بچے من کے سچے۔ مگر اتنے زیادہ بھی نہیں!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 22 / نومبر / 2016
- 4687
انسانی نسل اس وقت زبردست تباہ کن دھماکے کے درمیان ہے، یہ دھماکہ انسانی آبادی میں بے پناہ اضافے کا دھماکہ ہے۔یہ دھماکہ بڑی مصیبتوں کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی نے زمین کے ہر خطے میں قدرتی وسائل کے بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے، اس وقت آبادی میں اضافہ کی شرح 3 لاکھ افراد روزانہ ہے۔اس طرح دنیا کی آبادی میں سالانہ 7 کروڑ کا اضافہ ہو رہا ہے۔
اس پر تمام لوگوں کو غذا، پانی، کپڑا اور مکان کی ضرورت ہو گی۔ مشکل یہ ہے کہ آبادی میں اس اضافے کا بہت بڑا حصہ ان علاقوں سے متعلق ہے جہاں پہلے ہی وسائل کی فراہمی نازک حالات سے دوچار ہے۔ آبادی میں زبردست اضافے نے دنیا کے مختلف علاقوں میں انسان کو بھوک، بیماری، آلودگی اور قحط جیسی مصیبتوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس اضافے پر روک ٹوک نہیں لگائی گئی تو اندیشہ ہے کہ صورت حال تباہ کن ہو جائے گی۔
انسانی زندگی، تہذیب کے ارتقاء کے اولین دور میں دس بارہ ہزار سال پہلے 50 لاکھ سے زیادہ نہ تھی لیکن جیسے جیسے زرعی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور انسان بستیوں میں بسنے لگے، خیال ہے کہ 14ویں صدی عیسوی تک دنیا میں لگ بھگ ایک ارب لوگ ہی آباد تھے۔ بیماریوں کی بہتات اور دواؤں اور غذائی وسائل کی محدود فراہمی نے دنیا میں آبادی کو کنٹرول رکھا۔ چنانچہ ماہرین نے یہ بات تسلیم کی کہ 500 برسوں تک آبادی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ لیکن جیسے ہی صنعتی انقلاب نے دنیا میں اپنی گرفت مضبوط کی ، سائنس اور خاص طور پر طبی سائنس کی ترقی نے صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ چنانچہ 1850 میں دنیا کی آبادی ایک ارب 5 کروڑ تک جا پہنچی۔ مگر محض ایک سو سال کے اندر اندر یعنی 1987 تک دنیا میں 5 ارب لوگ بس رہے تھے اور اب اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے دنیا کی آبادی ساڑھے 7 ارب ہو گئی ہے۔
لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کی جائے پیدائش یورپ میں یورپی یونین کی آبادی میں 2050تک ڈرامائی کمی واقع ہو جائے گی اور ایسا لاکھوں تارکین وطن کی آمد کے باوجود ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق یورپ میں اموات بدستور پیدائش سے زیادہ ہوں گی اور یہ سلسلہ پوری یورپی یونین میں جاری رہے گا۔
یورپین یونین میں ایک حالیہ سروے کے مطابق 2018 تک اٹلی کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی اس کے ایک سال بعد یعنی 2019 میں جرمنی، سلواکیہ اور 2020 میں پرتگال کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی جبکہ برطانیہ کی آبادی قدرے بڑھتی رہے گی۔ لیکن 2040 میں برطانیہ بھی اس کی زد میں آ جائے گا۔ 2050 تک یورپین یونین کے ممالک کی آبادی 450 ملین ہوگی جو 20 ملین کم ہوگی۔ یہ سروے یورپ میں پنشن کا بحران پیش آنے پر حفظ ماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ اکثر حکومتیں ریٹائرمنٹ کے بینیفٹ کی رقم ملازمت کرنے والوں کے ادا کردہ ٹیکسوں سے دیتی ہیں۔
ادھر یورپ سے دور جاپان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ جاپان کی آبادی کا پانچواں حصہ معمر افراد کی آبادی پر مشتمل ہے۔ جاپان میں ایک حالیہ مردم شماری کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان کی آبادی کا پانچواں حصہ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے جبکہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد میں 2004 کے بعد تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ جاپان میں خاندانی منصوبہ بندی یعنی شرح پیدائش میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ جاپانی حکومت کے مطابق ملک میں بوڑھے افراد کی آبادی میں اضافے اور نوجوانوں کی کمی سے ملکی اقتصادیات اور ترقی کو بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جاپان میں گزشتہ برس کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی بارہ کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں 21 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد پر مشتمل تھی۔
یورپی یونین کے ہمسائے روس میں بھی اس سے ملتی جلتی صورت حال ہے۔ لیکن روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس کےلئے ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے سالانہ خطاب میں قوم کو اس گمبھیر صورت حال کا حل تجویز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت روسی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کم ہوتی ہوئی آبادی ہے۔ شرح پیدائش میں کمی اور شرح اموات میں اضافے کے باعث مردم نگاری (ڈیموگرافی) کی صورت حال تشویشناک ہے۔ انہوں نے ایک قومی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عورتوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور حکومت انہیں بہت سی سہولیات اور مراعات دے گی۔ انہوں نے کہا کہ روس کی آبادی میں سالانہ سات لاکھ افراد کی کمی ہو رہی ہے جس کی وجوہات گرتی ہوئی شرح پیدائش، شرح اموات میں اضافہ اور ملک سے ہجرت کر جانا شامل ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کےلئے ایک دس سالہ پلان کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ بچوں اور نوجوان عورتوں کی فلاح و بہود کے اقدامات ہیں۔ اس ضمن میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور دوسری مراعات دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہی طریقہ کار سوویت یونین میں بھی اپنایا گیا تھا۔
ایک بیوہ ہے چار بچے ہیں
عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں