بوریا بستر۔۔۔۔۔۔
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 20 / نومبر / 2016
- 7223
تاریخ کے مختلف ادوار کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے تاکہ اس کی مناسبت سے وقت کا تعین کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر پتھر کا زمانہ، جب انسانوں نے پتھروں کو گھس کر ہتھیار بنانا سیکھا۔ اسی طرح سے دھات کا زمانہ اور آج کے دور کو پلاسٹک کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ہماری تاریخ کا ایک دور پٹ سن کا زمانہ بھی کہلانا چاہئے ۔ تب یہ سنہرا رہشہ نہ صرف بہت اہمیت کا حامل تھا بلکہ بہت قیمتی بھی ہوا کرتا تھا۔
گو کہ جوٹ کا زمانہ بھی لد گیا ہے۔ ورنہ کاروبار میں اس کا ایک اہم مقام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سنہرے ریشے کا ملک بھی اب وہ نہیں رہا جو وہ کبھی تھا۔ اس دور کے بڑے بڑے کاروباری حضرات بھی اسی سنہرے ریشے کی بنی بوری اور بوری سے بنے بوریا پر بیٹھ کر تجارت کیا کرتے تھے ۔ نوٹوں کی ایک تہہ اس بوری یا بوریا کے نیچے ہوتی اور اوپر بوریا بچھایا اور اس پر براجمان ہو گئے سیٹھ صاحب۔ بوریے میں سارا کالا دھن بھی چھپ گیا۔
پٹ سن یا جوٹ سے بنی بوری میں چاول، کافی، مصالحہ جات اور جانے کیا کچھ ادھر سے ادھر ہوا کرتا کہ یونین جیک کا پھریرا خشکی و سمندر پر لہراتا رہتا تھا۔ البتہ پٹ سن سے بنے پھریرے سے یونین جیک کا جھنڈا بنانے میں قباحت اس کے وزن کی وجہ سے تھی۔ کیونکہ ایسا کوئی جھنڈا لہراتا نہیں۔
دیسی لوگ دیسی کام۔ اسی بوریا سے گھروں کے باہر کے پچھلے دروازے کو ڈھانپے اور پردے کی خاطر استعمال کیا جاتا اور وہ ٹاٹ کا پردہ کہلاتا تھا۔ کبھی کبھی یہ کسی گھر کا سراغ لگانے کے کام بھی آتا۔ مثلا کہا جاتا کہ جاؤ اس گھر کی نشانی یہ ہے کہ وہاں ٹاٹ کا پردہ لگا ہے۔ ٹھاٹ باٹ کے دور میں ٹاٹ کا پردہ عسرت کی نشاندہی تو کرتا تھا مگر باعث شرم ہر گز نہ تھا۔ نہ ہی کسی احساس کمتری کا سبب ۔ بلکہ ہمارے اسلاف تو اس بات کو باعث فخر جانتے تھے کہ وہ بوریا نشین کہلاتے تھے۔ ان کی کل کائنات بس ایک بوریا ہوتی تھی۔ اسی دور میں البتہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند جیسے محاورے نے خاصی بد مزگی پھلا دی تھی۔
مگر جب یہ بوریا، بوری ہوئی تو اس کی اقسام کے ساتھ ساتھ اب اس کا استعمال بھی بدل گیا۔ گورے لوگ تو اب ٹاٹ کی بوری میں کچھ بھی خرید و فروخت نہیں کرتے، نہ ہی سودا سلف لاتے ہیں اور کوئی تجارت بھی نہیں کرتے۔ پھر ہمارے یہاں بھی بوری کے مفہوم بدل گئے۔ جوٹ کی بوری کی جگہ کپڑے کی بوری نے لےلی ہے۔ اور اب ادیگر استعمال کے علاوہ دھمکیاں دینے کے کام بھی آنے لگی ہے۔ یعنی کسی کو کہہ دیا کہ اس کے سائز کی بوری تیار ہے۔ تو اسے اپنے سامنے موت ناچتی نظر آنے لگی۔ یہ بھی بوری میں تجارت کی ایک شکل ہے۔
اصل میں بوری اور بوریا دونوں ہی متروک ہوچکے ہیں۔ جبھی تو اب اصل محاورہ بوریا بستر باندھو، بوری بستر باندھو میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف کا کام حکومت کا بوری بستر لپیٹنے کی راہ ہموار کرنا ہی رہ گیا ہے۔ یعنی مثبت تنقید، غلطیوں کی نشاندہی اور ملکی اور اہم خارجہ معاملات میں حکومت کا ہاتھ بٹانا، یا عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹانا تو جیسے پاکستانی حزب اختلاف کی قطعی کئی ذمہ داری نہیں۔