اسلام حق تلفی سے منع کرتا ہے
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- جمعرات 17 / نومبر / 2016
- 10643
اسلام ایک آفاقی دین اور عالم گیر مذہب ہے۔ اسے اللہ تبارک و تعالی کے پیارے پیغمبر رسول عربی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ لے کر آئے ۔ اور یہ دین پورے کرہ ارض کے انسانوں اور جنوں کے لیے ابد الآباد تک کے لیے ہے ۔ اس دین میں وہ جامعیت اور کاملیت ہے اور ساتھ سا تھ لچک بھی ہے کہ یہ ہر طبقہ کے لیے اور کرہ ارض کے ہر باسی کے لیے قابل عمل ہے ۔
قران کریم میں واضح طور پر ارشاد ہے ۔ ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِی ظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیدَا۔ اللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت کا پیغام دے کر بھیجا تاکہ ان کا لایا ہوا دین تمام ادیان پر غالب آجائے ۔ اور پھر اعلان کیا کہ یہ دین کونسا ہے ؟ فرمایا اِنَّ الدِّینْ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامَ بے شک دین اللہ تعالی کے نزدیک اسلام ہے۔ دین اسلام کے ماننے والوں کا نام مسلمان رکھا اور اعلان کیا ہو سمکم المسلمین ( سورہ حج آیت نمبر 78) اللہ تعالی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ۔ اور حضور اکرم ﷺ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا۔ ارشاد رفرمایا اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمُ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ ہر مسلمان کی نشانی یہ بتلائی اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہِ وَ یدِہِ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ دوسرے مسلمان کو جس چیز سے تکلیف ہو سکتی ہے وہ ہاتھ بھی ہے اور زبان بھی۔ ہا تھ کی تکلیف بظاہر زیادہ محسوس ہو تی ہے ۔ اس سے ضرب کاری کی جاتی ہے ۔ مگر حضور اکرم ﷺ نے زبان سے پہنچنے والی تکلیف کو ہاتھ سے پہنچنے والی تکلیف پر مقدم کیا ۔ اس لیے کہ زبان سے پہچنے والے زخم دل و دماغ پر لگتے ہیں اور وہ کبھی نہیں مٹتے ۔ ہا تھ سے لگنے والے زخم جسم پر ہوتے ہیں۔ وہ وقت کے سا تھ مندمل ہو جاتے ہیں۔ ایک عربی شاعر نے اس کی کیا خوب ترجمانی کی ہے ۔
جراحا ت لسنان لہا التیام ولا یلتام ماجرح اللسان نیزوں اور تلواروں کے زخم مٹ جاتے ہیں مگر زبان کے زخم نہیں مٹتے۔
ایک مسلمان کو دوسرے مسلمانوں کے لیے سلامتی کا نشان بننے کے لیے ایک سبق دیا کہ جب بھی کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرے تو کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُمْ اور دوسرا مسلمان جواب میں فورا کہے وَعَلَیکُمُ السَّلَامُ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے بہت سے خطبات میں اس بات کی بار بار تلقین فرمائی کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور خطبہ حجۃ الوداع میں پوری وضاحت فرما دی کہ کسی بھی مسلمان کو کسی دوسرے مسلمان پر قومیت، علاقائیت، رنگ و نسل یا زبان کی وجہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ آپ کا یہ فرمان اللہ تبارک و تعالی کے فرمان عالی کی تشریح تھی ۔ ہر مسلمان کی آبرو ایک جیسی ہے۔ کسی مسلمان کی عزت، مال، جان کے نقصان کی کسی دوسرے کو کسی صورت میں اجازت نہیں ہے ۔ اگر کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان پر فضیلت ہے تو وہ صرف تقوی اور پرہیزگاری کی وجہ سے ہے ۔ یہ اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی تشریح تھی جو سورہ حجرات کی آیت نمبر 113 میں ارشاد باری تعالی ہے ۔ یااَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرِ وّْاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبَا وَّ قَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْاِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہِ عَلِیمُ خَبِیرَا ے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا ) سے پیدا کیا ہے ۔ تمہارے خاندان اور قبیلے صرف ایک پہچان کی خاطر ہیں۔ بے شک تم میں سب سے بڑا عزت والا شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ۔ بے شک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ۔ پھر آپ ﷺنے مزید فرمایا میں نے جاہلیت کی تمام رسوم کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالا ہے ۔ زمانہ جاہلیت کے تمام خون بھی معاف کرتا ہوں ۔ سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا خون معاف کرتا ہوں۔ جاہلیت زمانے کے تمام سود بھی ختم کرتا ہوں اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں اور اسے چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔ فرمایا کہ میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری سنت رسول اللہ۔ جب تک ان دونوں چیزوں کو تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ آپس کی دشمنیوں کو ختم کر دو، بھائی بھائی بن جاؤ، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھو، خصوصا عورتوں کے حقوق کا خاص خیال رکھو۔
ان تمام فرمودات عالیہ سے واضح ہوتا ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔ کسی بھی مسلمان کو جو عزت و عظمت حاصل ہے وہ صرف تقوی و پرہیزگاری ہے جو کہ قرب خدا وندی اور حضور اکرم ﷺ کا سبب ہے ۔ علاوہ ازیں کوئی بھی چیز کسی دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے۔ ایک اور بات کی بھی نفی کر دی کہ بعض علاقوں میں علاقائی زبانیں بولی جاتی تھیں اس بناء پر بھی لوگ اسے ایک فضیلت کا نشان سمجھتے تھے ۔
جیسے کہ یہ مرض آج کل بھی کہیں کہیں نظر آ تا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے ان مختلف زبانوں کو جو مختلف ممالک میں اور مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں ان کے متعلق بھی واضح طور پر کہہ دیا کہ ان تمام زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہے ۔ سورہ روم کی آیت نمبر 22 میں ارشاد فرمایا وَ مِنْ آیاتِہِ خَلَقَ السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَ اَلْوَانِکُمَ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لِاَیاتِ لِّلْعٰلَمِینَ بے شک آسمانوں اور زمین کی خلقت میں اور زمین پر بولی جانے والی مختلف زبانوں میں اور انسانوں کے رنگوں میں جو فرق ہے یہ اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں میں سے ہے ۔ کسی زبان کی بنا پر کسی کو کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ حضوراکرم ﷺ نے صرف ایک عربی زبان کو دوسری زبانوں پر فضیلت بخشی ہے وہ بھی اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی باوجود کہ تمام زبانوں کا خالق ہے لیکن وہ خود عربی زبان میں کلام فرما تا ہے۔ قراٰن کریم اس کا کلام ہے جو عربی میں ہے ۔ فرشتوں کی زبان بھی عربی ہے ۔ جب سب لوگ جنت میں جائیں گے تو جنت کی زبان عربی ہو گی جو خود بخود سب کو آ جائے گی ۔ ان تمام وضاحتوں کی بنا پر ہی اللہ تبارک و تعالی نے حکم دیا وَاعْتَصِمُوْ بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیعَا وَّلاَ تَفَرَّقُوْ اے ایمان والو تم سب کے سب متحد ہو کر اللہ تعالی کی رسی کو یعنی دین اسلام کو تھام لو اور آپس میں تفرقہ بازی مت کرو یعنی مذہب کے طور پر یاعلاقائیت کی بنا پر یا زبانوں کے اختلاف کی بنا پر یا رنگ و نسل کی بنا پر یا امارت اور غربت کی بنا پر یا کسی بھی اور وجہ سے آپس میں تفرقے مت ڈالو اور جدا جدا ٹولیوں میں تقسیم نہ ہونا بلکہ سب کے سب ایک ہی سچے نبی ﷺ کی ایک ہی امت بن کر زندگی گذارنا ۔
دکھ اور افسو س کی بات ہے کہ امت مسلمہ انہی تعصبات میں پڑ کر گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ کسی علاقے کی شناخت کی بنا پر مثلا پٹھان، سندھی، بلوچی، پنجابی، سرائیکی کہلوانا کوئی عیب نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی زبان بولنا مثلا عربی، فارسی، انگریزی، اردو، پنجابی، سرائیکی یا دنیا بھر کی کوئی بھی زبان بولنا بھی کوئی عیب نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ تمام خطے اللہ تبارک و تعالی نے ہی بنائے ہیں اور تمام زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس کی یہ حکمت کے راز ہیں کہ اس نے اپنی پوری زمین کو آباد رکھنے کے لیے یہ تقسیم فرمائی۔ مگر ان میں سے کوئی بھی چیز دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے۔ جو شخص جس علاقے سے بھی تعلق رکھتا ہے یا جو بھی زبان بولتا ہے وہ عزت والا ہے عظمت والا ہے ۔ اور ہر زبان بولنے والا اور ہر خطے میں رہنے والا، دوسرے کا احترام کرنے کا از روئے دین وایمان پابند ہے ۔ آ ج کل افسوس کی بات یہ بھی ہے لوگوں کے ذہنوں میں لوکل مہاجر کی بھی ایک تفریق پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ بات کسی طرح بھی باعث فخر نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام جب مکہ مکرمہ میں تھے تو سب کے سب لوکل تھے جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو سب کے سب مہاجرین کی صف میں شامل ہو گئے ۔ مدینہ طیبہ کی آبادی انصار یعنی لوکل کہلائی ۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے قراٰن کریم میں متعدد بار مہاجرین و انصار کا لفظ استعمال فرمایا اور سب کے لیے اپنے انعامات کا وعدہ فرمایا۔ دین اسلام کی ترقی میں مہاجرین و انصار کا حصہ برابر ہے ۔ آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کو آپس میں الفت و محبت سے اور ایک دوسرے کا مکمل احترام کرنے کا سبق دیا ۔ اس کی تاکید کی اور زندگی مبارک کے آ خری لمحات تک یہ سبق دیتے رہے ۔
آپ نے تمام عصبیتوں کو بالکل برا جانا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ غزوہ بنو مسطلق سے واپسی پر فوج دوپہر کو ایک جگہ آرام کر رہی تھی۔ ایک کنویں سے پانی لینے کے لیے دو شخص گئے ان میں سے ایک شخص وہ تھا جو حجرت کر کے مدینہ طیبہ آ یا ہوا تھا اور ایک شخص مدینہ طیبہ کا ہی باشندہ تھا ۔ وہاں ان کا جھگڑا ہوگیا تو دونوں نے اپنے اپنے رشتہ داروں کو آواز دی اور وہاں موجود چند منافقین نے اسے لوکل مہاجر کا جھگڑا قرار دینے کی کو شش کی۔ حضور اکرم ﷺ وہاں پہنچے اور فرمایا کہ یہ کیا فضول باتیں میں سن رہا ہوں۔ میں نے جس جاہلیت کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالا تھا، تم اسی کو دوبارہ زندہ کرنا چا ہتے ہو ۔ اور فرمایا چھوڑ دو ان باتوں کو یعنی لوکل مہاجر کے نعروں کو تحقیق یہ گندی اور بدبو دار با تیں ہیں۔ آپ سب بھائی بھائی ہیں پھر آپ نے سب کی صلح کرا دی ۔ ان باتوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ میں جو اختلافی امور پائے جا رہے ہیں جس بنا پر قتل و غارت تک نوبتیں پہنچ رہی ہیں یہ سرا سر دین مذہب کے خلاف با تیں ہیں ۔ مسالک میں جو اختلاف ہے اگر علمی حد تک رہے۔ اختلاف مخالفت میں تبدیل نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان عالی ہے اختلاف امتی رحمۃ میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہوتا ہے تو اہل تحقیق کتب دینی پر زور دیتے ہیں اور کثرت سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مسئلے کا علمی حل تلاش کیا جاتا ہے ۔ اس قسم کے علمی اختلافات اصحاب رسول اللہ ﷺ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین تابعین فقہائے عظام کے درمیان بھی رہے ہیں۔ لیکن باہمی عزت و عظمت میں کبھی کوئی فرق نہ آ یا اور نہ ہی ایک دوسرے کے مقام و مرتبے کو پہچاننے میں کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پوری امت کو ایسے اختلافات سے محفوظ رکھے جو باعث نزاع و مخالفت ہوں جس بنا پر جھگڑا، فساد اور قتل و غارت کی نوبت پہنچے آمین۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کے احکامات اور اس کے پیارے پیغمبر ﷺ کی تعلیمات میں امن کا نمایاں درس ملتا ہے ۔ تمام انبیاء کرام صلوۃ اللہ علیھم اجمعین امن کے ہی داعی رہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو کہ بہت بڑی ہستی ہیں۔ جد الانبیاء ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی نے ان کے سات امتحانات لیے تھے۔ جن میں وہ 100 فیصد کامیاب ہوئے ۔ جب انعامات خداوندی پانے کے لیے دعائیں کیں تو ان میں ایک اہم دعا یہ تھی وَاِذْقَالَ اِبْرَاھِیمُ رَبِّ الجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ آمِنَا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنَّ نَعَبُدَ الْاَصْنَامَ ( سورہ ابراہیم آیت نمبر 35) ۔
آپ نے مالک الملک سے مکہ مکرمہ میں امن و سلامتی کے لیے درخواست کی ۔ ساتھ ہی بتوں سے اپنی اولاد کے بچنے کے لیے درخواست کی۔ اس لیے کہ توحید وحدانیت کا درس دیتی ہے ۔ اور بت برستی اختلاف افتراق کی واضح علامت ہے ۔ انہی کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام جب مصر میں اپنے لخت جگر سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے یہ وہ دور تھا جب کہ پوری دنیا میں قحط تھا۔ ان حالات میں جو نتائج نکلتے ہیں کہ چوریاں، ڈکیتیاں، قتل و غارت فتنہ دفساد برپا ہوتا ہے۔ وہ بھی سب جانتے ہیں۔ ان دنوں میں مصر میں غلے کی فراوانی تھی ۔ جب والد محترم مصر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا وَقَالَ الدْخُلُوْ مِصْرَ اِنْشَاءَ اللّٰہُ آمِنِینَ ۔ آئیے اس شہر مصر میں تشریف لائیے جو کہ بڑا امن والا ہے ۔ یہاں اندازہ لگائیں کہ ہر چیز کھانے پینے کی جو فراوانی سے حاصل تھی، ان کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ امن کو ترجیع دی ۔
آج کل اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جتنے مسلکی اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے اور تشدد کا پرچار کیا جا رہا ہے یہ اصول دین پر نہیں بلکہ فروعات پر بہت استوار ہے ۔ جو چیزیں فرض واجب یا سنن موکدہ کے درجہ کی ہیں، ان پر عمل کرنے کے لیے زیادہ زور نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ جو مستحب اعمال ہیں یا نفلی باتیں ہیں ان کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے اپنے مسالک کی ایک پہچان بنا دیا گیا ہے۔ مختلف مسالک کے مذہبی رہنماؤں نے اپنی پسند کو بھی دین کا درجہ دے رکھا ہے ۔ جس بنا پر پسند نا پسند کے جھگڑے شروع ہو تے ہیں۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ہمیشہ ایسے امور کو ہائی لائٹ فرمایا کرتے تھے جو انتہائی ضروری ہیں۔ سب کے لیے ان پر عمل کرنا لازم ہے ۔ اس سلسلے میں حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے کہ آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں بیت اللہ شریف اسی طرز پر بناؤں جیسے میرے داد ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا ۔ اس کی سطح زمین کے برابر تھی حطیم شامل تھا دروازے دو تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اس میں رکاوٹ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ بد امنی نہ ہو جائے۔ میری قوم قریش یہ نہ کہے کہ ان کا بنایا ہوا بیت اللہ شریف شہید کر دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اتنا بڑا عمل صرف امن کی خاطر چھوڑ دیا۔ آ ج تمام فرقے اسلامیہ غور کریں کہ ان کے درمیان جتنے اختلافات ہیں وہ زیادہ تر فروعات پر ہیں۔ اصول دین پر نہیں۔ اگر ہم سب فروعات کو اتنی اہمیت نہ دیں جتنی دی جا رہی ہے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو اتفاق و اتحاد سے رکھے۔
دنیا میں فسادات کا بڑا سبب ایک دوسرے کے حقوق تلفی ہے ۔ حق کسی کا ہو اور لے کوئی اور جائے ۔ اس سے جب احساس محرومی پیدا ہوتا ہے تو جھگڑے فساد کھڑے ہو تے ہیں۔ لوگ رشوت دے کر کام نکلواتے ہیں۔ جب کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے الراشی والمرتشی کلاہما فی النار رشوت دینے والا رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ کسی جگہ ہدیے تحائف پیش کرکے کام نکلوائے جاتے ہیں۔ جبکہ حکام کو حضور اکرم ﷺ نے ایسے تحائف لینے سے منع فرمایا ہے ۔ عَنْ جَابِرِؓ قَالَ قَالَ رَسُوَلُ اللّٰہِ ﷺ ھَدَایا الْاِمَامِ غَلُوْلُ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " امام وقت (یعنی حاکم اور فرماں روا ) کے لیے ہدیے " غلول" ( یعنی ایک طرح کی خیانت و رشوت اور ناجائز استحصال کی قسم سے ) ہیں۔ بعض جگہوں پر سفارش کے ذریعے ناجائز حق وصول کر لیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی حضور اکرم ﷺ کا واضح ارشاد ہے عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ شَفَعَ لِاَحَدِ شَافِعَۃَ فَاُھْدِیَ لَہُ ھَدِیۃُ عَلَیھَا فَقَبِلَھَا فَقَدْ اَتیٰ بَابَا عَظِیمَا مِنْ اَبْوَابِ الرِّبَا ( ابو داؤد :کتاب البیوع) حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نے ارشاد فرمایا : " جس نے کسی شخص کے لیے ( کسی معاملہ میں ) سفارش کی تو اگر اس شخص نے اس سفارش کرنے والے کو کوئی ہدیہ بھی پیش کیا اور اس نے قبول بھی کر لیا تو وہ سود کی ایک بڑی خراب قسم کے گناہ کا مرتکب ہوا "۔
ان حدیث پاک میں حکمرانوں کو عوام سے ہدیے تحائف لینے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ سفارش کے ذریعے ناجائز کام کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اس لیے کہ اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو تی ہیں ۔ پہلی خرابی تو یہ ہے کہ اگر کوئی حکمران ہدیے تحائف لینے کا عادی ہو جائے گا تو پھر جو بھی سائل ہدیے تحائف پیش کر سکے گا اسی کا کام ہوگا ۔ اور جو پیش نہ کر سکے گا اسے سوائے دھکے کھانے کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ اس طرح سے نفرتیں بڑھیں گی اور فتنہ فساد پیدا ہوگا ۔ آج کل آپ اپنے معاشرے میں غور کریں جتنے فسادات نظر آ رہے ہیں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حقداروں کو کما حقہ حقوق نہیں ملتے اور جن کا حق نہیں ہوتا وہ رشوت، سفارش سے حقوق لے جا تے ہیں ۔ اس طرح محروم رہنے والوں کے دلوں میں غیض و غضب کی آگ بھڑکتی ہے ۔ دنیا میں بد امنی فتنہ و فساد کا ایک بڑا سبب معاشی نا ہمواری بھی ہے۔ اگر چند افراد یا چند خاندان ملکی وسائل پر قابض ہو جائیں اور دوسروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع نہ ملے تو یہ بھی ایک بہت بڑا سبب فتنہ فساد کا ہوجاتا ہے ۔
ان سب خرابیوں کی بنیاد مسلمانوں کا اپنے سچے اور پیارے رہبر اعظم حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا ہے ۔ اس وقت واحد راستہ نجات اور امن کا یہ ہے کہ ہم سب قراٰن و حدیث کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی تعلیمات، آپ کے فرمودات عالیہ کو حرز جان بنا لیں اور انہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل کر لیں۔