہ رکھنے والی دائیں بازو کی ڈینش پیپلز پارٹی سمیت ایک دو دوسری پارٹیاں بغلیں بجا رہی ہیں۔ ٹرمپ کو عصر حاضر کا ایک عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے ان کی کامیابی کو امریکی خوش قسمتی سے تعبیر کر رہی ہیں ۔ کیوں؟ وہ اِس لیے کہ یہ سبھی یورپی پارٹیاں اپنے اپنے ملک میں غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف وہی نظریات رکھتی ہیں جن کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ  میں میکسیکو اور دوسرے ملکوں کے تارکین وطن کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔  یہی وہ قدر مشترک ہے جو اِن یورپی رہنماؤں کو ٹرمپ کے قریب لاتی ہے کہ مسلمانوں کو  ہر طرح سے ’’ کونے میں لگا دیا جائے ‘‘ اور ان پر اپنے اپنے ملک کے دروازے بند کر دیے جائیں ۔

تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ  امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ  اور ان کی حمایت کرنے والے انتہا پسند  یورپی رہنماؤں کے نظریات 1930 کی اسی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے یورپی مداح  خواہ کچھ بھی کہیں کہ عالمی اشتراک و تعاون کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے کسی ایک ملک مثلاً امریکہ ہی کو کردار ادا کرنا ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ اب عالمی اشتراک  و تعاون اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ اجتماعیت کی ضرورت ہے۔  ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو چکے ہیں اور جنوری میں وہ اپنا عہدہ بھی سنبھال لیں گے۔ وہ بھی دنیا کو  اس طرح نہیں چلا پائیں گے جس کا اظہار وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مخصوص طبقات کے خلاف نفرت پھیلا کر کرتے رہے ہیں ۔

کامیابی اور صدر براک اوباما کے ساتھ ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ  ’’خوش کن ‘‘ خیالات کا اظہار کیا ہے لیکن ان کی کامیابی پر پائی جانے والی تشویش کو چھپایا نہیں جا سکتا ۔  یورپ کو ٹرمپ کی  خارجہ و دفاعی پالیسیوں پر تشویش ہے۔  یورپ کے سامنے یہ سوال ہے کہ امریکہ  کی جانب سے یورپ کے دفاع کے لیے بنائے گئے ’’ ٹرانس اٹلانٹک الائنس‘‘ (نیٹو) کا کیا بنے گا؟  ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران  نیٹو  کو برقرار رکھنے  کی ضرورت پر سوالیہ نشان لگایا تھا ۔  انہوں نے جو کچھ کہا اگر اسے محض انتخابی پروپیگنڈا بھی سمجھ لیا جائے تو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں اپنے اِن بیانات سے پیچھے ہٹنا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لحاظ سے بھی کہ وہ روس کی دوستی کو عزیز رکھتے ہیں ۔  اس کا اظہار وہ معتدد بار کر چکے ہیں ۔ یورپی رہنما اسے بہت سنجیدہ معاملہ سمجھتے ہیں ۔

ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار زور دیتے رہے ہیں کہ وہ امریکی مفادات کو ہر قیمت پر اولیت دیں گے۔ وہ اُن امریکی اقدار و  رویوں کا دفاع کریں گے جن پر کوئی بھی امریکی صدر اب تک عمل نہیں کرسکا۔  انہوں نے ایک طرٖف مسلمان ملکوں ، خاص کر ایران کو نشانہ بنایا تو دوسری جانب آمرانہ حکومتوں مثلاً روسی صدر پوتن اور ان کی حکومت کے ساتھ دوستی و ہمدردی کا برملا اظہار کیا ۔ خود روس کے صدر نے بھی انہیں  صدارتی انتخابات میں کامیابی پر دلی مبارکباد دی ہے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ ٹرمپ نے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد جو بیان دیا ہے اُس میں تعاون اشتراک کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے امریکہ کے دوستوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ وہ اُن تمام سے تعاون اور اشتراک  کریں گے جو  ’’ ہمارے ساتھ چلیں گے ‘‘ ۔ کیا یہ بیان ایک نئے ورلڈ آرڈر کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا اظہار ہے؟ فی الحال اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ٹرمپ نے ایک اشارہ دیا ہے جسے بیجنگ، برسلز اور اُ ن دارالحکومتوں میں شدت سے محسوس کیا گیا ہے  جو  ٹرمپ کے نظریات پر تحفظات رکھتے ہیں یا خوش نہیں ہیں ۔ روس کی پوزیشن مختلف ہے ۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ  بار بار کہتے رہے ہیں کہ   نیٹو کو امریکی مدد کی تبھی توقع رکھنی چاہیئے جب وہ خود نیٹو کے اخراجات میں برابر کا  حصہ ڈالیں گے ۔ اس سے نیٹو کے رکن ممالک میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس سے اُس اصول کو خطرہ لاحق ہے جس کے تحت نیٹو کے رکن ممالک اپنے میں سے کسی ایک کے خلاف حملے کو سب پر حملہ مانتے چلے آئے ہیں۔  اسی وجہ سے روس اب تک محتاط ہے اور بالتیک کی ریاستوں پر یلغار سے رکا ہوا ہے۔ لیکن مغربی دفاعی ماہرین کو خدشہ ہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات روس کی پیٹھ ٹھونک سکتے ہیں ۔ بالتیک کی ریاستیں خود بھی ٹرمپ کے نیٹو سے متعلقہ انتخابی اعلانات سے خائف ہیں ۔ یورپی حکومتیں ٹرمپ کی اعلان کردہ (غیر واضح)  پالیسیوں کی وجہ سے تذبذب میں ہیں ۔ برسلز میں یورپی یونین کی وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں اور یہی  حال  امریکہ و یورپی یونین کے درمیان تجارتی لین دین اور ماحولیاتی امور سے متعلقہ پالیسیوں کا ہے ۔ لیکن کیا یورپ مشترکہ دفاعی اخراجات کا وہ بوجھ اٹھا سکتا ہے جو ٹرمپ چاہتے ہیں اور اگر نہیں تو وہ اپنی مشترکہ اقدار کا دفاع کیسے کر سکے گا۔

جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے  ڈنمارک پر یہ  ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مشترکہ دفاعی کوششوں میں اپنے حصے کی پوری ادائیگی کرے ۔ ڈنمارک بحیرہ بالتیک کی ریاستوں کے بعد علاقے میں پہلا ملک ہے جو  مشترکہ دفاعی امور میں بچت کرتا ہے۔ یوں یورپی برادری کو مضبوط بنانے کے عزم کو  شک و شبہات سے دوچار کرتا ہے ۔ ڈنمارک کو اب اپنے بیانات کی بجائے عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنا حصہ ڈالے گا اور مشترکہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کرے گا ۔ یہ کٹھن مرحلہ ہو سکتا ہے لیکن موت و حیات کی بازی میں ایسا کرنا اشد ضروری ہے ۔

ٹرمپ کی کامیابی سے یورپ کے قوم پرست انتہا پسند لیڈروں کو امید پیدا ہو گئی ہے کہ اگر ٹرمپ امریکہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو وہ بھی اپنے ملکوں میں عوام کی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ وہ یورپ میں تارکین وطن کے خلاف  پروپیگنڈا کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے والے ہیں ۔  وہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کو نظر انداز کرکے  اپنے ملک کے مفادات سر فہرست رکھنے چاہئیں ۔  دائیں بازو کی نسل پرست مغربی قوتیں کہتی چلی آ رہی ہیں کہ انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں اور  اگر کوئی ان کی راہ میں حائل ہوگا تو انہیں ایسے کسی عالمی تعاون و اشتراک کی ضرورت نہیں ۔  یہ قوتیں یورپ کو ایک ایسا قلعہ بند بنانا چاہتی ہیں کہ تیسری دنیا کے لوگ اس میں داخل نہ ہو سکیں۔  جیسے ٹرمپ امریکہ و میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر  کردینا چاہتے ہیں ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپی یونین کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنے معاشروں کومتعصب اور قوم پرست  پارٹیوں اور گروہوں کو ٹرمپ کے نظریات  اپنانے سے کیسے دور رکھ سکیں گی۔ اور کیا وہ اس میں کامیاب ہو بھی سکیں گی۔ یہ ایک  نئی جنگ ہے۔ اگرچہ یہ دکھائی نہیں دیتی لیکن اس کی ابتدا ہو چکی ہے ۔ اِ س جنگ میں ایک طرف انتہا پسند خاموش قوتیں اور دوسری طرف اقدار و جمہوریت کی پاسداری کرنے والی  قوتیں ٹکر لیتی دکھائی دیتی ہیں ۔  یہ جنگ  جیتنے کے لئے  پورپ میں ٹرمپ کے نقش قدم پر چلنے والوں کو شکست دی جا سکے۔  اس کے لیے یہی وقت ہے کہ یورپ خواب سے بیدار ہو۔

(نصر ملک،  اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، ڈنمارک کے مدیر ہیں)