پانامہ لیکس کے سوا ہنگامے اور بھی ہیں
- تحریر
- جمعہ 18 / نومبر / 2016
- 5183
فرصت بھی عجیب نایاب شے ہے۔۔ ڈھونڈنے کے باوجود غالب کو فرصت کے رات دن ملے اور نہ ہمیں کہ بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔ غالب خوش قسمت تھے کہ ان دنوں 24/7 چوکس میڈیا دستیاب نہ تھا اور یوں جو بری بھلی فراغت ملی اس میں دیوان غالب سمیت شعر و نثر کے نادر دبستان تخلیق کرگئے ۔ سننے کی حد تک ہم نے یہ بھی سنا کہ ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔ لیکن بھلا ہو اپنی طبعی افتاد اور ہمہ وقت چوکس میڈیا کا ، ایک ہنگامہ سرد نہیں ہوتا تو دوسرا سر اٹھا دیتا ہے۔ ایسے میں کہاں کا تصور جاناں اور کہاں کی فرصت کہ انسان ہوش و حواس بحال رکھے اور کچھ مزید سوچ پائے۔
اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کے ہنگامے سے فراغت ملی تو یوں کہ میدانِ کارزار اب عدالت عالیہ میں شفٹ ہو گیا ۔ ایک فریق کا اصرار کہ ثبوتوں کے ڈھیر کے ڈھیر ہیں۔ اک ذرا پیش ہو لیں ، مخالف پہلی پیشی پر ہی چت سمجھیں۔ دوسرے فریق کا اصرار کہ آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔ ہمارے تو ہاتھ بھی صاف ہیں اور ریکارڈ بھی۔ ایک بار ریکارڈ پیش ہوا تو الزام لگانے والوں کو مونہہ چھپانے کی جگہ نہ ملے گی۔ بلکہ ایک وزیر با تدبیر نے تو اپنی جوانی میں دیکھ رکھی فلم کا شہرہ آفاق ڈائیلاگ ٹویٹ کیا کہ تیرا کیا بنے گا کالیے؟ چوکس میڈیا کے اکثر بے چین اینکرز نے تو پہلی پیشی ہی کو تاریخی قرار دے ڈالا جس میں معمول کے مطابق عدالت فریقین کو جوابات کے لیے نوٹس دیتی ہے۔ بہرحال دونوں اطراف سے آنے والی ان پیشیوں پر ثبوت اور جوابات دا خل ہوئے تو عدالت کے ریمارکس میں کسی ایک کتاب کا بھی ذکر آیا اور اخباری تراشوں کا بھی۔ اور اخبار کی ایک دن کی طبعی عمر پوری ہونے پر اس کی افادیت میں پکوڑوں کا ذکر بھی آیا۔ پھر اچانک بھلی چنگی کہانی میں دھم سے ایک قطری شہزادے کا بھی ذکر خیر بھی آن ٹپکا ۔ ایک ہنگامہ اپنے انجام کو پہنچنے سے قبل ایک نیا ہنگامہ اٹھا گیا۔ گھر کی رونق کے لیے ایک ہنگامہ کیا کم تھا جو یہ نیا ہنگامہ بھی اچانک آن وارد ہوا۔
ہنگاموں کی اس بہتات اور میڈیا کی اس قدر مصروفیت میں کسے فرصت ہے کہ اس خبر کو گھاس ڈالے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ہن برسنے کے موسم میں سرمایہ کاری کی خشک سالی شروع ہو گئی ہے۔ اگر یہ خشک سالی اسی طرح جاری رہی تو یہ ہنگامہ بھی کوئی کم نہ ہو گا لیکن کیا کیجیے کہ ہم آجکل اٹھتے بیٹھتے قانونی نکات کی گتھیاں سلجھانے اور تلاشی دینے دلانے میں اس قدر محو ہیں کہ فرصت ہی نہ ملی کہ دیکھ پاتے کہ پہلے چار ماہ کے دوران براہِ راست سرمایہ کاری میں 48 % کمی آئی ہے ۔ کہاں یہ کہ ہم اربوں ڈالر کی آمد کا حساب کتاب جوڑے بیٹھے تھے۔ مگر پہلے چار ماہ میں خالص سرمایہ کاری فقط 316 ملین ڈالر رہی۔ وہ تو بھلا ہو ستمبر میں جاری کیے گئے سکوک بانڈ کا کہ جس کی مدد سے ایک ارب ڈالر عالمی مارکیٹ سے اکٹھے کیے گئے اور یوں زرِ مبادلہ کے ذخائر کا بھرم رہ گیا ورنہ اگر صرف براہِ راست سرمایہ کاری پر تکیہ کیے رہتے تو اب تک تکیے کی تلاش میں ہلکان ہو رہے ہوتے۔
ہلکان ہونے کی ضرورت تو پھر بھی ہے کہ ملک کے مالیاتی خسارے میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر نے مالی استحکام کا بھرم بنا رکھا تھا لیکن اب ان میں بھی مسلسل کمی آرہی ہے۔ مڈل ایسٹ کے حالات، ان ممالک کی بڑی معیشتوں کے اپنے مسائل اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین پر حکومت کے ٹیکس نیٹ کی کوشش نے مل ملا کر ترسیلات زر کو متاثر کیا ہے۔ ہمارے ہاں کی ہر آن بڑھتی ہوئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی وجہ سے باہر سے بھی اور یہاں سے باہر جا کر سفید ہو کر واپس آنے والے دھن میں ٹیکس گزاری کی جھک جھک کی وجہ سے جمود سا آ گیا ہے۔ حکومت بے چین ہے کہ رئیل اسٹیٹ کی بہتی گنگا سے اسے بھی ٹیکس کی صورت میں کچھ حصہ ملے جب کہ اس سیکٹر میں بلیک منی جس طرح پہلے چین سے پاؤں پسارنے کی عادی تھی، وہ اب بھی انہی شب و روز پر مصر ہے۔ شنید ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں درمیانی راستہ نکالنے کی کوششیں بار آور ہونے کو ہیں۔ جس کے بعد بازار کی رونق لوٹ آنے کی توقع ہے۔ لیکن اس وقت تک ترسیلات زر میں کمی پر اس کا دباؤ جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ بعد میں بھی شاید پہلے والی روانی نہ رہ سکے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات سدھرنے کا نام نہیں لے رہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور اندیشے نے جان عذاب میں کر رکھی ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات میں نو فی صد کمی ہوئی۔ ٹیکسٹائل مصنوعات میں چھ فی صد کمی ہوئی۔ اس کے برعکس درآمدات میں گیارہ فی صد اضافہ ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 29 فی صد بڑھ گیا۔ یعنی سات ارب ڈالر سے بھی زائد۔ وجوہات میں وہی ڈھاک کے تین پات ہیں کہ عالمی منڈی میں طلب سست روی کا شکار ہے۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہماری مسابقت کم ہے، ایکسچینج ریٹ میں کمی کی ضرورت ہے، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور سپلائی میں اضافے کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ۔ انجینئر خرم دستگیر جو تجارت کے وزیر با تدبیر ہیں۔ ، ارشاد فرماتے ہیں کہ حکومت کو ان مسائل کا ادراک ہے۔ برآمدات میں کمی اپنا جو بھی جوبن دکھانا چاہے دکھا لے، حکومت نے بھی 120 سے لے کر 180 ارب روپے کا ترغیبی پیکج سوچ رکھا ہے۔ ادھر برآمدات کی سانس کی لڑی ٹوٹنے کا موقع آیا ادھر حکومت جھٹ سے یہ ترغیبی پیکج دے کر سب اگلے پچھلے گِلے دھو ڈالے گی۔ وزیر تجارت کی خوش گمانی بجا مگر جانے والے واپس آتے ہیں اور نہ کھوئی ہوئی براّمدات اور ان کے گاہک۔ اسلم انصاری یاد آئے:
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
ابھی ابھی ہم یہ شادیانے بجا کر فارغ ہوئے کہ اب آئی ایم ایف سے مزید قرض کی ضرورت نہیں۔ اور یہ بھی کہ اس وقت مالیاتی انڈیکیٹرز قدرے مستحکم ہیں لیکن عین اسی لمحے یہ وسوسے بھی دل کو بے چین کرنے آ پہنچے ہیں کہ اگر محصولات میں ایف بی آر حسب توقع اضافہ نہیں کر پاتا تو حکومت کے پاس مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے لگے بندھے کیا راستے رہ جاتے ہیں؟ مزید ٹیکس لگا کر محصولات میں اضافہ کرے، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرے ، سبسڈی میں مزید کمی کرے۔ گزشتہ سال پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے 1.1 فی صد ہوا تو آئی ایم ایف سے طے کردہ فریم ورک میں رہنے کے لیے نئے ٹیکسوں کا ڈول ڈالا گیا۔ اس بار آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کے بعد ایسا کوئی دباؤ بھی نہیں، شاید اسی لیے پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 1.3 فی صد ہونے کے باوجود ایف بی آر میں کوئی غیر معمولی ہلچل نہیں ہوئی۔ شاید اس لیے کہ خزانے کی وزارت کا پتہ پتہ خود ہلانے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سپریم کورٹ میں کاغذات پورے کرنے اور ثبوت مہیا کرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ میں جاری کیس میں کیا کیا نئے موڑ آئیں گے، تلاشی ہو پائے گی یا ثبوتوں کے پلندے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ یہ ہنگامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ پائے گا یا اپنے خمیر سے نئے ہنگاموں کو جنم دے گا لیکن ہمیں معیشت کے خمیر میں ہونے والی تبدیلیوں سے بے چینی ضرور ہے۔ ہم تو خیر بے چینی تک محدود ہیں لیکن سکہ بند معیشت دان تو اگلے پچھلے حساب کتاب اور مثالوں سے سمجھانے پر مصر ہیں کہ معیشت کے یہ ٹھاٹھ بس وقتی لیپا پوتی ہیں۔ تجارتی اور مالیاتی خسارے کا یہی رجحان رہا تو بات دور تلک جائے گی۔ ہو سکتا ہے ان کی بات میں کچھ وزن ہو لیکن ہمیں اس پر غور کی فرصت کہاں ہے۔ ہمیں اور بے چین اینکرز کو تو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اس کہانی میں ایک ہی شہزادہ ہے یا کوئی اور بھی ہے۔ ایسے میں معیشت کو لگنے والے ان زخموں کی پڑتال کون کرے اور کیوں کرے۔