جب عوام گھاس کھانے لگیں
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 17 / نومبر / 2016
- 6205
ایک غریب شخص نے بھوک سے تنگ آکر بھیک مانگنے کا سوچا اور شہر نکل گیا۔ لیکن وہاں بھوکوں اور بھکاریوں کی بھرمار کی وجہ سے اسے کامیابی نہ ملی۔ اس نے ایک نیا اورانوکھا طریقہ سوچا۔ ایک بڑے پارک میں ایک سیاسی جماعت کا جلسہ ہو رہا تھا۔ غریب شہری وہاں گیا اور مجمع کے قریب پارک میں لگی گھاس کھانے لگا۔ لوگوں نے حیران ہو کر دیکھا اور پوچھا گھاس کیوں کھا رہے ہو۔غریب نے کہا کہ کئی روز کا بھوکا ہوں، پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے گھاس کھانے پر مجبور ہوں۔
کارکن نے رحم کھا کر اسے سو روپے دیئے او کہا کہ گھاس چھوڑو، جا کر اچھا سا کھانا کھاؤ۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر اس پارٹی کا ورکر اتنا رحم دل ہے تو لیڈر اس سے بھی زیادہ رحم دل ہوگا۔ چلو اس کے قریب جاتے ہیں اگر لیڈر سے مزید کچھ پیسے مل گئے تو گھر میں بیوی بچوں کے لئے بھی کھانا لے جاؤں گا۔ سٹیج کے قریب پہنچ کر دیکھا کہ لیڈر صاحب جلوہ افروز ہیں۔ بھوکے آدمی نے سٹیج کے قریب اگی گھاس کو کھانا شروع کردیا۔ لیڈرکی نظر پڑی تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ غریب بولا جناب کئی روز کا بھوکا ہوں پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے گھاس کھانے پر مجبور ہوں ۔ لیڈر چونکہ ایک سیاسی آدمی تھے، بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے فورا ہی پلٹا اور غریب بھوکے کو سٹیج پر بلا لیا اور مائک پر لوگوں سے مخاظب ہو کر بولے: دیکھو۔۔۔ پچھلے دور کی پالیسیوں کی وجہ سے لوگ گھاس کھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہم عوام کو بھوک سے نجات دلانے کے لئے آئے ہیں۔ میں غریبوں کا رکھوالا بن کر آیا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ لوگوں نے نعرے لگائے، میڈیا نے بریکنگ نیوز چلادی ۔ جلسہ ختم ہونے پر غریب بھوکے نے ہاتھ پھیلایا اورمدد کی درخواست کی۔ صاحب نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس روپے نکال کر غریب کے ہاتھ پر رکھے اور بولے، اس پارک میں گھاس بہت کم ہے سامنے بس پر بیٹھو، دس روپے کی ٹکٹ میں راوی پارک شاہدرہ پہنچو وہاں بہت زیادہ اور لمبی لمبی گھاس موجود ہے۔
گو کہ یہ ایک فرضی واقعہ ہے لیکن حقیقت کے قریب ترین ہے۔ قوم کو گھاس کھالانے کی بات بھٹو نے بھی کہی تھی کہ ایٹم بنانے کے لئے گھاس بھی کھانی پڑی تو کھائیں گے۔ یہ اب حقیت بن چکی ہے ۔ لیکن عوام نے آج بھی سبق نہیں سیکھا اور گھاس کھانا ہی پسند کرتی ہے۔ پنجاب میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عام اور مخصوص نشستوں کے نتائج بتاتے ہیں کہ قوم ابھی مزید گھاس کھانا چاہتی ہے۔ ان نتائج میں موجودہ حکومت نے کلین سویپ کیا ہے۔ ہر نئی حکومت سب خرابیوں کو پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ اپنے دور میں جیبیں بھرنے پر لگے ہوتے ہیں۔ ہر صوبے میں عوام کے مسائل و مصائب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کے مسائل کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہے۔ اچھی خوراک، اچھی صحت ، تعلیم اور جان و مال کا تحٖظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ لیکن یہاں صرف اشرافیہ ہی زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ عام آدمی کی حالت تو اب بیان بھی نہیں کی جاسکتی۔
قومی اخبارات اور نیوز چینلز ہی سب کچھ دکھا اور بتا رہے ہیں عوام کو گھاس کھلانے والوں کے کتے بلیاں بھی شہزادوں جیسی زندگیاں گزارتے ہیں۔ ان کے باتھ رومز کی تیاریوں پر کروڑوں خرچ ہو جاتے ہیں۔ محلوں کا روزانہ خرچہ کروڑوں میں ہے۔ لیکن عوام کے مقدر میں درد بدر ٹھوکریں، دھکے اور سڑکوں پر حادثے ہیں۔ چند ہفتے پہلے سندھ کے ایک شہر کے ہسپتال کے باہر ایک عورت کی تصویر نے سب کو غم زدہ کردیا تھا۔ اس کا شوہر باہر ہی اس کی گود میں دم توڑ گیا تھا اور وہ اپنے پلو سے اپنی سسکیاں دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ حال ہی میں نورانی درگاہ پر خود کش حملہ ہوا تو وہاں کے زخمیوں کو سینکڑوں کلومیٹردور ہسپتال میں لے جایا گیا۔ کراچی کے قریب دو گاڑیوں میں تصادم کے نتیجہ میں لہولہان زخمیوں کو پیدل لے جانے کی تصاویر بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اس سے زیادہ شرمناک اور برا وقت اور کونسا ہو سکتا ہے۔
قائد اعظم نے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں جو تاریخ ساز تقریر کی تھی اس میں چند سماجی برائیوں کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ عظیم قوم بننے کے لئے ان سب برائیوں سے بچنا ہوگا۔ ان برائیوں میں رشوت، کرپشن، ذخیرہ اندوزی اور اقربا پروری شامل ہے۔1947 میں دیا گیا بانی پاکستان کا یہ انتباہ ہی اب حقیقت بن چکا ہے۔ یہی سماجی برائیاں پاکستان کے اداروں کی زوال پذیری کا بنیادی سبب ہیں۔ رشوت کی بات کریں تو کون ہے جو اس سے بچا ہوا ہے۔ ہم نے کرپشن کے جو ریکارڈ قائم کئے ہیں، شاید ہی کوئی ان کو توڑ سکے۔ ذخیرہ اندوزی کی بدترین مثال ماہ رمضان میں سامنے آتی ہے اور اقربا پروری آج کی سیاست اور ریاست میں سب سے اوپر ہے۔ میڈیا، عدلیہ، مذہب، سیاست ، تعلیم، صحت ، مساجد میں علما کی تقرری، اوقاف کا محکمہ، پولیس، سپورٹس، الغرض ہر جگہ من پسند اور اپنےعزیزوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ خواہ اہلیت ہو یا نہ ہو۔
غریب گھروں کے چشم و چراغ جو پوزیشنیں لیتے ہیں وہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں یا پھر قرضے لے کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ اس رویہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے۔ اداروں کی باگ ڈور نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں آجاتی ہے جس کے سبب ادارے زوال پذیر ہونے لگتے ہیں۔ یہی آج پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ پی آئی اے ہو یا واپڈا، یہ ادارے اسی لئے تباہ ہوئے ہیں۔ ایک وزیر نے ایک پاگل خانے کے دورے کے دوران ڈائریکٹر سے پوچھا کہ آپ کیسے چیک کرتے ہیں کی آدمی پاگل ہے کہ نہیں۔ ڈائریکٹر نے جواب دیا کہ ہم آدمی کو پانی سے بھرے ہوئے ٹب میں بٹھا کر اسے ایک چمچ، ایک کپ اور ایک بالٹی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹب میں سے سے پانی نکال کر اسے خالی کرو۔ وزیر صاحب بولے، اوہ سمجھا۔ ایک نارمل آدمی تو بالٹی استعمال کرے گا کیونکہ بالٹی، چمچے اور کپ سے بڑی ہے۔ ڈائریکٹر نے جواب دیا، یہ بات نہیں۔ ایک نارمل آدمی ٹب کے نکاس کے آگے لگا ڈھکن ہٹا دے گا۔
اب آپ بتائیں، کیوں نہ آپ کے لئے کھڑکی کے ساتھ والے بیڈ کا بندوبست کیا جائے۔