ہاتھی کے دانت، سیاست دان اور چینی

کہتے ہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ انسانوں پر بھی یہ بات اس طرح سے صادق آتی ہے کہ انسانی دانت نکالنے کے اور چبانے کے اور۔ چونکہ نکوسنے کے دانت سے انسان چبا نہیں سکتا۔ اور دانت کے معاملے میں انسان ہاتھی سے زیادہ شرارتی واقع ہواہے۔

انسانی دانت بتیس ہو تے ہیں اور ان میں سب سے اہم عقل دانت ہیں چونکہ یہ ایک دانت نہیں ہوتا بلکہ چار دانتوں  کا مجموعہ  ہوتا ہے۔ اس لیے اسے عقل چو کہتے ہیں۔ ہر انسان کے ایسے کئی چو دانت ہو تے ہیں جن سے وہ غذا کو چبانے کا کام لیتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چو دانت، عقل چو ہوتا ہے ۔ ایک سروے کے مطابق بے شمار لوگوں میں عقل چو چالیس سال کی عمر میں ہی نکلتا ہے  اب اگر ایسا نہ ہو تو سب لوگ عقلمند نہ ہو جائیں ۔ اسی سروے کے مطابق ایک موروثی بیماری عقل چو کو نکلنے سے روک دیتی ہے۔ اس بیماری کا نام سیاست ہے۔ سیاستدانوں کے عقل چو نکلتے ہی نہیں اور اسی لیے اگر آپ سیاست میں غلطی سے نکل آئیں تو آپ کے دوسرے سیاسی ساتھی آپ کو سب سے پہلے دندان ساز کے پاس لے جاکر فورا عقل چو نکلوا دیتے ہیں۔

دودھ کے دانتوں کا جھڑنا بھی صرف انسانوں کو ہی میسر ہو تا ہے۔ اس کا جھڑنا بھی سن بلوغت کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ مگر ہماری قوم کے ابھی تک دودھ کے دانت ہی نہیں جھڑے ہیں۔  اور جھڑیں بھی تو کیسے ۔ دودھ کے دانت تب ہی جھڑتے ہیں جب بچہ دودھ کی بوتل چھوڑ دیا کرتا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ کسی زمانے میں ہمارے یہاں چینی دندان سازوں کی بہتات ہوا کرتی تھی۔ سڑک کے نکڑ پر کسی چینی دندان ساز کی دکان ہوتی۔ حتی کے فٹ پاتھ پر بھی ایسے دندان ساز نظر آجاتے تھے۔ چینی معیشت میں انقلاب کے بعد ان دندان سازوں کا رتبہ بھی بدل گیا ہے اور اب یہ چائنز ڈنٹل سرجن کہلاتے ہیں۔ ایسے ہی ڈنٹل سرجن اب ہمارے سیاستدانوں کے عقل چو کا آپریشن کر نے لگے ہیں۔ یعنی ان بھولے بھٹکے سیاست دانوں کا جن کے عقل چو آنا والا ہو تو  یہ اسے فورا نکال پھینکتے ہیں۔ مورثیوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

چین کے باشندوں کے بارے میں بھی ایک محاورہ یوں بنایا جاسکتاہے کہ کھانے کی چینی اور دوست بنانے کے لئے چینی اور۔  کھانے کی شکر اور دانت،  ماہرین کے مطابق کبھی بھی ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے۔ چونکہ چینی کے دیگر مضمرات میں ایک دانت کا خراب کر دینا بھی شامل ہے۔ چینی یعنی شکر جب دانت خراب کر دیتی ہے تو پھر چینی دندان ساز ہی دانت نکالنے کا کام کرسکتا ہے۔  یعنی چینی آپ کو پوپلا کر کے آپ کی قوت گویائی پر بھی بلا واسطہ حملہ آور ہے۔

بات ہاتھی دانت سے چلی تھی اور پہنچی ہے دانت تک۔
اردو ادب میں دانت کے بارے میں  بھی  کئی دلچسپ محاورے پائے جاتے ہیں۔ جیسے دشمن کے دانت کھٹے کر دینا۔ اب اس محاورے کو یوں پڑھنا درست ہوگا کہ دہشتگردوں کے دانت کھٹے کرنا۔ چونکہ ہمارا مقصد ان کوختم کرنا نہیں بلکہ صرف ان کے دانت کھٹے کرکے رکھ چھوڑنا ہے۔ تاکہ بوقت ضرورت کم ازکم ان سے ہم دانت پیسنے کا کام تو لے سکیں۔  حالانکہ وہ اسی وجہ سے ہمیں لوہے کے چنے چبوا رہے ہیں۔ 

دندان شکن جواب دینے میں بھی ہم بڑے ماہر ہیں ۔ یہ محاورہ ویسے بھی کافی جان دار ہے۔ جان چلی جائے، گوشت پوست خاک میں مل جائے تب بھی باقیات میں کھوپڑی جو بچ رہتی ہے اس میں دانت بھی مل جاتے ہیں۔ بشرطیکہ کہ دندان شکن جواب سے محفوظ رہ گئے ہوں۔

حالانکہ ابھی کچھ دن قبل ہی گوادر پورٹ سے بحری جہازوں سے لدے سامان کے روانہ ہونے کی خبر آئی تھی کہ اچانک پاکستان سے چینی کی قلت کی خبر بھی آگئی ہے۔ میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کیا ہم نے ان جہازوں میں چینیوں کو لاد کر حوالہ سمندر کر دیا کہ چینی کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔  
اب تو چینی کثیر تعداد میں پائےجانے چاہیئں بلکہ ان کی تو بہتات ہونی چاہیے۔ اب پتہ نہیں اس چینی کے بحران کی وجہ، بیرون ممالک میں قائم چینی کے کارخانے ہیں یا سی پیک۔ چینی ہمارے ملک میں بہت ہیں، جب کہ گنے کی پیداوار تو بالکل ہی گھٹ کر رہ گئی ہے۔