رن میں صرف دشمن بچا ہے

ابھی درگاہ شاہ نورانی کے صحن سے خون بھی صاف نہ ہوا تھا۔ ابھی دیواروں پر جمے لوتھڑے بھی اترے نہ تھے۔ ابھی جابجا ملک کے معصوم اور غریب لوگوں کا بکھرا سامان سمیٹا بھی نہ گیا تھا۔ ابھی سینکڑوں گھروں سے اٹھنے والی چیخیں تھمی بھی نہ تھیں۔ ابھی بہنوں کے نوحے کم نہ ہوئے تھے۔ ابھی ماؤں کے کلیجے کٹ کٹ کر خون خون ہونا بند نہ ہوئے تھے۔ کسی کمسن کو ماں کا ، باپ کا ، بھائی کا ، بہن کا ۔ کسی ماں کو اپنے لخت جگر کا ، کسی باپ کو بیٹے کا ، کسی بھائی کو بہن کا ، کسی بہن کا اپنے کڑیل جوان بھائی کا لاشہ بھی نہ ملا تھا۔ ابھی تو لاشیں بھی گھروں کو نہ پہنچیں تھیں۔ ابھی تو لوتھڑوں میں ، چیتھڑوں میں بٹے انسانوں کی شناخت بھی نہ ہوئی تھی۔ ابھی تو آہ و بکا کی صدائیں فضا میں گم بھی نہ ہوئی تھیں کہ بے حس اور شرم و حیا سے عاری حکومت پاکستان نے اسی صوبے میں اقتصادی ترقی کا سنگ میل عبور کرنے کے نام پر رقص و سرود کی محفل سجائی۔

کاش ، اے کاش ! کوئی ان بے گناہوں کی موت پر رسمی کلمات (وہ بھی انگریزی میں کہ کہیں جن کے پیارے بچھڑ گئے ہیں وہ یہ جان نہ لیں کہ ان کی حکومت ان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے اور کیا سوچ رہی ہے) کی بجائے اس خوشنما محفل کو کچھ روز کےلئے ہی سہی موخر کر دیتی۔ اقتصادی ترقی یقیناً کسی بھی ملک کےلئے نہایت اہم ہوتی ہے مگر وہاں کے شہریوں کی جان سے بڑھ کر نہیں۔ سی پیک کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ پہلا تجارتی قافلہ سامان تجارت لے کر دنیا کی آبی گزرگاہوں پر رواں دواں ہو گیا۔ مگر کیا یہ ترقی اور خوشحالی ان دکھی دلوں پر مرہم رکھنے میں کامیاب ہو سکے گی جو غم و اندوہ میں ڈوبے ہیں اور جو یقیناً اب حکومت کی طرف نہیں بلکہ اس قادر مطلق کی طرف دیکھ رہے ہیں جو زندگی اور موت کا مالک ہے۔

درگاہ شاہ نورانی میں پیش آئے اندوہناک سانحہ کے بعد بھی وہی گھسے پٹے بیانات سامنے آ رہے ہیں صرف ڈھٹائی اور بے شرمی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اور راحیل شریف سمیت پاور گیم کا ہر کھلاڑی ایک ہی راگ الاپ رہا ہے۔ ’’ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، بزدل دہشت گرد اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں، ہم دہشت گردوں کو معصوموں کی جانیں لینے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ حیف صد حیف۔ افسوس ہزارہا افسوس۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کے اس عزم صمیم کے بعد یقیناً دشمنوں کے دل دہل گئے ہوں گے۔ ان کی روحیں کانپ اٹھی ہوں گی۔ انہیں زمین پیروں تلے سے کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہو گی۔ وہ اپنی محفوظ ترین کمیں گاہوں سے نکل کر جائے پناہ ڈھونڈتے پھر رہے ہوں گے۔ نہیں واللہ ایسا کچھ نہیں۔ ’’بزدل دشمن‘‘ کے حوصلوں کو مہمیز ملا ہوگا۔ اس کی ہمت آسمان کو چھو رہی ہو گی۔ اس کا جذبہ پہاڑوں سے بلند ہو گیا ہو گا۔ اور کیوں نہ ہو، جہاں ایسے حکمران اور ایسی قابل فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھرمار ہو وہاں کون کمبخت دہشت گردی کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ ریاستی ناموروں کے بیانات دیکھنے اور سننے کے بعد صرف اور صرف یہی تاثر ملتا ہے کہ ، دہشت گردی؟ کہاں ہوتی ہے۔ شدت پسندی؟ یہ کیا ہوتی ہے؟ خودکش بمبار تیار کرنے والے مدرسے؟ یہ کہاں پائے جاتے ہیں۔ کالعدم تنظیمیں؟ یہ کس بلا کا نام ہے؟ فرقہ واریت؟ یہ کس چڑیا کا نام ہے۔ صوبائی عصبیت؟ کسی دشمن نے بے پر کی اڑائی ہے۔

ملک بے اماں کی تازہ صورتحال یہ تو بتاتی ہے کہ رن میں اب کوئی نہیں، صرف دشمن ہی بچا ہے۔ وہ جب اور جہاں چاہتا ہے معصوموں کی خون سے ہولی کھیل کر چلا جاتا ہے۔ حکومتی پھرتیاں دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ یہ آخری سانحہ نہیں مگر تازہ سانحہ اور اس پر ہمارے بزرجمہروں کا ردعمل دیکھ کر کہنے دیجئے کہ ’’پاک چین دوستی کے نغمے گاتے جائیے اور سر دھنتے جائیے‘‘۔