بھارتی وزیر اعظم کے نام ایک شاعرہ کا کھلاخط
(بھارت میں 500 اور 1000 کے نوٹوں کی منسوخی اور نئے نوٹوں کی وصولی میں مسائل سے انسانیت سوز واقعات سامنے آئے ہیں۔ نوٹ تبدیل نہ ہونے پر کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا رقم نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہ ہو سکا اور وہ جانبر نہ ہوئے۔ اس تکلیف دہ صورت حال میں ممبئی میں مقیم بھارت کی معروف شاعرہ لتا حیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھا ہے جو یہاں شائع کیا جا رہا ہے)
عزت ماب پردھان منتری جی
آداب !
میں وہ عام جنتا ہوں جو کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ، جس کی آپ سے کوئی شخصی دشمنی نہیں اور نہ ہی مستقبل میں جس کا سیاست میں آنے کا کوئی اِرادہ ہے۔ مجھے تو کوئی نام اور انعام بھی نہیں چاہیئے۔ بس سکون کی زندگی اور عزّت سے دو وقت کی روٹی چاہیئے۔ کبھی کچھ خبریں آپ کے لئے دل میں ناراضگی کا سبب پیدا بنتی ہیں تو کبھی کبھی آپ کی شخصیت کے کچھ پہلو ہزار عدم اتفاق ہونے کے باوجود مجھے حیران اور متاثر کر جاتے ہیں۔ بِلا شک آپ بہت اچھے مقرر ہیں۔ لوگوں سے جُڑے رہنے کی آپ کی کوشش اور کام کے تئیں آپ کا جوش آپ کی کا میابی کا راز ہے۔ سلیقہ مند ، ادب میں مہارت اور ہر کام میں دلچسپی اور بچوں سا ’’ ہاس۔پری ہاس‘‘ قابلِ تعریف ہے۔
اوہ ! بچوں کی بات سے یاد آیا کہ آج تو ’یومِ اطفال ‘ ہے۔ لیکن گستاخی معاف، ’یومِ اطفال‘ کی مبارکباد نہیں دوں گی۔ کیونکہ ’ دھن یوجنا‘ سے کہیں بچوں کی اموات ہو ئیں تو کہیں اُن کے ماں باپ کے لئے دُعا کیجئے کہ آج کسی کی سانس نہ بند ہو جائے، جیسے پُرانے نوٹ بند ہوئے ہیں۔ ملک کے عوام تو آپ کو 50 دن کا وقت دے دیں گے۔ پی ایم صاحب پر کیا آپ کسی ماں کی گود میں اُس کا بچّہ واپس دیں گے؟ آپ نے دیش کی وجہ سے گھر چھوڑ دیا، پر آپ کی وجہ سے کئی لوگوں نے دُنیا ہی چھوڑدی۔ کبھی دوسروں کے لئے بھی رو لیجئے۔ صرف لمبی قطاریں آپ کو نظر آرہی ہیں۔ دوسری خبریں نہیں یا آپ دیکھنا نہیں چاہتے؟
ہو سکتا ہے آپ کی نیّت ٹھیک ہولیکن پلا ننگ ٹھیک نہیں ہے۔ اگر یہ سب کرنا ہی تھا، جس کا اختیار ’ہم‘ نے آپ کو دیا ہے تو عوام کو ہونے والی تکیفوں کا بھی شُمار کیا ہوتا۔ اسپتال اور بنکوں میں اپنی پوری مشینری لگادی ہوتی یہ دیکھنے کے لئے کہ سرکاری احکامات پر سختی سے عمل ہورہا ہے یا نہیں۔ آپ کے پاس حکومت، طاقت، اختیار اور گُرگے سب تو ہیں لہٰذا کوئی بہانا نہیں چلے گا۔ جو پیسے والے ہیں وہ اپنے پیسے گنگا میں بہائیں یا جلائیں، اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑےگا۔ کیونکہ اُن کے گھر سے کوئی نہیں مرے گا۔ جن کے گھروں میں سال بھر کا راشن بھرا ہوا ہے، وہ بھی شکایت نہیں کریں گے۔ جنہوں نے ماضی میں آپ پر ذاتی اعتراض کرنے والے لوگوں کا غصہ اور مقدمہ جھیلا ہو وہ تو آپ کی حمایت کرکے اپنے پرانے گناہ دھونے کی کوشش کر ہی رہے ہیں۔ لیکن میں رعایا ہوں اور اپنے بادشاہ سے انصاف کی امید رکھتے ہوئے اپنے ’دل کی بات‘ کہہ رہی ہوں۔ اور پورے حق سے یہ مانگ کرتی ہوں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا، کم سے کم آگے کے پچاس دنوں کے لئے کچھ ایسا منصوبہ بھی بنالیں کہ کسی کی جان تو نہ جائے۔
آپ نے اچھے منصوبے بھی بنائے ہیں (صاف بھارت، ٹوائلٹ وغیرہ) لیکن ہر بار کی منصوبہ بندی کارگر ہو اور حکومت صحیح ہو، ضروری تو نہیں۔ کبھی بری پلاننگ بھی چمتکار کر دیتی ہے تو کہیں اچھی منصوبہ بندی بھی ہاہاکار مچا دیتی ہے۔ آپ نے بے شک یہ اچھی نیت سے کیا ہے لیکن یقین جانیے زیادہ تر عوام ترامام- ترامام کر رہی ہے۔ حکومت، گویا کوئی وبا پھیل گئی ہو یا قدرتی آفت آن پڑی ہو۔ افسوس کہ آپ نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا۔ اميرِ شہر کی نظر سے، کسی غریب کی نظر سے، سینئر سٹیزن کی یا دہاڑی مزدور یا کاروباری بچوں والی عورت کی نظر سے بھی دیکھتے ۔
ورددھا آشرموں میں رہنے والی ماؤں نے آپ کو آشیرواد دیا۔ خوشی ہوئی۔ لیکن جن کا کوئی ہے ہی نہیں۔ ان تنہا بزرگ ماں باپ کے لئے لائن میں لگے بغیر ان کے گھر پیسے پہنچانے کا کوئی منصوبہ ہے؟ جب گھر بیٹھے اکاؤنٹ کھلوایا جا سکتا ہے تو نوٹ کیوں نہیں تبدیل کروایا جا سکتا؟ شہید تو جان کی پرواہ نہیں کرتے تو سیاست مشینری کی کیا ان کی پرواہ کرتی ہے؟ شہیدوں کے گھر والوں کو بھی اگر اے سی سہولت مل جاتی تو ان کی روح کو سکون مِل جاتا۔ ویسے آپ کے لئے یہ ناممکن بھی تو نہیں۔ حکومت آپ کی، حقوق اور طاقت آپ کے پاس، پوری مشینری آپ کے کنٹرول میں اور آپ کےہزاروں کارکن، فین اور ان سب سے بڑھ کر آپ کا حوصلہ اور فیصلہ لینے کی صلاحیت۔ آپ دنیا میں ہندوستان کو ایک طاقتور قوم کے طور پر اُبھار سکتے ہیں، جراحی ہڑتال کرنے کا دم خم رکھتے ہیں، دوردرشتا رکھتے ہیں تو مجھے یقین ہے عوام کے درمیان گھوم کر، ان کی تکلیفوں کو دور کر سکتے ہیں۔ نوٹ تبدیل کر سکتے ہیں تو نوٹ تبدیل کرنے کا قانون کیوں نہیں۔
اصول عوام کے لئے ہونے چاہئے، عوام اصول کے لئے نہیں۔ پرانے زمانے میں بادشاہ عوام کے درمیان بھیس بدل کر جاتا تھا، ان کے دکھ درد سمجھتا تھا اور پھر اپنے مشیروں سے مشورہ کر انہیں دور کرتا تھا۔ جس نے بھی آپ کو یہ نیک مشورہ دیا، ممکن ہے اس کے دور رس نتائج اچھے ہوں لیکن سميپگامي نتائج کےلئے عوام کی رائے بھی کچھ معنی رکھتی ہے۔ پردیسیوں سے مل لیتے ہیں، ہم وطنوں سے بھی ملئے۔ دور دور سفر کر لیتے ہیں تو اس موقع پر سیاسی اجتماعات کے علاوہ کبھی چپکے سے کسی اسپتال، بینک بھی جائیے یا اپنے لوگوں کو بھیجئے تاکہ حقیقی بدعنوانوں کی وجہ سے آپ کے عوام کی جان نہ جائے۔ اور كالابازاريوں میں بھی دہشت پھیلے۔ اُن اسپتالوں پر قتل کا کیس درج ہو جنہوں نے علاج کرنے سے منع کیا۔ طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑے خالی جیب لوگوں کو ہم پانی، ناشتہ تو دے سکتے ہیں، پر غریبوں کا کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ نہیں بنوا سکتے۔
راتوں رات یہ سب اُن کے جن دھن یوجنا کھاتے کھلنے کے ساتھ ہی اِن کو سمجھا دیا گیا ہوتا تو آج اخباروں میں بہت روتی ہوئی تصویریں نظر نہ آتیں اور نہ ہی میں یہ خط لکھنے پر مجبور ہوتی۔ کیونکہ يک بارگي تو مجھے بھی شروع میں یہ ٹھیک ہی لگا اور خاص پریشانی بھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ برُے وقت میں ہم کٹوتی سے ہی کام چلاتے ہیں۔ بلکہ ہمیں تو اب 500 میں ایک ہفتہ بھی کس طرح نکالا جا سکتا ہے، یہ نصیحت ملی ہے۔ شاید کفایت کرنے کی بھی عادت ہی پڑ جائے لیکن سوال پھر بھی وہیں کا وہیں ہے کہ جو لوگ جان سے گئے کیا واپس لوٹ آئیں گے ؟
ایک طرف ٹی وی پہ آپ کا خطاب کہ سب ٹھیک ہو جائے گا تو دوسری طرف عوام کا كردن کہ سب برباد ہو جائے گا۔ تو عادت سے مجبور نکل پڑی لوگوں کی رائے جاننے۔ ہر کوئی پریشان نظر آیا۔ سبزی والے، ٹیکسی والے، روز کما کر کھانے والے۔ بہت برُا ہوا میم صاحب، دھندہ رک گیا، کسی کو گاؤں جانا تھا، کسی کے یہاں شادی رک گئی اور جانے سیاست کی نظر میں ان کے یہ چھوٹے فالتو کام ، کچھ محاورے بھی اب سمجھ آئے جیسے- آٹے کے ساتھ گھن پسنا، جرم کس کا سزا کس کو، آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلنا، ٹھالا بنیا کیا کرے، پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنا ، لیکن ان سب سے بڑھ کر" جان ہے تو جہان ہے "۔ یقینا جو صدمے سے مر گئے انہیں ہم نادان اور پست حوصلہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کی کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے۔ Honour killing کی طرح میں تو اسے Honour suicide کہوں گی. ویسے ابھی تک تو کسی امیر آدمی کے مرنے کی خبر نہیں آئی۔ کیونکہ مرتا تو بے چارہ غریب ہی ہے۔ پستي توعوام ہی ہے۔ تو عوام آپ سے یہ گزارش کر رہی ہے معزز وزیراعظم کہ صرف کچھ دنوں کے لئے نوٹوں کی ادلا بدلی کے عوض میں اس کی جان کی حفاظت کی ضمانت تو دے دی جائے، ہم نے آخر آپ کو ووٹ دیا ہے۔ ہم سب آپ کے اس ساہسک ہی نہیں بلکہ تاریخی قدم میں 50 دن تو کیا 500 دن ساتھ دیں گے، بشرطیکہ آپ اپنا نعرہ لگانے کی بجائے (چاہے مجھے زندہ جلا دو) عوام کے نعرے پر غور فرمائیے کہ -- ہمیں زندہ بچا لو ۔۔۔
میں تو عام عوام ہوں۔ اپوزیشن جماعت نہیں تو اسے ذاتی تنقید یا شکایت نہ سمجھیں۔ لیکن ہمارے رہنما کے ناطے آپ کو ہماری شکایت سننی پڑے گی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خط پوسٹ کرنے کے بعد تنقید تو مجھے بھی جھیلنی پڑے گی، ان لوگوں کی جو ہر مسئلے کو سیاست اور مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تو چلئے ہم بھی دیکھتے ہیں اور آپ پر چھوڑتے ہیں:
اب کیا ملے گی مجھ کو سزا آپ سوچئے
میرا قصور یہ ہے کہ سچ بولتی ہوں میں
ویسے خط ختم کرنے سے پہلے ایک نیک مشورہ کہ عوام کو بھی اپنے ذاتی مشیروں میں شامل کر لیجئے تبھی سب کا ساتھ، سب کا وِکاس ہوگا۔
شکریہ
فقط
لتا حیاؔ ممبئی۔
(عام عوام میں سے ایک اور ایک ہندوستانی)