بے نظیر بھٹو کے استقبال پر امریکی پرچموں کا جلنا
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- سوموار 21 / نومبر / 2016
- 7545
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو مارشل لاء لگنے کے بعد جب مری سے رِہا ہوکراگست 1977 میں لاہورپہنچے تواُن کے استقبال نے جنرل ضیا اوراُس کے ’’رفقا‘‘ کی نیندیں حرام کردیں۔ یہ استقبال فوجی جنتااوربھٹومخالف سیاسی وانتخابی اتحاد پی این اے (پاکستان قومی اتحاد) کے اس دعویٰ کی نفی تھی کہ بھٹوغیرمقبول ہوچکے ہیں۔
شام تک اُن کے طیارے کولاہوراترنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی، جب کہ دوسری طرف لاہورکی تمام شاہراہیں جوائیرپورٹ کی طرف جاتی ہیں، لوگوں کے ہجوم کے سبب جام ہوچکی تھیں۔ وہ رات دیرگئے شادمان میں سابق وزیراعلیٰ صادق حسین قریشی مرحوم کے ہاں پہنچے۔ میں نے اُن کی تقریراُن کے پہلومیں بیٹھ کرسنی۔ آدھی رات کوانہوں نے صادق قریشی کے گھر کی بالکنی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’امریکہ میری جان کادشمن ہے۔‘‘ اس کے دوسال بعد اُن کو سزائے موت دے دی گئی ۔ اس دوران انہوں نے دورانِ مقدمہ اپنی اپیلوں، درخواستوں اورمختلف تحریروں میں باربارلکھا کہ کس طرح امریکہ نے اُن کی حکومت کاخاتمہ، ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ کی مخالفت، جنرل ضیا کی آمریت کی سرپرستی اوراُن کوجسمانی طورپرمٹانے کے لیے سازش تیارکی۔ جنرل ضیا کی آمریت کے خلاف پی پی پی کے کارکنوں نے ایک ایسی جدوجہد کی جس کی مثال پاکستان میں نہ اس سے پہلے اورنہ ہی بعد میں دیکھی جاسکی۔ پشتوں پرکوڑے، زندانوں میں الٹا لٹکا کرتشدد کی اور ظلم کی رونگٹے کھڑی کردینے والی داستانِیں۔ کارکنوں نے یہ جدوجہد اپنے عمل سے رقم کی۔ اُن کارکنوں کی تعدادایک لاکھ کے قریب ہے جنہوں نے اس سطح پرجدوجہد کی۔ آمرحکومت اوربھٹومخالف سیاسی جماعتیں یہ یقین کیے بیٹھی تھیں کہ اگرسیاسی طورپربھٹوختم نہیں کیاجاسکا، تو اُن کے قتل کے بعد پارٹی تتربترہوجائے گی۔ اِن لوگوں کے وہم وگمان ہی بھی نہیں تھا کہ پی پی پی کے جانثارکارکن دِل ہلادینے والی جدوجہد کے سبب ایک لڑکی (بے نظیر بھٹو) کوسربراہ حکومت بنوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس ساری جدوجہد میں بیگم نصرت بھٹونے کلیدی کرداراداکیا۔ انہی کی جدوجہد نے پی پی پی کے اندرعبوری قیادت Leadership Transition کی کمی پوری کی۔ اگر بیگم بھٹونہ ہوتیں یا وہ یہ کردار ادا نہ کرتیں تومیں دعویٰ سے کہہ رہا ہوں کہ بے نظیر کبھی بھی پاکستان کی لیڈربننے میں کامیاب نہ ہوتیں۔ ذوالفقارعلی بھٹوکے خلاف پی این اے(پاکستان قومی اتحاد) کی تحریک کے دنوں سے پارٹی کے قائد ذوالفقارعلی بھٹونے بارباریہ کہا کہ امریکہ اُن کے خون کا پیاسا ہے۔ حکومت ختم ہونے کے بعد بھی، اورجب قتل کردیاگیا توپھراس کے کارکن جوانمردی سے آمریت اورامریکی سامراج کے خلاف لڑے۔ تب افغانستان کے حوالے سے امریکہ، پاکستان کے دائیں بازوکے لوگوں کاآئیڈیل تھا اوراسامہ بن لادن جیسے لوگ اِن کے اورامریکی پالیسی سازوں، عوام اورہالی وڈ کے حلقوں میں ہیروکے طورپرجانے جاتے تھے۔ اس صورتِ حال میں پی پی پی کے کارکنوں نے آمریت اورامریکی سامراج کے خلاف مسلسل جدوجہدِ کی۔ اورباربارکہا، آئین کاقاتل امریکہ، جمہوریت کاقاتل امریکہ، بھٹوکا قاتل امریکہ۔ یہ نعرے دیگرنعروں کے علاوہ پارٹی کے کارکنوں کے مقبول ترین نعرے تھے۔
اس دوران پارٹی کے اندر پنجاب کے کارکنوں نے دیگرصوبوں سے زیادہ جدوجہد اورقربانیاں دیں۔ اس جدوجہد کی اندرونی کہانی یہ ہے کہ یہ پارٹی میں بائیں بازوکے دھڑے کی سب سے اہم اورآخری جدوجہد تھی۔ اس کی قیادت پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید مرحوم کررہے تھے۔ اس وقت پارٹی کے اندر جن لوگوں کا اعلیٰ سطح پراثرورسوخ تھا، سردارفاروق لغاری اس دھڑے کی قیادت کررہے تھے۔ اُن کو چند درمیانے طبقے سے ابھرنے والی قیادت کی حمایت بھی حاصل تھی اوربے نظیر بھٹوکی سرپرستی بھی۔ پنجاب میں سب سے زیادہ جیلیں بھرنے ، کوڑے کھانے اورجدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کاتعلق پارٹی کے بائیں بازوکے لوگوں سے تھا۔ ہم لوگ سمجھتے تھے کہ ہم جدوجہد کے سبب پارٹی پراپنا اثرورسوخ قائم کرلیں گے۔ یہ دھڑا ملک میں آمریت اورجاگیرداری اورخطے میں امریکی سامراج کا مکمل مخالف تھا اوربے نظیر بھٹو کو پارٹی کا قائد مانتا تھا۔
جب جنرل ضیا نے عوامی دباؤ اورامریکی حکم کے تحت 1985 میں نام نہاد جمہوریت بحال کرنے کا آغاز کیا تو محمد خان جونیجو وزیراعظم بنائے گئے۔ امریکی یہ سمجھتے تھے اگرجنرل ضیا کی آمریت اسی جبرکے ساتھ جاری رہی توپاکستان میں ایرانی طرزپرانقلاب برپا ہوجائے گا۔ 1983 کی ایم آرڈی کی تحریک نے امریکیوں کویہ سوچنے پرمجبورکیا۔ اورامریکیوں نے بڑی تگ ودوسے جنرل ضیا کوجمہوریت کا پیوند لگانے کی ترغیب دی تاکہ سیاسی فضا میں دباؤکم ہو اوریوں سندھ وپنجاب میں ابھرتی انقلابی صورتِ حال کو رفوکیا جا سکے۔ اس دوران پیپلزپارٹی جہاں مکمل طور پر جمہوریت پسند اور آمریت مخالف جماعت بن کرسامنے آئی، وہیں پارٹی کا سیاسی چہرہ یا شناخت مکمل طور پر Anti-Imperialist (امریکی سامراج مخالف) بننے میں کامیاب ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب دائیں بازو کے سیاسی لوگ اورمحدود میڈیا ایک طرف جنرل ضیا تودوسری طرف امریکہ کو اسلام پسندوں اورافغان مجاہدوں کااتحادی اورخیرخواہ قرار دے رہا تھا۔ اسی طرح پارٹی کے اندر وہ محدود گروہ جس کی قیادت فاروق لغاری کرتے تھے، امریکہ اورسٹیٹس کوکاحامی تھا۔ اس وقت تک وہ پارٹی کی شان دار جدوجہد کے سامنے بے بس تھا۔ مگرافسوس اس جاگیردار دھڑے کو وقت کے ساتھ بے نظیر بھٹوسرپرستی حاصل ہوتی چلی گئی۔ جب وہ پاکستان سے جلاوطن ہوئیں توانہوں نے برطانیہ میں بیٹھ کر امریکی رابطے American Connections مزید مضبوط کیے۔ اس دوران پارٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹرغلام حسین جن کو ذوالفقارعلی بھٹونے سیکریٹری جنرل نامزد کیا تھا، پارٹی کے عہدے سے ہٹادیاگیا۔
بابائے سوشلزم شیخ رشید کوآہستہ آہستہ دیوارکے ساتھ لگانے کا عمل شروع ہوا۔ اس دوران لاہور میں پارٹی کے رہنما رانا شوکت محمود کے گھرپارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پارٹی نے دیگر قراردادوں کے علاوہ یہ قرارداد باقاعدہ طور پرمنظورکی کہ پارٹی امریکہ کو بھٹو کو قتل کروانے کا ذمہ دارسمجھتی ہے۔ یہ قرارداد پارٹی کے ایک سابق عہدے دار نے لکھی جواس اجلاس میں شریک نہ تھے اوروہ ابھی حیات ہیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت فاروق لغاری اورشریک چیئرمین محترمہ بے نظیر بھٹو دورِ جلاوطنی میں امریکی تعلقات مضبوط کرنے میں پیش پیش رہیں۔ وہ اس نتیجے پرپہنچے کہ جدوجہد کامیابی کاراستہ نہیں، بہتر ہے کہ جنرل ضیا کو تنہا Isolate کیاجائے اور واشنگٹن کے ذریعے اپناراستہ بنایاجائے۔ اِن کوششوں نے پاکستان میں موجودپارٹی کے اندربائیں بازواوراوپری طبقے سے تعلق رکھنے والی قیادت کے اندرکشمکش کوتیز کیا۔ یاد رہے کہ اس دوران اوپری طبقے کی قیادت کوپارٹی میں درمیانے طبقے کے اہم ابھرتے لیڈروں کی بھی حمایت حاصل ہونا شروع ہوگئی تھی۔ آمریت وجمہوریت کی آمیزش سے قائم جنرل ضیا اور جونیجوکے مشترکہ دورِ حکومت میں محترمہ بے نظیربھٹو، واشنگٹن میں اپناوجود منوانے میں کامیاب ہوئیں اوریوں انہوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔
جنرل ضیا ان کی آمد کے مخالف تھے اور حکومت کا سول چہرہ اُن کی حمایت کررہا تھا، بشمول وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف۔ انہوں نے پنجاب پارٹی کوپچیس لاکھ روپے بھی فنڈزکی مد میں دئیے۔ فوجی آمروں کویہ اندازہ ہوچکا تھا کہ بے نظیر بھٹوکا استقبال اس قدرہوگا کہ اس کوروکنا ممکن نہیں۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کے اہم کارندوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹونے استقبالی جلوسوں کے روٹس طے کیے۔ ان میں ایک آئی جی کے ’’نوجوان چشم و چراغ‘‘ فاروق لغاری، فیصل صالح حیات اورچند دیگر لوگ شامل تھے۔ جبکہ پارٹی میں موجود جدوجہد کرنے والے چاہتے تھے کہ جلوس لاہورسے اسلام آباد جائے۔ اگر یہ پُرامن جلوس لاہورسے لاکھوں لوگوں کواسلام آباد تک پہنچ گیا توجنرل ضیا کی آمریت خود بخود ڈھے جائے گی۔ ایسے میں جنرل ضیا پر فوج کے پروفیشنل جرنیلوں کی طرف سے بھی دباؤ تھا کہ وردی بھی اتارو اور اقتدار بھی چھوڑو۔ جنرل ضیا اور اس کے رفقا اورپارٹی کی اعلیٰ قیادت جس کواب پنجاب کے جاگیرداراوراُن کے دُم چھلے درمیانے طبقے کے لوگ کررہے تھے، یہ طے کرنے میں کامیاب ہوئے کہ محترمہ کے جلوسوں کوجنوبی پنجاب اور اِدھراُدھرگھما کرتھکا دیا جائے اورایساہی ہوا۔ یہ وہ مقام تھا جن پرپارٹی کے اندرشدید کشمکش بڑھی۔ پارٹی کے بائیں بازوکے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک طرف محترمہ بے نظیربھٹوکا استقبال کریں گے اوردوسری طرف امریکی سامراج کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اس کے لیے متعدد تجاویزآئیں، پمفلٹ، بینرزوغیرہ۔ آخرکارطے ہواکہ محترمہ بے نظیر بھٹو، لاہور آئیں تو امریکی پرچم نذرِآتش کیے جائیں۔ میں اس میٹنگ میں شریک تھا جس میں یہ طے کیا گیا۔
یوں محترمہ بے نظیر بھٹو جب 10اپریل1986 کولاہورائیرپورٹ سے ٹرک پر سوار ہوکر باہر آئیں تواُن کاچہرہ ناقابل یقین استقبال دیکھ کرخوشی سے سرخ ہوا اور آنکھیں پُرنم ہوگئیں۔ اورجب میں نے دیگرساتھیوں کے ہمراہ پہلا امریکی پرچم جلایا توخوشی بھراچہرہ حیران وپریشان ہوگیا۔ بھرسارا دن پرچم جلتے رہے۔ مسلسل سولہ گھنٹے سفر کے بعد، مینارِپاکستان پہنچنے تک مینارِپاکستان پر محترمہ بے نظیربھٹوشہید نے جوتقریرکی، اس کالب لباب یہ تھا کہ اب یہ ایک نئی پی پی پی ہے۔ اس میں نظام کی بجائے صرف جنرل ضیا کونشانہ بنا گیا۔ اوریوں 11 اپریل 1988 کو نئی پارٹی بنتی چلی گئی جو 2013 کے انتخابات تک ہمارے سامنے ہے۔
مگراس دوران ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ بایاں بازوپارٹی کے مقبول نظریہ Populist Stance کے مقابلے میں محدود ہوتا چلا گیا اور آخرکار تقریباً ختم ہوگیا۔ راقم کوامریکی پرچم جلانے پر تین بارقتل کرنے کی کوشش کی گئی اورایک بارمحترمہ بے نظیر بھٹو کے جلوس میں منہ پرہاتھ رکھ کردَم گھونٹ کرقتل کرنے کامنصوبہ بنا۔ یہ منصوبہ ایک جاگیردارکے ہاں بنا۔ اوربہت کچھ... اپنی آئندہ کتاب میں۔ مگرافسوس پارٹی کا بایاں بازوبھی ختم ہوا اوربعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کوانہوں نے قتل کردیا جن پراُن کویقین تھا اور پارٹی بھی تمام ہوئی۔ مفاہمت اِسی کوکہتے ہیں۔ حقائق تلخ ہیں۔ کاش ہمارا سماج حقائق سننے کی صلاحیت پیدا کرلے۔