امریکہ حیران اور دنیا پریشان
8 نومبر کو دنیا کی نظر امریکہ کے الیکشن پر ٹکی ہوئی تھی کیونکہ یہ الیکشن کئی معنوں میں اہم اور چونکا دینے والا تھا۔ اس کی ایک اہم وجہ اس میں شامل دونوں امیدوار تھے۔ ایک طرف دولت کا دیوتا ریپبلیکن امیدوار ڈولنلڈ ٹرمپ تو دوسری طرف سابق صدر بل کلنٹن کی بیوی ، سینیٹر اور سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلیری کلنٹن تھیں۔ لیکن جس کا ڈر تھا وہی بات ہوئی یعنی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا صدارتی الیکشن جیت لیا جس کا شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو خود بھی یقین نہ تھا۔
لگ بھگ ایک سال سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ہر روز کچھ نہ کچھ خبریں اخبارات میں شائع ہورہی تھیں ۔ ٹرمپ نے نامزدگی سے قبل ہی ایک ایسی بات کہہ ڈالی جس سے دنیا کے تمام لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو وہ سب سے پہلے مسلمانوں کے امریکہ داخل ہونے پر پابندی لگا دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کریں گے۔ تاکہ میکسیکو کے لوگ امریکہ نہ آسکیں۔ اس کا خرچ بھی میکسیکو کو ادا کرنا پڑے گا۔ بس کیا تھا ڈونلڈ ٹرمپ کی ان زہر افشاں باتوں سے شدت پسند اورٹرمپ کے حا میوں کا چہرہ خوشی سے کھل گیا اور وہ اپنی جی توڑ کوشش میں لگ گئے کہ اسی کو امریکہ کا صدر بناکر ہی رہیں گے۔
دوسری طرف ڈیموکریٹ کی امیدوار ہیلیری کلنٹن تھیں جنہوں نے اپنے الیکشن کی مہم کا آغازاپنی پالیسیوں اور امریکہ کو مزید مظبوط بنانے کے وعدے سے کیا۔ جسے زیادہ تر لوگوں نے سراہا اور امید ظاہر کی ہیلیری کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون صدر بن جائیں گی۔ جو کہ امریکہ کے لئے ایک تاریخی بات ہوتی۔ لیکن ہیلیری کلنٹن کو نامزدگی کے دوران کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا مثلاً وکی لِکس کا بھوت جو کہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا اور آخری مرحلے میں امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا ہیلیری کلنٹن کے خلاف انکشاف جس سے لوگوں میں الجھن پیدا ہوگئی۔
جب نتیجہ سامنے آیا تو امریکہ تو حیران ہوا ہی دنیا بھی پریشان ہو کر رہ گئی ہے۔ کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زہر افشاں تقاریر اور جارحانہ رویّے سے دنیا کی امن پسند سیاستدان اور عوام پہلے سے ہی خوف زدہ تھے اوران کی جیت سے لوگوں میں اور بھی خوف بڑھ گیا ہے۔ ہر کوئی اس بات کا انتطار کر رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے دنیا میں امن قائم ہوگا یا حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ لوگ اب بھی سہمے ہوئے ہیں کہ کیا ٹرمپ بطور امریکی صدر پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دیں گے؟ کیا ان کا رویّہ واقعی مسلمانوں کے تئیں جارحانہ ہوگا ؟ کیا مسلمانوں کے مزید ممالک میں خانہ جنگی جیسی صورتِ حال پیدا ہوجائے گی؟ کیا وہ امن کی بات کو چھوڑ کر دنیا کو تیسری جنگِ عظیم میں الجھا دیں گے؟ ایسے کئی سوالات ہیں جو ہر عام انسان کے ذہن میں گھوم رہے ہیں۔ اور خوف اور الجھن میں لوگ صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے جیت کے اعلان کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسٹیج پر آکر ایک سلجھی اور شایستہ تقریر کی جس میں انہوں نے ان لوگوں کو مبارک باد دی جنہوں نے انہیں جیت دلائی ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہیلیری کلنٹن کا بھی شکریہ ادا کیا اور ان کی انتھک مہم کو سراہا۔ انہوں نے تمام امریکیوں کو ایک ہو کر امریکہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کو کہا ۔ آخر میں انہوں نے اپنے تمام اہلِ خانہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی اس مہم میں ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ ہیلیری کلنٹن دوسرے روز اپنے حامیوں کے سامنے آئیں اور کہا کہ ’انہیں امید ہے کہ امریکہ کے نئے منتخب صدر ایک کامیاب امریکی صدر ہوں گے اور انہیں ایک موقع ضرور دینا چاہئے۔‘ تاہم ہیلیری کلنٹن نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ہار کی ایک وجہ ان کی غلط بیانی تھی جسے انہوں نے الیکشن سے ٹھیک ایک ہفتے پہلے جاری کیا تھا‘۔ ہیلیری کلنٹن نے کہا کہ ’میں ان تمام نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کر کے یہی کہوں گی کہ وہ میرے پہلی خاتون امریکی صدر منتخب نہ ہونے سے مایوس نہ ہوں بلکہ وہ کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں‘۔
جمعرات10 نومبرکو ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس گئے جہاں انہوں نے موجودہ صدر بارک اوباما سے ملاقات کی اور منتقلی کے حوالے سے بات چیت کی۔ اس سے قبل موجودہ امریکی صدر بارک اوباما نے فون کر کے ڈونالڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کی اور بعد میں کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے اور ہمارے بیچ اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ ہم سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ بالآخر ہم سبھی کا ایک کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہم پہلے امریکی ہیں، پہلے محب وطن ہیں اور ہم سب امریکہ کو ایک بہترین ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی کے امید وار بننے کی کوشش کررہے تھے تو زیادہ تر لوگوں کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ وہ ایک دن امریکی صدر بن جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ٹرمپ واحد امیدوار تھے جو کبھی کسی پبلک عہدہ پر فائز نہیں رہے۔ اس کی وجہ سے سیاسی ماہرین سے لے کر ریپبلیکن ارکان تک نے ٹرمپ کو اہمیت نہیں دی۔ قیاس کیا جا رہا تھا کہ جوں جوں وقت گزرے گا ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلیکن پارٹی کی امیدواری سے باہر ہوجائیں گے۔ لیکن ٹرمپ نے ان تمام باتوں کو غلط ثابت کردیا اور اپنے جارحانہ انداز اور شدت پسندی سے پارٹی کے حامیوں کا دل اور امریکہ کا الیکشن جیت لیا۔
70 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا ایک امیر ترین اور رنگین مزاج آدمی ہے اور پیشے سے تاجر ہے ۔ ان کے والد فریڈ ٹرمپ امریکہ کے ایک نامی گرامی اور امیر ترین ریئل اسٹیٹ کے مالک رہ چکے ہیں۔ خاندانی دولت مند ہونے کے باوجود شروع کے دور میں ٹرمپ اپنے والد کی کمپنی میں کم تنخواہ کی نوکری پر فائز تھے۔13 سال کی عمر میں اسکول میں لاپرواہی اور ناجائز حرکتوں کی وجہ سے انہیں ملیٹری اکیڈمی میں داخل کر دیا گیا تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے (University of Pennsylvania) یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے وارٹن اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنے والد کے کاروبار میں حصہ لینے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بھائی کا 43 سال کی عمر میں شراب کی لت سے انتقال ہوگیا تھا۔ جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو شراب پیتے ہیں اور نہ ہی انہیں سگریٹ نوشی کی عادت ہے۔
1971میں وہ اپنے والد کے کمپنی کے انچارج بن گئے تھے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی زندگی ان کے لئے مشعلِ راہ ہے جن کا انتقال 1999میں ہوا تھا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ریئل اسٹیٹ کا کا روبار ایک ملین ڈالر سے شروع کیا تھا جو انہوں نے اپنے والد سے قرض لیا تھا۔ انہوں نے اپنے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں خوب ترقی کی۔ نیو یارک کا 68 منزلہ ٹرمپ ٹاور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ پلیس، ٹرمپ ورلڈ ٹاور، ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اور نہ جانے مزید کتنی عمارتیں پوری دنیا میں ٹرمپ کی ملکیت ہیں۔
ٹرمپ نے تین شادیاں کی ہیں ۔ ان کی پہلی بیوی جن کا نام ایوانا زیلنیکوا ہے جو کہ ایک اتھیلیٹ اور ماڈل تھیں ۔ ان کا تعلق چیک ری پبلک ملک سے تھا اور1990میں ایوانا کو طلاق ہو گئی ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے معروف اداکارہ مارلا میپلس سے 1993میں دوسری شادی کی تھی جسے انہوں نے 1999میں طلاق دی۔ 2005 میں ٹرمپ نے میلانیا کناوس سے تیسری شادی کی جو کہ ایک معروف ماڈل تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ معروف (Forbes) فوربس میگیزین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ 3.7 ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے کا اصرار ہے کہ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ ٹرمپ ایک حیران کن جیت کے بعد امریکہ کے 45واں صدر بنیں گے ۔ ان کی جیت سے جہاں دنیا سکتے میں ہے وہیں ماہرین سیاستدان الجھن میں ہیں کیونکہ ٹرمپ ایک کاروباری ہیں اور یہ اندازہ لگا نا مشکل ہورہا ہے کہ جب جنوری میں وہ امریکہ کے صدر کا حلف لیں گے تو ان کا پہلا قدم کیا ہوگا۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو ٹرمپ کو بہت سے فیصلے اپنی ٹیم سے صلاح و مشورہ کے بعد ہی کرنا ہوں گے۔ جو کہ اب تک ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔ کیونکہ پورے الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تن تنہا اپنی مہم چلائی تھی اور زیادہ تر ماہر ریپبلیکن سیاستدانوں نے ان سے دور رہے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کیا ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن مہم کے دوران جو باتیں کہی تھیں وہ محض الیکشن میں کامیاب ہونے کے لئے کہی تھیں یا وہ اس پر عمل در آمد بھی کریں گے۔ اگر انہوں نے اُن باتوں پر عمل کیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ایک بار پھر انتشار پھیل جائے گا اور ہم شاید امن اور چین کی نیند نہیں سو پائیں گے۔