ترک صدر کی آمد پر پنجابیت کا مظاہرہ
- تحریر محمود شفیع بھٹی
- جمعہ 18 / نومبر / 2016
- 5692
ترکی ماضی میں مسلم امہ کا لیڈر، خلافت عثمانیہ کا علمبردار اور دور حاضر کا جدید ترین ملک ہے۔ ترکی کے برصغیر کے مسلمانوں سے تعلقات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس خطے کے لوگوں کا ماضی میں خلافت عثمانیہ سے جذباتی اور مذہبی لگاؤ تھا۔ جب خلافت خطرے میں آئی تو برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت چلائی۔
خلافت کا خاتمہ اور مصطفی کمال کی مذہب سے بیزاری نے مسلم امہ کو سعودیہ کی جانب جھکاؤ پر مجبورکیا۔ لیکن وقت گزرتا گیا اور ترک معاشرے میں ایک ایسے شخص کا ظہور ہوا، جو عوامی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہے۔ طیب اردگان نے اس وقت اقتدار سنبھالا جب ترکی کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ ترک کرنسی گر چکی تھی، اور ملک انتشار کا شکار تھا۔ لیکن اس مرد سیاست و معاشرت نے آج دنیا کے سامنے ترکی کو مضبوط ریاست بناکر کھڑا کردیا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو پھر سے مسلم امہ کی قیادت کے لیے تیار ہے۔
ترک صدر نے جمعرات کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جس میں ماضی کا ذکر بھی کیا اور حال پر بھی بات کی۔ ترک صدر نے پاکستان کے ساتھ دوستی پر فخر کا اظہار کیا ۔ اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری کے لیے کردار کا یقین دلایا۔ انہوں نے داعش کو غیر اسلامی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے ، مغرب پر تنقید کی کہ یہ سب مغرب کی سازشوں کے نتائج ہیں۔ ترک صدر نے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیا۔ طیب اردگان کے خطاب کے مندرجات کا مختصر اظہار کردیا گیا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس دوران میں پاکستانیت کی کمی اور پنجابیت ہر طرف دکھائی دی۔ ہر طرف پنجابی قیادت نظر آرہی تھی۔ ترک صدر ریاست پاکستان کےمہمان تھے لیکن رویوں سے یہ پنجاب کے زیادہ مہمان نظر آئے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ میاں فیملی کے صدر اردگان سے ذاتی تعلقات ہیں۔ لیکن ذاتی تعلقات کو دوام بخشنے کے لیے ریاست پاکستان کے وسائل کیوں کر استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اگر اردگان واقعی ریاست پاکستان کے مہمان تھے تو اس موقع پر دوسرے صوبوں سے کوئی لیڈر کیوں نظر نہیں آئے۔ کیا سندھ میں حکومت نہیں ہے۔ کیا پختون خواہ کا کوئی وزیراعلی نہیں ہے۔ یا پھر بلوچوں کی نمائندگی نہیں ہے۔
ذاتی تعلقات کو سیاست میں لانا اور پھر سیاست کو ایک صوبے تک محدود رکھنا، اس پس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کبھی وفاق کی علمبردار جماعت نہیں ہوسکتی۔ (ن) لیگ کی قیادت میں پنجابیت ابھی بھی ختم نہیں ہوسکی۔ جس سے چھوٹے صوبوں میں احساس کمتری بڑھ رہا ہے۔ یہ احساس کمتری انارکی کو فروغ دے رہا ہے جو آگے چل کر وفاق کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔