جہانگیر بدر: سیاسی وفاداری کی شاندار مثال
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 15 / نومبر / 2016
- 5715
آج صبح کاآغازایک افسوس ناک خبر، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنمااورمیرے دوست جہانگیربدر کے انتقال کی خبرسے ہوا۔ رات گئے اُن کے ہسپتال داخل ہونے کی خبرسنی تودِل دھڑکا، لیکن یہ کہہ کردِل کوتسلی دی کہ وہ پچھلے دوسالوں سے زیرعلاج ہیں، اس لیے ممکن ہے ہسپتال میں یہ منتقلی بھی علاج کی ہی ضرورت کے تحت ہوئی ہو۔ سیاسی جدوجہد اورپیپلزپارٹی کے پرانے ساتھی سجاد نقوی جوجرمنی میں قیام پذیرہیں، اُن کاپیغام صبح اٹھتے ہی مجھے اپنے دوست جہانگیر بدر کے انتقال کے حوالے سے سیل فون پرملا، تو لگا کہ میری سانس رک گئی ہو۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
جہانگیر بدراس نسل کے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کاآغازساٹھ کی دہائی سے کیا۔ اندرونِ لاہورمیں جنم لینے والایہ نوجوان اپنے ہزاروں ساتھیوں کی طرح نچلے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاست کاآغاز ذوالفقارعلی بھٹوکے سحرمیں گرفتارہوکرکیا اورآخری سانس تک اِسی سحرمیں مبتلا رہے۔ وہ سیاسی کمٹمنٹ کی ایک شان دارمثال ہیں۔ طلبا سیاست میں انہوں نے اس طلبا تحریک میں کردارادا کیا جوپاکستان میں بعد میں کبھی دیکھی نہ جاسکی۔ ساٹھ کی دہائی پاکستان سمیت دنیا میں انقلاب کی دہائی تھی۔ یہ ترقی پسند تحریکوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس میں انہوں نے طلبا تحریک کے ایک متحرک اورفعال رہنما کے طور پر یادگار حصہ ڈالا۔ اوریوں وہ طلبا سیاست کی بدولت ہی ملکی سیاست کی معراج تک پہنچے ۔ اُن کی شخصیت میں تین پہلو بڑے اہم ہیں۔ ایک محنت، لگن اورکمٹمنٹ۔ نہایت نچلے طبقے سے ابھرکرقومی سیاست میں کردار حاصل کرنا۔ دوسرا، ایک ایسے لاہورکی تہذیبی نمائندگی کرنا جو اب معدوم ہوتی جارہی ہے۔ تیسرا، ذوالفقارعلی بھٹواوراُن کی پارٹی سے مرتے دم تک وفاداری نبھانا۔ جہانگیر بدرمرحوم نے جہدِ مسلسل سے اپنا مقام بنایا۔ جنرل ضیا کی آمریت کے اوائل دنوں میں وہ اسی جیل میں مقید تھے جہاں کچھ روز بعد ذوالفقار علی بھٹو کوپابند سلاسل کیا گیا۔ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اُن رہنماؤں میں شمارہوتے ہیں جن کی پیٹھوں پرجنرل ضیا کی آمریت میں کوڑے مارے گئے۔ قیوم بٹ، پیرسید ناظم حسین شاہ، قیوم نظامی اورجہانگیربدر، پارٹی میں سب سے پہلے کوڑے کھانے والوں میں سے تھے۔ اس نوجوان رہبرکی پیٹھ پرجب کوڑے برسائے گئے تواس کے منہ سے اُف کی بجائے یہ نعرہ بلند ہوا:
دس دس کوڑے پانچ پانچ سال
بھٹوجئے ہزاروں سال
مارشل لاء کی عدالتیں اُن دنوں ’’فوری اورسستاانصاف‘‘ مہیاکرتے ہوئے کسی کوصرف اس بات پردس کوڑے اورپانچ سال قید سنا دیتی تھی کہ اس شخص نے جمہوریت بحال کرواور ذوالفقارعلی بھٹوزندہ باد کہا ہے۔ کاش آج کی سیاسی جدوجہد میں متحرک نوجوان اس تاریخ سے آگاہ ہوں، جوآمریت کاجبراورجمہوری آزادیوں کے لیے جدوجہد کرتے ہوتے جہانگیربدر جیسے ہزاروں سیاسی کارکنوں نے رقم کی۔
جہانگیربدرکاشمارایک وقت میں پیپلزپارٹی کے طاقت ورترین رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ جنرل ضیا کے مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے وہ پنجاب کی پارٹی صدارت کا عہدہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ عملی طورپریہ پاکستان پیپلزپارٹی کاسب سے طاقت ور عہدہ رہا ہے۔ ایک بڑے صوبے کاصدر۔ جب وہ پنجاب کے صدر نامزد ہوئے تواس کے ایک سال بعد اپریل 1986 میں محترمہ بے نظیربھٹو نے جلاوطنی ختم کرتے ہوئے لاہورکی سرزمین پراترنے کافیصلہ کیا، جہاں پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑااستقبال اورمارچ ہوا۔ اس میں مسلسل دس لاکھ لوگ سترہ گھنٹے چلنے کے بعد لاہورائیرپورٹ سے مینارِپاکستان پہنچے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس جلوس میں شامل ہونے والے کُل لوگوں کی تعداد تیس لاکھ تھی اوریہی وہ پہلاجلوس تھا جس میں پاکستان میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوئی۔ تب حبیب جالب مرحوم کی یہ نظم بہت مقبول تھی جس میں انہوں نے کہا تھا:
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، لاہورائیرپورٹ سے ٹرک پرسوارہوکرباہرآئیں توجہانگیربدراُن کے دائیں جانب تھے۔ اس ٹرک پرمحترمہ بے نظیر بھٹوکے ہمراہ راؤرشید، جنرل ٹکاخان، اقتدار شاہ، راؤ ہاشم، راناشوکت محمود، فیصل صالح حیات نمایاں تھے۔ اس جلوس کے بعد پی پی پی کے اندرایک بارپھرسیاسی اورنظریاتی مقابلہ بازی کا آغازہوا۔ ہم اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بڑھ چڑھ کرامریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اوریوں راقم اُن لوگوں کی صف اوّل میں تھا جوپنجاب کے صدر جہانگیربدرکے خلاف اپناسیاسی موقف رکھتے ہوئے مسلسل متحرک رہے۔ مجھے فخرہے کہ جہانگیربدراس سیاسی اختلاف کے بعد میرے گہرے دوست بنے۔ اس کا سبب اُن کا وہ سیاسی شعور تھا جو جہد مسلسل سے انہوں نے حاصل کیا۔ ہم دونوں کے مابین دوستی ہی نہیں بلکہ نہایت احترام کا ایک انمٹ تعلق قائم ہوا۔ مجھے وہ جب بھی ملتے، تو جو کلمات وہ کہتے، اگراُن کویہاں رقم کروں گا تو یہ خودپسندی ہوگی۔ یہ تواُن کی عظمت تھی جووہ اپنی زبان میں بیان کرتے تھے۔
وہ پی پی پی کے اُن رہنماؤں میں شمارہوتے تھے جنہوں نے بے نظیر بھٹوشہید کے مشکل ترین دنوں میں اُن کا ساتھ دیا۔ اس حوالے سے وہ پارٹی کے ایک وقت میں سب سے طاقت ورلیڈربن کرابھرے۔ اُن کے سیاسی مقام کے سامنے بڑے بڑوں کی دال نہیں گلتی تھی۔ میں نے اُن کو ہردَم ایک سیاسی حوالے سے بہت Clear پایا ، وہ تھا اُن کا طبقاتی شعور۔ اُن کا خاص لاہوری لہجہ اُن کی شان دارپہچان تھی جس پراُن کومکمل فخرتھا۔ وہ محترمہ بے نظیربھٹوکے سیاسی طور پر کس قدر قریب تھے، اس کا اندازہ وہ کتاب ہوگی جواُن کی زیرطبع کتابوں میں شامل ہے، جوانہوں نے اپنے لیپ ٹاپ سے مجھ سے شیئر کی۔ اور محترمہ بے نظیر بھٹوکے اُن کے نام خطوط پرمشتمل ہے۔ وہ ذوالفقارعلی بھٹواوربے نظیربھٹوکے مخلص کارکنوں میں شمارہوتے ہیں۔ اُن کا محترمہ بے نظیر بھٹوسے سیاسی عشق اُن کی پی ایچ ڈی کا سبب بنا۔ چند سال قبل پی ایچ ڈی کامقالہ جب مکمل کیا توانہوں نے مجھے اپنے ہاں بلایااور کہا، ’’دیکھومسٹرگوئندی، میں نے اپنی قائد پرڈاکٹریٹ مکمل کرلی ہے۔‘‘ اورجب مقالہ ملنے کے بعد اُن کے اعزازمیں وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران نے ایک ناشتے کا اہتمام کیا تومیں بھی وہاں موجود تھا۔ اس تقریب میں اُن کے چنیدہ دوست شامل تھے۔ میں اپنے مشترکہ دوست پرویز رشید کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ اُٹھ کرمیرے پاس آئے اورمجھے اپنا کان قریب کرنے کوکہا اورکہنے لگے، ’’تم نے ہارنہیں مانی، راستہ بدلاہے۔ ڈٹے رہنا۔ جدوجہد کے کئی اندازہوتے ہیں۔ یہ وقت ہمارانہیں۔ یہ ردِ انقلاب دورہے، اس میں اپنے نظریات، افکارکے ساتھ متحرک رہنابہت مشکل کام ہے۔ تم ڈٹے ہوئے ہولیڈر! شکست نہ کھانا۔‘‘
دراصل یہ اُن کاسیاسی شعور تھا جو انہوں نے مطالعے کے ساتھ ساتھ مشاہدے کے عمل سے حاصل کیا تھا۔ کتابوں، اوراق اورقلم تک محدود رہنے والے چند ایک ہی دانشورہوتے ہیں۔ زیادہ تر صرف اوراق سیاہ کرتے ہیں اور جودانشور ہوتے ہیں وہ برٹرینڈرسل کہلاتے ہیں۔ اورجن لوگوں نے مطالعے کے ساتھ عملی مشاہدہ اپناعمل میں حصہ ڈال کرکیا ہو، اُن کی معاملاتِ سیاست کے بارے Clarity نہایت Sharp ہوتی ہے، جس تک بڑے بڑے دانشوررسائی حاصل نہیں کرسکتے ۔ جہانگیربدرایسے ہی لوگوں میں شمارہوں گے۔ آج لاہورسوگوارہے اورساراپنجاب اس خبرسے چونک گیا کہ محترمہ بے نظیربھٹوکا مخلص ساتھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا۔