امریکی پرچم جلنے کے بعد کیا ہوا
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 22 / نومبر / 2016
- 6224
10اپریل 1986 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے لاہور پہنچنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بائیں بازو کے کارکنوں نے امریکہ کے خلاف احتجاجاً پرچم اس لیے جلائے کہ پی پی پی کی شروع دِن سے شناخت سامراج دشمن تھی۔ پی پی پی اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف تحریک کو امریکی سازش، اُن کی حکومت کے خاتمے کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جمہوریت کے قتل کا ذمہ دار بھی امریکہ کو ٹھہراتی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے آخری دنوں اپریل 1977 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سفید ہاتھی کی یادداشت بڑی تیز ہے اور خوں خوار بھیڑیے میرے خون کے پیاسے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ تجزیہ تھا کہ 5 جولائی1977 کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ امریکی سامراج کی طویل منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کے تحت امریکی یہ چاہتے تھے کہ پاکستان سے ایک منتخب حکومت جس کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو جیسے قوم پرست اور زیرک سیاست دان کررہے ہیں، ختم کر دی جائے۔ اور یوں خطے میں اپنی طویل نئی منصوبہ بندی پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی صورتِ حال بدلی اور برزنسکی جو امریکی صدر کا سلامتی کا مشیر تھا، اس نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے دشمنوں کی آمد سے پہلے ہی ’’افغان مجاہدین‘‘ کو مالی اور عسکری امداد کا آغاز کر دیا تھا۔ امریکی یہ جانتے تھے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو خطے کے اِس اہم ملک پاکستان کے وزیراعظم رہے تو امریکہ، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کرپائے گا اور اس کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور اُن کو جسمانی طور پر راستے سے ہٹانا لازم ہے۔ اسی لیے وزیرخارجہ امریکہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے اگست1976 میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پالیسی ترک نہ کرنے پر عبرت ناک مثال بنانے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ تجزیہ اور یقین تھا کہ پاکستان میں جنرل ضیا اورآمریت کی اصل طاقت امریکہ ہے اور امریکہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ہی نہیں بلکہ پاکستان کے آئین اور جمہوریت کا قاتل ہے۔ اسی سبب پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید مرحوم نے پاکستان میں متعین امریکی سفیر کو ملنے سے انکار کیا کہ آپ منتخب جمہوری وزیراعظم اور جمہوریت کے قاتل ہیں۔
اس سارے پس منظر میں پی پی پی میں بائیں بازو اور سٹیٹس کو کے حمایتی دھڑوں میں امریکی سامراج کے کردار اور جاگیرداری کے ایشوز پر سخت کشمکش تھی۔ فاروق لغاری، محترمہ بے نظیر بھٹو کے سب سے قریبی رہنما تھے۔ وہ اپنی تقریباً چھ ہزار ایکڑ زرعی زمین جنرل ضیا کے دور میں واپس لینے میں کامیاب ہو گئے جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں زرعی اصلاحات کے تحت قومیا کر ہاریوں میں بانٹ دی گئی تھی۔ اس سارے پس منظر میں 10اپریل1986 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال پر امریکی پرچم جلے۔ درحقیقت 10اپریل1986 کو جدوجہد والی پی پی پی کے اقتدار اور مفاہمت والی پی پی پی بننے کا تیزی سے آغاز ہوا۔ اسی لیے 1988 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں حکومت سازی ہوئی توامریکی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے طے شدہ شرائط کے مطابق، خارجہ، خزانہ اور سیکیورٹی کے معاملات امریکی و پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے تجویز کردہ لوگوں کو تفویض کیے۔ اور اس کے بعد شام میں جلاوطن محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھائی مرتضیٰ بھٹو سے اختلاف کا آغاز ہوا۔ میرمرتضیٰ بھٹو بھی چاہتے تھے کہ 1988 میں حکومت میں آنے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھا جائے۔ پارٹی کو مزید مضبوط اورجمہوریت کو عوامی تمناؤں کے مطابق ڈھالاجائے۔ تب محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف زرداری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکی تھیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو سیاسی اختلاف کرنے والے بھائی سے ملاقات کے لیے دمشق گئیں جس میں اُن کے شوہر آصف علی زرداری کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد بھی شامل تھے۔ یہ ملاقات اختلافات کم ہونے کی بجائے اختلافات میں مزید اضافے کا سبب بنی۔
لہٰذا 10اپریل 1986 کو محترمہ سولہ گھنٹوں میں لاہور ائیرپورٹ سے مینارِ پاکستان شام ڈھلے خطاب کرنے پہنچیں تو اس وقت تک مینارِ پاکستان کے گرد بجلی کے کھمبوں پر چڑھے ہمارے ساتھی امریکی پرچم جلاتے رہے اور یوں پارٹی میں نظریاتی لوگوں کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو پارٹی کے جاگیردار اور گدی نشین لیڈر فیصل صالح حیات کے گھر پہنچیں تو رات ہو گئی تھی۔ ایک امریکی سفارت کار نے پارٹی کی شریک چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات کا وقت مانگا۔ اس امریکی سفیر کی طرف سے ملاقات کا وقت مانگنے پر پارٹی کی جاگیردار قیادت بہت خوش تھی کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ خوشی اس وقت حیرانی میں بدل گئی جب اس اہم امریکی سفارت کار نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملتے ہی بڑے غصے اور حاکمانہ انداز میں یہ کہا:Who burnt the flags۔ تو اس کو فوری طور پر جواب دیا گیا: Zia's People۔ دوسرے دِن کے اخبارات میں شہ سرخی تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا شان دار استقبال جب کہ اخبارات کی شہ سرخی پر سپر لیڈ یہ خبر تھی کہ ’’محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد پر امریکی پرچم جلتے رہے۔ ‘‘
11اپریل 1986 استقبال کے دوسرے دن، صبح محترمہ بے نظیر بھٹو نے فیصل صالح حیات کے ہاں ایک بھرپور پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ 1977 کے بعد اس قدر تعداد میں نئے لوگوں کو بے نظیر بھٹو کی لاہو رمیں عارضی رہائش گاہ میں دیکھا گیا۔ گاڑیاں پورے مین بولیوارڈ گلبرگ پر کھڑی تھیں۔ گاڑیوں سے اترنے والے اقتدارکے مرغِ باد نما فیصل صالح حیات کے ہاں گیٹ کے اندر داخل ہورہے تھے اور سینکڑوں جیلیں کاٹنے، کوڑے کھانے اور آمریت کی مصیبتیں برداشت کرنے والے کارکنوں کے لیے یہ گیٹ بند ہی نہیں تھا بلکہ فیصل صالح حیات کے ملازم ان کارکنوں کو دھکے دینے اور مارنے کے لیے آگے بڑھے تو ہمارے ایک ساتھی آغا ندیم مرحوم نے یہ نعرہ بلند کیا:
ضیا بھی مارے، تم بھی مارو
ہائے پجارو، ہائے پجارو
محترمہ بے نظیر نے پریس کانفرنس کا آغاز کیا تو سب سے پہلا سوال اُن کے شان دار استقبال کی بجائے یہ ہوا کہ Who burnt the flags۔ یہ سوال Far Eastern Economic Review کے نمائندے حسین حقانی نے کیا۔ جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے جواب دیا کہ ’’امریکی پرچم جلانے والوں کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، وہ جنرل ضیا کے لوگ ہیں۔‘‘ اور یوں پارٹی میں سیاسی خلیج ہی نہ بڑھی بلکہ پارٹی کے اندر ایک افسوس ناک دَور کا آغاز ہوا۔ لندن میں موجود بابائے سوشلزم شیخ رشید مرحوم نے اسی روز پریس کانفرنس کی اورکہا کہ امریکی پرچم جلانے والے پارٹی کے مخلص اور نظریاتی کارکن ہی نہیں بلکہ یہی وہ کارکن ہیں جن کی پیٹھوں پر ضیا کی آمریت کے کوڑوں کے نشانات ہیں، جس کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے۔ ان دنوں حسین حقانی، جنرل ضیا کے مربی تھے۔ اس کے بعد وہ نواز شریف کے قریب ترین ساتھی بنے۔ کہا جاتا ہے کہ 1988 میں انتخابی مہم کے دوران پرائیویٹ جہاز کے ذریعے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بیگم نصرت بھٹو کی جو جعلی اور نازیبا تصاویر گرائی گئیں، وہ حرکت پنجاب کے حسین حقانی صاحب کی نام نہاد ذہانت کی شاخسانہ تھی۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کے مشیر بنے، بعد میں سری لنکا میں سفیر اور پھر وقت کا دھارابدلا اور وہ 1993 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں پریس سیکریٹری اور وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری نمے۔ اسی دوران انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی رازداں سیکریٹری محترمہ ناہید خان کی چھوٹی ہمشیرہ انیلا خان سے شادی کر لی، جس کو بعد میں طلاق دے دی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں ایک ادارے کے سربراہ بنے اور جب محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کر دی گئیں تو وہ آصف زرداری کے زیر سایہ بننے والی حکومت میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر بنے اور آخر کار بد نامِ زمانہ میمو سکینڈل کیس کے کرتا دھرتا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی11اپریل1986 کی پریس کانفرنس کے بعد ، پارٹی میں بایاں بازو کمزور ہونے لگا۔ راقم کو تین بار پُرتشدد واقعات پیش آئے اور ایک منصوبے میں جلو س میں سانس روک کر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ جو پارٹی کے ایک جاگیردار رہنما کے گھر ہوئی۔ پارٹی میں امریکی سامراج کے ایشوز پر کشمکش چلتی رہی۔ 1987 میں پارٹی کی صوبائی شاخ نے میری اور میرے دس کارکن ساتھیوں کو یہ کہہ کر پارٹی رکنیت ختم کر دی کہ ہم لوگ امریکہ کے پرچم جلاتے ہیں، جسے پارٹی کے سنیئر وائس چیئرمین نے چیلنج کرتے ہوئے بحال کیا اور جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو واقعات کی نزاکت کا احساس ہوا کہ مجھ پر اور میرے دیگر سیاسی ساتھیوں پر لوہے کے سریوں کے ساتھ حملہ ہوا تو انہوں نے ہماری رکنیت کی بحالی کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔ اس کی وہ خود سربراہ تھیں اور ہم اس کمیٹی میں اپنی صفائی کے لیے پیش ہوئے۔ کمیٹی میں جنرل ٹکا خان، بیگم اشرف عباسی اور دیگر لوگ شامل تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہماری پارٹی رکنیت بحال کرنے کا فیصلہ دیا۔
اُن دنوں راقم جوانی کے شباب پر تھا اور اسلام آباد، بقول سابق سی آئی اے سربراہ باب وڈورڈ ، دنیا میں سی آئی اے کا سب سے بڑا دفتر ہوتا تھا۔ اُن دنوں جلوسوں اور تقریبات میں اکثر ’’امریکی سکالرز‘‘ کے روپ میں لوگ ملتے تھے۔ لہٰذا اس دوران راقم کو پہلے امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لیے فل سکالر شپ کی آفر کی گئی اور پھرایک پروگرام میں شرکت کی دعوت کہ تین ماہ امریکی انتخابات کی مہم کو دیکھا جائے۔ یہ ایک دلکش آفر تھی، اس کے لیے راقم کے علاوہ کراچی کے ایک صحافی کو بھی چنا گیا۔ امریکی شخص نے کہا، ہم چاہتے ہیں آپ جیسا متحرک نوجوان امریکی صدارتی انتخابی مہم دیکھے۔ راقم نے دونوں آفرز فوراً مسترد کیں جب کہ کراچی کا ایک صحافی اس ’’ امریکی صدارتی مہم‘‘ کو دیکھنے کے لیے امریکہ روانہ کیا گیا۔ آج وہ صحافی پاکستان کا سب سے بڑا اینکر اور طاقت کے مراکز میں خاص مقام رکھتا ہے۔
اس دوران راقم پر پارٹی کے دروازے ہی بند نہ کیے گئے بلکہ لاہور پارٹی کی ایک میٹنگ میں یہ حکم نامہ دیا گیا کہ پارٹی کا جو رکن راقم سے تعلق رکھے گا، اس کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی۔ آہستہ آہستہ ہماری جدوجہد دم توڑتی چلی گئی اور پارٹی کے دروازے پنجاب کے جاگیرداروں اور سٹیٹس کو کی علامتوں Symbols کے لیے کھلتے چلے گئے۔ اس کے بعد پہلے میرمرتضیٰ بھٹو اور بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل نے پارٹی اور ملک کو بے رہنما قوم Leaderless Nation میں بدل دیا۔