نظریاتی سیاست - منظر و پس منظر
- تحریر محمد آصف اقبال
- بدھ 16 / نومبر / 2016
- 4634
عموماً دنیا میں بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہم نے سوچا نہیں تھا یا ہمارے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود توقعات اور امیدوں پردنیا میں نہ صرف نظریات فروغ پاتے ہیں بلکہ نظریات کی روشنی میں دائرہ کار بھی متعین کیا جاتا ہے۔
چونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا اس لیے فطری طور پر انسان کی منفی یا مثبت خواہشات کو مزید تقویت ملتی ہے۔ ایک زمانے میں مظلوم اور کمزور طبقہ کی فلاح و بہود کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ مزدوروں سے اپنے رشتہ کو استوار کیا گیا۔ ان کے مسائل کو عام و خاص ہر شخص کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اس پیشکش اور فلاح و بہبود کی جدوجہد میں دو قسم کے لوگ شامل ہوتے نظر آئے۔ ایک وہ جو فلاحی کاموں کو فروغ دینے کا حوصلہ رکھتے تھے، سماج میں پہلے ان کوحیثیت حاصل تھی۔ علاوہ ازیاں ان لوگوں کا شمار سوچنے سمجھنے والے اور فیصلوں کا رخ موڑنے والوں میں ہوتا تھا ۔ دوسرے وہ جو مسائل سے دوچار تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مظلومین کی آواز اٹھاتے وقت ہی یہ دو قسم کے لوگ اپنے ہی درمیان ایک بڑا فاصلہ قائم کرچکے تھے۔ یہ فاصلہ حصول اقتدار کے مقصد اور مظلومین کے ساتھ تعلق کے حوالے سے موجود رہا۔ لہذا ایک جانب سماج کا سوچنے سمجھے والا گروہ سامنے آیا، جس میں تخلیق کار، سماجی ایکٹوسٹ، پالیسی سازاور اکیڈمک لوگ تھے تو مظلوم ، کمزور، پست ، اور مسائل سے دوچار گروہ بھی ان کے ساتھ چلے ۔ لیکن معاملہ یہاں نہیں تھما۔ اس سفر میں تعاون اور تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔
مساوات کا خوبصورت منظر جس وقت مخصوص علاقہ میں کھینچا جا رہا تھا۔ اس خوبصورت منظر میں اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی اقدار و اقتداراور نظریہ حیات رکھنے والوں کو دور کیا جا رہا تھا۔ توقعات اور امیدوں کے میناروں پر فائز افراد کو اپنی جانب متوجہ کیا جا رہا تھا۔ جب انہیں لوگوں کو اقتدار مخصوص علاقہ میں یا ملک عزیز کی ریاستوں میں یا پھر دنیا کے دیگر حصوں میں حاصل ہوا تو ایک بار پھر اندورن خانہ نہ صرف بجلیاں کڑکڑنے لگیں بلکہ تاج بھی اچھالے گئے۔ یہی حال آج کل ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کا ہے جہاں سوشلزم یا سماج واد اور اس کے نظریات پر مبنی برسراقتدار طبقہ کے درمیان دیکھنے میں آرہا ہے۔
ولادیمیر لینن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ طبقاتی شعور رکھنے والے مزدوروں کے لیے سوشلزم ایک سنجیدہ عقیدہ ہے نہ کہ پیٹی بورژوا مصالحت ساز اور قوم پرست مخالفانہ میلانات کی پردہ پوشی۔ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ اگر ہم مسئلے کو سائنسی طریقے سے یعنی جدید معاشرے میں طبقاتی تعلقات کے نقطہ نظر سے پیش کرنا چاہتے ہیں ، تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ اکثر سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں اور ان میں پیش پیش سب سے پہلے جرمن پارٹی - جو دوسری انٹر نیشنل میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ بااثر ہے، پرولتاریہ کے خلاف اپنے اپنے جنرل اسٹافوں ، حکومتوں اور بورژوازی سے جاملی ہیں۔ یہ معاملہ عالمی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور انتہائی جامع تجزیے کا تقاضہ کرتا ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ ایک عرصے سے یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ جنگیں اپنی جلو میں ہولناکیاں اور تباہیاں لاتی ہیں لیکن ان سے ایک اہم فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسانی اداروں جو گندا، دقیانوسی اور مردہ ہوتا ہے اسے وہ بے رحمی سے بے نقاب کردیتی ہیں۔ اس نے مہذب ملکوں کے ترقی یافتہ طبقے پر یہ آشکار کر دیا ہے کہ اس کی پارٹیوں کے اندر بدبودار پھوڑا پک رہا ہے اور کسی سرچشمے سے ناقابل برداشت سڑی ہوئی عفونت آرہی ہے۔
کیا یہ حقیقت ہے کہ یورپ کی اہم اشتراکی پارٹیاں اپنے تمام عقائد اور فرائض کو خیر باد کہہ چکی ہیں؟ ولادیمیر لینن کے اقباس سے چند حقائق واضح ہو جاتے ہیں۔ ایک:گرچہ طبقاتی شعور رکھنے والوں کے لیے سوشلزم ایک نظریہ ہو سکتا ہے اس کے باوجود مصالحت ساز اور قوم پرست مخالفانہ میلانات ہر زمانے میں سوشلزم کی پہچان بنے رہے ہیں۔ لہذا ان پر یقین اور یقین کو عقیدہ کی شکل دینا نہایت خطرناک رجحانات کی جانب ایک قدم ہے۔ وہیں لینن ہی کے الفاظ میں نظریہ کے حاملین اور پارٹیاں عموماً اپنے انسانی وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ متضاد فکر کے فروغ میں سرگرم عمل پارٹیوں کے ساتھ پردہ کے پیچھے فی زمانہ لین دین اور سودے بازی کرتی رہی ہیں۔ اور یہ جنگیں اور تباہیاں جو نہ صرف انسانی جان سے کھلواڑ کرتی اور ہلاک کرتی ہیں بلکہ فضا کو بھی مکدر کرتی ہیں، اس میں اگر کچھ مثبت ہے تو وہ یہی کہ منافقین کی پہچان ہو جاتی ہے اور وہ بے نقاب ہوتے ہیں ۔ آخری بات یہ کہ یہ اشتراکی فکر کے حاملین جنہیں کہیں نہ کہیں سوشلزم اور سماج واد کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ غداروں کے ساتھ دوستانہ اور بردبار رویہ اختیار کرتے ہیں۔ تنقید سے بچتے ہیں، مسائل کے حل کے لیے جدوجہد اس نہج پے نہیں کرتے جو مطلوب ہے اور تمام ان امور پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، جہاں انہیں مزید قوت اور طاقت کے ساتھ اپنی بات کہنی چاہیے۔
مضمون کے آخر میں ہندوستان کے پس منظر میں بات کرتے ہیں۔ وطن عزیز میں اشتراکیت کے علمبردار بھی ہیں تو سوشلزم اور سماج واد کا نعرہ لگانے والے بھی۔ نیز کمیونزم اور اس کے علمبردار بھی نموجود ہیں۔ غور کیجئے کہ یہ سب کب ہوتا ہے؟ اور کیوں ہوتا ہے؟ کیا واقعی یہ لوگ عدل و انصاف کے علمبردار ہیں؟ کیا واقعی جب انہیں کسی بھی سطح پر حکومت شامل ہونے یا حکومت چلانے کا موقع ملتا ہے، اس وقت بھی مخصوص دائرہ یا جغرافیائی حصہ میں اپنے خلاف یا ان لوگوں کے خلاف جن کی جانب سے دوسروں پر زیادتی ہو رہی ہے، آواز اٹھانے، نعرے لگانے، دھرنے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
مغربی بنگال میں کمیونزم کے علمبرداروں نے ایک طویل عرصہ حکومت کی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کیا واقعی اس عرصہ میں وہاں مزدوروں اور مظلوم و کمزورترین سماج کے لوگوں کی حقوق کی بازیابی ہوئی؟ نہیں ، ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہاں موجودہ برسراقتدار ترنمول کانگریس اس قدر مارجن کے ساتھ ایک نہیں دودوبار کامیاب نہیں ہوتی۔ وہیں ریاست اترپردیش میں سماج واد کے علمبرداروں کا معاملہ کیا ہے؟ کیا وہ اقتدارمیں آنے کے بعد قریب ترین یا مخصوص گروپ کے مفاد کے لیے سرگرم عمل ہوئے یا پھر سماج کے طبقاتی نظام سے نجات دلانے اور کمزوروں و مظلوموں کی فریاد رسی کی قدر کرتے ہوئے ، عدل و انصاف کے پیمانے قائم کیے۔