جب جمہوریت مایوس کردے

جمہوریت سے وابستہ امیدیں جب مایوسی میں ڈھل جائیں تو تب " ڈونلڈ جے ٹرمپ" جیسے کھرب پتی جمہوری امید کے محور بن جاتے ہیں۔ ہم بے شک کہتے رہیں کہ وہ دنیا کے لیے خطرہ ہے، وہ امریکہ کے لیے خطرہ ہے، وہ امریکہ کے لیے اللہ کا عذاب بنے گا۔ لیکن اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ اُس پہ چھ کروڑبہتر ہزار پانچ سو اکاون(60072551) لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

یہ کہنے کی بجائے  کہ اتنے لوگوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، یہ کہنا چاہئے کہ اتنے ہی لوگوں نے سہل پسند جمہوری عوام ، ناکام جمہوریت، اور ناکافی سیاسی اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ امریکی تاریخ کے پہلے سیادہ فام صدر باراک اوباما پورے دور صدارت میں سوائے اس کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہ دے سکے کہ وہ پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہیں۔ یہ ٹرمپ کی جیت سے زیادہ چھ کروڑ سے زائد لوگوں کا اوبامہ انتظامیہ سمیت لبرل جمہوری قوتوں پر عدم اعتماد ہے۔ ایسی قوتیں جو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ جو ٹرمپ کے بیانات کو دیوانے کی بڑھک سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ صرف بڑھکیں ہیں۔ لیکن ٹرمپ نے عوام کے دلوں میں عدم تحفظ کاخوف پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔

ٹرمپ کی صدارت میں دنیا کیسی ہو گی؟ یہ ایسا سوال ہے جس نے ہر ایک کو پریشان کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے امریکہ  میکسیکو بارڈر پر دیوار کی تعمیر ایک ایسا فیصلہ ہو سکتا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  کم و بیش پانچ سے سات سال کی سفارت کاری کے بعد 2015 میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے ہونے والی نیوکلیئر ڈیل بھی ٹرمپ کی شدت پسندانہ سوچ کے لئے ایک امتحان ہوگی۔  اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سلواکیہ کے  دورے کے دوران کہا تھا  کہ اگر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد نیوکلیئر معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو ایران کے پاس دیگر آپشن موجود ہیں۔ اس بیان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دنیا کا منظر نامہ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد کس قدر متاثر ہو رہا ہے۔

ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کے منظر نامے کا سب سے دلچسپ پہلو امریکہ کے 25سے زائد شہروں میں احتجاج ہونا اور امریکہ کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے کا اس احتجاج کی بھرپور کوریج کرنا ہے۔  اس ادارے پر ٹرمپ انتخابی مہم میں جانبدار ہونے کا الزام بھی لگا چکے ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکہ کی تقسیم کے خدشات کو Calexit نے مزید تقویت پہنچائی ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے طرز پر  2019 میں کیلیفورنیا میں ایک ریفرنڈم ہونا ہے۔ بشرطیکہ یس کیلیفورنیا نامی کمپنین کامیابی کا زینہ طے کرلے۔ اس دلچسپ کمپین کے بارے میں جاننے کے لیے yescalifornia.org ضرور وزٹ کیجیے۔ اور خدشات اور امکانات اس کی کامیابی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ کیوں کہ کیلیفورنیا کے 60فیصد سے زائد لوگوں نے ہیلری کو صدر دیکھنا چاہاتھا۔

ٹرمپ کی صدارت کا اگلا امتحان پیرس ماحولیاتی آلودگی کا معاہدہ ثابت ہوگا۔ کیوں کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں اس معاہدے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پینٹا گون کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات بھی  قابل غور ہوں گے کیوں کہ ہیلری کی انتخابی مہم میں ٹرمپ کو روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جس طرح ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران ہیلری کی ای میلز کے حوالے سے روس سے مدد مانگ چکے ہیں اور روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اعتراف کہ مہم کے دوران ان کا ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ کچھ رابطہ رہا تھا،  یہ صورت حال ٹرمپ کے پینٹا گون کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دلچسپ ہو گی۔ امریکی نشریاتی ادارے کی پینٹا گون رپورٹرباربرا سٹار کے مطابق مہم کے دوران ٹرمپ نے دہشت گردوں سے تفتیش کے دوران  واٹر بورڈنگ جیسے حربوں جائز قرار دی اتھا۔ حالانکہ یہ طریقہ  امریکی و عالمی قوانین میں ممنوع ہے۔  پینٹاگون پریس سیکریٹری پیٹر کوک کا بیان بھی موضوع بحث ہے کہ امریکی افواج کسی غیرقانونی حکم نامے کو ماننے سے انکار کر سکتی ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا، عراق کے معاملات، داعش سے نمٹنا اور  شام کا بحران، ایسے مسائل ہیں، جن میں ٹرمپ اور موجودہ فوجی قیادت کے موقف میں فی الحال واضح فرق نظر آتا ہے۔

جب معتدل جمہوری قوتیں موقع ملنے پر بھی خود کو ثابت نہ کر سکیں۔ اور لوگوں کو تحفظ نہ دیں۔ پھر جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ٹرمپ ، مودی ، السیسی جیسے راہنما عوام کی امیدوں کا محور بن جاتے ہیں۔ ٹرمپ  اور مودی جیسے راہنما جب خود کو عوام کے سامنے جمہوریت کے علمبردار ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں، تو ان کی کامیابی پر واویلا کرنے کے بجائے حقیقی جمہوری راہنماؤں کو اپنی خامیوں کو تلاش کرنا چاہئے۔ ان کمزوریوں پر قابو پانے  کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ایسے عناصر عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔