اردو کے سوادِ اعظم میں شناخت کا مسئلہ
دنیا کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک مکمل پیکج کی شکل میں نہ ہو ں۔ شہروں کو ہی لے لیں۔ ملتان کے پیکج میں گرد ، گرما اور گور شامل ہیں۔ سیالکوٹ کے پیکج میں اقبال ؔ ، فیضؔ ، اور کھیلوں کے سامان کے ساتھ ساتھ ، ہمارے نہ چاہنے کے با وجود خواجہ محمد آصف شامل ہیں۔ ایک اور شہر گوجرانوالہ کے پیکج میں چڑے، پہلوانی، خوش خوراکی کے ساتھ جدید اردو نظم کے دو بڑے ستون ، ن۔ م ۔راشد اور میرؔ ا جی شامل ہیں۔ مجھے نہیں معلوم فاروق ساغرؔ چڑے کتنی رغبت سے کھاتے ہیں یا پہلوانی کے داؤ پیچ سے کس حد تک واقف ہیں لیکن جو بات مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ فاروق ساغرؔ کا تعلق ن۔م۔راشد ؔ اور میراؔ جی کے شہر گوجرانوالہ سے ہے اورشاید اسی نسبت سے شاعری ان کے نصیب میں آئی ہے۔
برطانیہ کو ایک وقت میں اردو کے تیسرا بڑا مرکز ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور وہاں اردو کے شاعروں ، ادیبوں کی کافی چہل پہل تھی لیکن اب معاملہ مختلف ہے۔ سنجیدہ اور مخلص شاعر اور ادیب اب بھی موجود ہیں اور مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں۔یوں تو بہت سے شاعر ہیں جو برطانیہ میں اردو شاعری کی مین سٹریم سے باہر بھی نہ صرف جانے پہچانے جاتے ہیں بلکہ اردو کے سوادِ اعظم میں بھی تسلیم کئے جاتے ہیں مثلاً باصرؔ سلطان کاظمی ، یاسمین ؔ حبیب ،راقم الحروف، ارشد ؔ لطیف ، منصورؔ آفاق ، سلیمؔ فگار ، شہبازؔ خواجہ اور دوسرے بہت سے ، لیکن فاروق ساغرؔ ؔ برطانیہ میں اردو کے اُن کامریڈشاعروں میں شامل ہیں جو بقول غالبؔ : نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
کہے پر عمل پیرا ہیں ۔صحافی ہیں ، کالم لکھتے ہیں ، میڈیا ایڈوائزر ہیں، ٹی وی کے لئے لکھتے اور پروگرام پروڈیوس کرتے ہیں لیکن بقول خود:
میں شاعری کی طرف اس لئے چلا آیا
کہ میری ذات کو رنج و الم سے نسبت تھی
’ہجرتوں کے درمیاں ‘ فاروق ساغرؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔اردو شاعری میں ہجرت کا استعارہ بہت قدیم ہے اور بعض لوگ ہجرت کے تجربے سے گزرے بغیر بھی بے دریخ یہ استعارہ اسی طرح استعمال کر لیتے ہیں جیسے بعض لوگ سفر کئے بغیر سفر نامہ لکھ لیتے ہیں۔ جہاں تک ہجرت کا تعلق ہے اس کائنات میں پہلی انسانی ہجرت نہ تو مشرق سے مغرب کی طرف ہو ئی اور نہ مغرب سے مشرق کی طرف، اور نہ ہی شمال سے جنوب کی جانب ۔ اسے آپ اما ں حوا کا اکسانا کہیں ، شیطان کا بہکانا کہہ لیں، تقدیر کا لکھا سمجھ لیں یا اللہ کا دیا ہوا پروگرام ، لیکن پہلی انسانی ہجرت آسمان یا جنت سے اس زمین کی جانب اس وقت ہوئی جب حضرتِ آدم زمین پر تشریف لائے ۔ میرے دوست فاروق ساغرؔ نہ صرف ہجرت کے تجربے سے گزرے بلکہ ایسا لگتا ہے آج بھی اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ وہ اس لئے کہ ایک تو ان کی شاعری کی پہلی کتاب کا نام ہی ’ ہجرتوں کے درمیاں‘ ہے، دوسرے مجھے حیرت ہے کہ: آغوش میں اسے مری آنکھوں نے بھر لیا، جیسا مصرع اور :
مجھ پر مرے سفر کی حقیقت کھلی ہے آج
اک دائرے میں گھومتی پرکار دیکھ کر
اور
سوچتا ہوں تجھے اس بار دغا دے جاؤں
دیکھ اے دربدری سامنے گھر آیا ہے
جیسے شعر کہنے کے باوجود انھیں، اردو کے سواد ِ اعظم سے دور رہنے والے دوسرے بہت سے شاعروں کی طرح، سواد ِ اعظم میں اپنی شعری شناخت کا مسئلہ در پیش ہے ۔ ! اہم سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟کیا بیرونِ ملک رہنے والے شا عروں کی شاعری اس قابل نہیں کہ اس پر توجہ دی جائے:
اس شخص کی تصویر میں اعجاز ہے کیسا
جو دیکھنے والے کو بھی تصویر بنا دے
ہم نے صحرا کی یاس بجھنے تک
اپنے پاؤں میں آبلہ رکھا
یہ اشعار اور ایسے ہی بہت سے خوبصورت اشعار ، جو بیرونِ ملک رہنے والے دوسرے بہت سے شاعر کہہ رہے ہیں، کیا اس قابل نہیں کہ ان پر توجہ دی جائے۔؟ یقیناً ہیں ، لیکن ایک بات اور بھی ہے۔ یہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک عرصے سے محکمہ ء شماریات اعلان کر رہا ہے کہ پاکستان کی بر آمدات کم ہو رہی ہیں ۔ اس اعلان کی روشنی میں پاکستان کے کچھ اردو شاعروں نے اپنی جنس ِ شاعری کو بھی قابل ِ در آمد سمجھ لیا ہے اور گستاخی معاف ! اب ہندوستان اور پاکستان کے یہ شاعر اپنی شاعری کی اضافی پیداوار کو مقامی منڈی میں کھپانے کے ساتھ ساتھ باہر بھی ایکسپورٹ کر رہے ہیں ۔ اس قدم کو بعض شاعروں کے زر اور پا کستان کے زرِ مبادلہ کے مسا ئل کے حل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے ۔
لندن کی ایک معروف بیرسٹر ، جو اچھی خاصی اردو بولتی اور سمجھتی ہیں ، نے حال ہی میں مجھے بتایا کہ ا نہیں پاکستان کے اپنے حالیہ دورے میں ایک زر ِ کثیر کے عوض اردو شاعری کی ایک ریڈی میڈ کتاب کی پیشکش کی گئی ، لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے نے صاف انکار کر دیا۔ مقامی سطح پر تو یہ کام پہلے بھی ہوتا تھا لیکن اب باہر کے بعض متمول خواتین و حضرات بھی اس ریڈی میڈ سہولت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پھر وہی لوگ پاکستان تشریف لا کر اپنے محسنوں اور مہربانوں کی مدد سے یہاں کے اخبارات اورٹی وی کو انٹرویوز دے کر بیرون ِ ملک اپنی ادبی حیثیت کا فخریہ تذکرہ کرتے اور اپنی ادبی خدمات کا ڈھول پیٹ کر چلے جاتے ہیں۔حالانکہ باہر کے ملک کے اپنے گلی محلے میں کوئی انہیں بحیثیت شاعر نہیں جانتا ۔ اردو شاعری کی ان ریڈی میڈ کتابوں میں ایسا ایساچست ، پختہ اور موزوں شعر سننے کو ملے گا کہ بے چارے اصلی شاعر کی تو طبیعت صاف ہو جائے ۔ویسے یہ کوئی ایسی بری بات نہیں ، مختلف اجناس کی امپورٹ اور ایکسپورٹ ساری دنیا میں ہوتی ہے تو شاعری کی بھی سہی ۔ممکن ہے اسی سے اردو کی ترویج و ترقی کی کوئی شکل نکل آئے: وابستہ رہ شجر سے امید ِ بہار رکھ
میرے نزدیک یہ بات ایک کلیشے سے زیادہ نہیں کہ فنکار بہت حساس ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہو ں کہ فنکار بڑا بے حس اور خود غرض ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر فن کار حساس ہوتے تو ان کی آل اولاد مفلس اور بے یار و مدد گار نہ ہوتی۔ ہا ں یہ ہے کہ ہر سچے فنکا ر میں ایک حِس ایسی ضرور ہو تی ہے جس کا تعلق اس کے اپنے فن سے ہوتا ہے ۔ جس گھڑی اُس کی یہ حِس بیدار ہوتی ہے اس وقت فنکار کی دوسری تمام حِسیں سو جا تی ہیں ۔ یہ لمحہ ، تخلیقی لمحہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب فنکا ر کو صرف ایک خیال کو اپنی گرفت میں لانا ہوتا ہے ۔ اور پھر اسی خیال کو کبھی شعر ، کبھی افسانے ، کبھی تصویر اورکبھی کسی مجسمے کی شکل دینا ہو تی ہے ۔ ایک حقیقی فنکا ر کے لئے تخلیقی لمحے کی کیفیت وصال و ارتبا ط کے لمحات سے کہیں زیا دہ دلچسپ ا ور پسندیدہ ہوتی ہے ، اسی لئے سچا فنکا ر وصالی کیفیت سے گزر تے ہو ئے نہیں بلکہ تخلیقی کیفیت سے گزرتے ہوئے زیا دہ حظ اٹھاتا اور سرشار ہو تا ہے۔ فاروق ساغرؔ بھی اسی تخلیقی کیفیت سے گزرتے ہیں اور اسے اپنے شعروں کی شکل میں ڈھالتے ہیں۔ آئیے میں آپ جیسے شعر شناسوں کو ساغرؔ کی اس تخلیقی کیفیت کی تنہائی میں لے چلوں تاکہ آپ دیکھ لیں کہ فاروق ساغرؔ کیسے شاعر ہیں۔ کہتے ہیں :
ممکن ہے کسی روز وہ آجائے مرے پاس
خوشبو کی طرح اڑ کے سرِ شام ہوا پر
صلیبِ وقت میری منتظر ہے
کہ میں حرفِ صداقت لکھ رہا ہو ں
اس بات سے پہچان مرے عزم ِ سفر کو
دہلیز پہ چھوڑ آیا ہوں روتے ہوئے گھر کو
میں فیصلہ آپ جیسے اہلِ ادب پر چھوڑتا ہو ں کہ اردو کے سواد ِ اعظم سے دور رہ کر شاعری کرنے والے فاروق ساغرؔ کیسے شاعر ہیں ۔اور آپ سے رخصت لیتا ہو ں۔
(یہ مضمون 9 نومبر 2016 کو آرٹس کونسل کراچی میں ہونے والی کتاب کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)