تلنگانہ میں اردو

تلنگانہ ہندوستان کے نقشے پر ابھرنے والی29 ویں ریاست ہے اور اس علاقے کے سبھی اضلاع میں لوگ اردو با آسانی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس علاقے میں ریاست کی تشکیل کے بعد اردو کا فروغ ہورہا ہے اور یہاں اردو سے روزگار کے مواقع پہلے سے زیادہ ہیں۔

آئیے دیکھیں کہ اردو ذریعہ تعلیم سے تلنگانہ میں کون لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی سماجی اور معاشی حیثیت کیا ہے۔ حکومت اور عوامی اداروں کی جانب سے انہیں روزگار اور ملازمت حاصل کرنے کے کیا مواقع دستیاب ہیں اور کیا مواقع متوقع ہوسکتے ہیں۔ جب اردو کی بات ہوتی ہے تو کچھ دل خوش کن باتیں ہوتی ہیں، کچھ قراردادیں منظور ہوتی ہیں اور کچھ وعدے ارادے ہوتے ہیں۔ لیکن عملی کام کچھ نہیں ہوتا۔ اردو عالمی سطح پر ایک مقبول زبان ہے۔ برصغیر کے کروڑوں عوام کی مادری زبان ہے۔ چونکہ اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے تو کچھ فرقہ پرست ذہن رکھنے والوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا۔ اور اسی مریضانہ ذہنیت پر عمل کرتے ہوئے ارباب اقتدار نے ہرزمانے میں اردو کے ساتھ نا انصافی کرنے کی  کوشش کی۔ لیکن ہر بار اردو اپنی مقبولیت کے گراف کو اونچا کرتی گئی۔ آج ہندوستان کا سیکولر طبقہ یہ بات مانتا ہے کہ اردو مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوستان اور سارے عالم کی ایک مقبول زبان ہے۔

میں اپنے فی الوقت آندھرا پردیش اور موجودہ علاقہ تلنگانہ کی حد تک بات کرتا ہوں۔ یہاں تعلیمی نظام 10+2+3 رائج ہے۔ یعنی ہائی اسکول میں دسویں جماعت تک اس کے بعد انٹر کے دو سال اور ڈگری کے تین سال۔ ذریعہ تعلیم کے بارے میں ماہرین  کی یہ متفقہ رائے ہے کہ بچے کی ابتدائی تعلیم کم از کم مادری زبان میں ہونا چاہئے۔ بچہ اپنے گھر سے فطری طور پر مادری زبان سیکھ کر آتا ہے۔ اگر اس کی ابتدائی تعلیم مادری زبان سے شروع ہو تو اسے پھر سے انڈے یا سیب کو انگریزی، تلگو یا ہندی میں کیا کہتے ہیں، پر  دماغ لڑانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور وہ سائینس، ریاضی اور سماجی علوم کو بھی اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہوئے ترقی کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین جاپان روس ، امریکہ اور فرانس جیسی ترقی یافتہ قومیں اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انگریزی کی عالمی مقبولیت کے سبب اب چینیوں اور جاپانیوں کو انگریزی سیکھنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ انگریز حکمران رہے تھے اس لئے انہوں نے جاتے جاتے انگریزی کا چلن ہندوستان میں عام کردیا۔ انہوں نے حکومت چلانے کے لئے  اور عدلیہ کے جو قوانین بنائے وہ سب انگریزی میں تھے۔  آزادی کے بعد بد قسمتی سے سرکاری کام کاج اور دفتری کاروائی انگریزی میں ہونے سے ہندوستان میں انگریزی ذریعہ تعلیم کو حصول روزگار اور ترقی کا پہلا اور بنیادی ذریعہ تسلیم کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے CBSC تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور خانگی سطح پر انگریزی میڈیم تعلیمی اداروں کو پروان چڑھنے کی کھلی چھوٹ دینے سے گذشتہ بیس سال میں ہندوستان میں تعلیم کے شعبے میں بڑا نقصان ہوا ہے۔ ماہرین تعلیم کی رائے کے باوجود ملک کا دولت مند اور متوسط طبقہ اپنے بچوں کو مادری زبان اردو یا کوئی اور زبان ہو، غیر فطری انگریزی میڈیم سے تعلیم دلانے لگا ہے۔  کوا چلا ہنس کی چال اور نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے کے مصداق ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچے معیار کے اعتبار سے پیچھے رہ گئے۔ جب کہ مادری زبان کے مدارس صرف سرکاری مدارس رہ گئے جہاں غریب اور متوسط گھرانے کے طلبا پڑھنے لگے۔ جن کے معاشی اور معاشرتی حالات ایسے رہے کہ وہ بچے اعلیٰ تعلیمی مدارج طے نہیں کر پارہے ہیں۔ آج جب ہم ہمارے تعلیمی نظام پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ کے علاقے میں اردو بولنے والی اکثرت کے علاقوں میں بے شمار اردو میڈیم مدارس ہیں۔ لیکن ہر سال داخلہ کے مواقع پر اساتذہ کو گلی گلی پھر کر بچوں کو اسکول میں داخلہ دلانے کے لئے راغب کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ حکومت نے دوپہر کے کھانے کی اسکیم بھی چلا رکھی ہے۔

اب یہ ماحول بنادیا گیا ہے کہ جس کے پاس دولت نہیں وہ ان اردو مڈیم اسکولوں میں برائے نام اپنے بچوں کا داخلہ کراتے ہیں اور کسی طرح ہائی اسکول اور انٹر تک یہ بچے اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آج ان اسکولوں میں لڑکیوں کا تناسب تو حوصلہ افزا ہے لیکن لڑکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جن والدین کے پاس کچھ پیسے ہیں وہ اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں بھاری  فیس دے کر پڑھا رہے ہیں۔ اردو میڈیم سے پڑھنے والے طالب علم کو یہ کہہ کر مایوس کیا جاتا ہے کہ اردو سے پڑھ کر اسے کیا ملے گا۔ اور اردو میں اعلیٰ تعلیم کہاں ہے۔ جب کہ آزادی سے بہت قبل نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان نے مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت دیکھتے ہوئے حیدرآباد میں عظیم مادر علمیہ جامعہ عثمانیہ قائم کی تھی اور اس یونیورسٹی میں روایتی، فنی اور تمام سائینسی مضامین کی اعلیٰ تعلیم صرف اردو میں دی جاتی تھی۔ تعلیم کے لئے درکار اہم ضرورت نصابی اور دیگر نصابی کتابوں کی دستیابی کے لئے دارالترجمہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی اور اس کے دارالترجمہ نے جو کام اردو میں کیا تھا اس کے ثمرات آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں اردو ذریعہ تعلیم کے فروغ کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغین انگریزی کے بھی ماہر ہوا کرتے تھے اور وہ اس زمانے کے آئی سی ایس امتحان میں بھی کامیاب ہوتے تھے اور دنیا بھر میں عثمانیہ کا نام روشن کرتے تھے۔ عزیز احمد،  ڈاکٹر حمید اللہ ، ہاشم علی اختر اور بے شمار فارغین عثمانیہ نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے کے باجود دنیا بھر میں نام روشن کیا۔

آزادی کے بعد عثمانیہ سے اردو ذریعہ تعلیم کو ایک سازش کے تحت ختم کردیا گیا۔  اب اردو جامعہ عثمانیہ کی سنگلاخ دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ رہی ہے۔ اردو سے اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہلیان اردو کی خواہش پر حیدرآباد میں اردو کی مرکزی یونیورسٹی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قائم ہوئی ہے۔ جس میں اردو میں روائتی کورسز کے ساتھ فنی اور عصری علوم کی تعلیم دی جارہی ہے۔ بہت جلد اس یونیورسٹی میں طب، طبعیات، کیمیا اور ریاضی کے شعبے بھی قائم ہوں گے۔ اس کے لئے ایک مرتبہ پھر دارلترجمہ کی ضرورت ہوگی۔ جس کو یونیورسٹی کے ارباب مجاز ملحوظ رکھیں۔ جب یہ یونیورسٹی مکمل طور پر کام کرنے لگے گی تب اردو ذریعہ تعلیم سے آگے بڑھنے والے طالب علم کو عصری حالات سے ہم آہنگ ہونے کا بھر پور موقع ملے گا۔

جہاں تک اردو سے سرکاری ملازمتیں ملنے اور روزگار کا مواقع کا معاملہ ہے،  جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ تدریس کے شعبے میں اردو میڈیم کے طالب علموں کے لئے سرکاری ملازمت میں داخل ہونے کے خاطر خواہ مواقع دستیاب ہیں۔ اردو میڈیم سے انٹر کے بعد طلبا ڈائٹ سیٹ کامیاب کریں اور ٹی ٹی سی کی تربیت حاصل کریں تو وہ ایس جی ٹی  کے اہل ہوسکتے ہیں جس میں ابتدائی تنخواہ 25 ہزار تک ہے۔ حیدرآباد کے مقابلے میں تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں اس جانب رجحان ذیادہ ہے اور ہزاروں طلبا وطالبات اردو میڈیم اس لئے پڑھتے ہیں کہ انہیں ٹیچر کی سرکاری نوکری ملے۔ حیدرآباد میں اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر طلبا ڈگری  کے بعد بی ایڈ کریں تو انہیں اسکول اسسٹنٹ کے ہائی اسکول ٹیچر بننے کے مواقع ہیں ۔ جس میں مشاہرہ کم ہے۔  سائینس پڑھنے والے طلبا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ  ڈاکٹر یا انجینیر بنیں۔ ایم بی بی ایس میں نشستیں محدود ہیں اور اردو میڈیم کا طالب علم ایم بی بی ایس کے معیار کو نہیں پہنچ سکتا۔ ایسے طلبا کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی یو ایم ایس ایک ایسا کورس ہے جس میں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے طلبا ڈاکٹر بن سکتے ہیں اور ایم ڈی بھی کر سکتے ہیں۔

حیدرآباد کے یونانی میڈیکل کالج اور کرنول کے عبدالحق یونانی کالج میں 50-50 نشستیں دستیاب ہیں۔ جس کے لئے صرف ایک یا دو ہزار طلبا ہی انٹرنس امتحان دیتے رہے ہیں اس جانب عوامی شعور بیداری کی ضرورت ہے ۔ حیدرآباد میں سیاست ہال میں اس کی کوچنگ دی جاتی ہے۔ اضلاع میں سائینس کے لیکچررز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبا کو اس کورس کی جانب راغب کریں۔ کیونکہ بی یو ایم ایس کے بعد جونیر میڈیکل آفیسر کے نام سے سرکاری ملازمتیں بھی ہیں۔ اور بہت سے یونانی ڈاکٹر آج سماج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انگریزی میں مہارت حاصل کرتے ہوئے اردو میڈیم ریاضی کے طلبا انجینیرنگ اور پالی ٹیکنیک میں جا سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں تین شعبے ایسے ہیں جس میں ملازمت کے مواقع ذیادہ ہیں وہ بزنس، جرنلزم اور قانون کے ہیں۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں اردو میں ایم بی اے کی سہولت ہے اور وہاں کے شعبہ جرنلزم میں اردو میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تعلیم دی جارہی ہے۔ اگر طالب علم میں انگریزی کا ذوق ہو اور وہ اردو میڈیم سے بھی ایم بی اے کرے تو اپنی ذاتی قابلیت اور مہارت کی بیناد پر ایم بی اے کی بنیاد پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے۔ جرنلزم کے شعبہ میں جو طالب علم اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے قومی و بین الاقوامی صحافتی اداروں میں ملازمت حاصل کر رہے ہیں۔ بی بی سی ، ڈوئشے ویلے جرمنی، ریڈیو جاپان وغیرہ میں اردو صحافیوں کے لئے مواقع ہیں۔ حیدرآباد میں ای ٹی وی کے علاوہ ساکشی، ایچ ایم ٹی وی ، 4وی، روبی اور دیگر چینلوں پر خبریں پڑھنے اور پردے کے پیچھے خبرین بنانے کے لئے ماہر صحافیوں کو ملازمت کے مواقع مل رہے ہیں۔ اردو کے بڑے اخبارات سیاست، منصف، اعتماد، سہارا، رہنمائے دکن وغیرہ میں رپورٹر اور سب ایڈیٹر کے لئے اچھے مواقع دستیاب ہیں۔ جرنلزم سے جڑا ہوا ایک اور شعبہ اردو کمپیوٹنگ اور ڈی ٹی پی کا ہے۔ اگر کسی کو اردو ٹائپنگ اور ڈیزائننگ میں مہارت ہو تو اسے اخباری اداروں میں پر کشش تنخواہ پر ملازمت مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ خود سے ڈی ٹی پی اور ڈیزائیننگ کرتے ہوئے روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے۔

چھتہ بازار اور لکڑی کا پل کے اشاعتی اداروں میں اردو کے ماہرین ہیں لیکن بہت کم ہیں۔ اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ اردو اکیڈیمی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے کمپیوٹر کے ادارے طلبا کو اردو کمپیوٹر سکھا رہے ہیں۔ جہاں تک قانون کے شعبے کی بات ہے اگر اردو میڈیم کا طالب علم انگریزی سے قانون کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اچھا قانون دان بن سکتا ہے۔ آج نلسار یونیورسٹی کے فارغین کو سالانہ ایک کروڑ سے ذیادہ تنخواہ آفر کی جارہی ہے۔ انٹر یا ڈگری تک اردو میڈیم پڑھنے والا طالب علم ریلوے اور بنکنگ کے امتحان دیتے ہوئے بھی بہت سے روزگارکے مواقع سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس کے لئے بر وقت معلومات رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئی اے ایس کی تعلیم ملک کی سب سے اعزازی تعلیم ہے۔ اردو میڈیم کے طالب علم اس جانب توجہ ہی نہیں کرتے کہ انہیں اس جانب راغب کرنے والے کوئی نہیں ۔ ملک میں ہر سال جو ایک ہزار کے قریب آئی اے اے ایس منتخب ہوتے ہیں ان میں صرف 30-40 اردو جاننے والے ہوتے ہیں ۔ جب کہ آئی اے ایس میں ایک پرچہ اختیاری مضمون کا ہوتا ہے جس میں اردو اختیاری مضمون لیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں کشمیر کے شاہ فیصل نے اردو اختیاری مضمون لیتے ہوئے آئی اے ایس میں کامیابی حاصل کی تھی۔

حیدرآباد میں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اور اقلیتی بہبود کے ادارے CDEM کے تحت ہر سال منتخب امیدواروں  کو آئی اے ایس کی کوچنگ دی جارہی ہے لیکن اس کے ثمرات آنا باقی ہیں۔ بہر حال اردو میڈیم کا طالب علم باوقار آئی اے ایس بننے کا خواب دیکھے، تب ہی وہ اپنے خواب کی تکمیل کرسکتا ہے۔  اردو میڈیم سے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں روایتی کورسز میں کامرس، تاریخ ، پبلک ایڈمنسٹریشن اور نامپلی کالج میں معاشیات میں ایم اے کی تعلیم کی سہولت ہے جس کی بنیاد پر طلبا لیکچرر بن سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش کی تمام ہی جامعات میں اردو مضمون کا شعبہ ہے جہاں پی ایچ ڈی تک اردو کی تعلیم ہے۔ جس کی بنیاد پر طلبا جونیر و ڈگری کالج میں لیکچرر بن سکتے ہیں اور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بن سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے مثال ہے کہ ساتاوا ہانا یونیورسٹی کریم نگر اور تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد میں طلبا اردو کے شعبوں میں لیکچرر کے عہدوں پر فائز ہیں۔ اردو میں پی جی والوں کے لئے جے آر ایف اور نیٹ امتحان ہیں جس میں کامیابی کے بعد ترقی کے مواقع ہیں۔ مرکزی یونیورسٹیوں میں اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کو ماہانہ آٹھ ہزار اسکالر شپ دی جارہی ہے۔ جسے ریاستی یونیورسٹیوں میں توسیع دینے کی ضرورت ہے۔

مولانا آزاد نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن دہلی کی جانب سے ہر سال اردو میڈیم سے پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا یا اقلیتی طلبا کو ماہانہ بیس ہزار اسکالر شپ دی جارہی ہے اور حیدرآباد میں کئی طلبا اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اضلاع کے طالب علموں کو اس جانب رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو میڈیم سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر کوئی طالب علم انگریزی میڈیم سے ڈگری اور بی ایڈ کرتا ہے تو اسے حکومت کی جانب سے نئے شروع کردہ ماڈل اسکولوں میں ملازمت دی جارہی ہے۔ ملازمت کے ان مواقع کے علاوہ اردو میڈیم طالب علم کو اپنی ذاتی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر خانگی شعبے میں بھی بھر پور مواقع ہیں۔ ترجمہ بھی ان دنوں ایک فن کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ انگریزی سے اردو یا عربی یا مقامی زبان سے اردو کے مترجمین کے لئے ملازمت کے مواقع دستیاب ہیں۔

حکومت یا بنکوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے اردو کا طالب علم کوئی بھی کاروبار یا ادارہ کھول سکتا ہے۔ واضح رہے کہ زبان کی مہارت بے کار نہیں جاتی اگر کسی کو اچھا بولنا آئے تو وہ موجودہ میڈیا کلچر میں آرجے اور وی جے بن سکتا ہے۔ حیدرآباد سے کچھ نوجوان اس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جاب ورک کے عنوان پر بہت سا کام روزگار دلا سکتا ہے۔ اور لوگ یہ کام کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو میڈیم کے طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان کی رہبری کی جائے اور خود طالب علم بھی اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرے کہ ٹاپ کی پوزیشن اس کی ہوگی۔ یہ حقیقیت ہے کہ اردو میڈیم والوں کے لئے مواقع کم ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اور اردو کے فروغ کا نعرہ دینے والے سنجیدگی سے حکومت کی سطح پر اقدامات کریں۔ زبان اور زبان والوں کی ترقی کے لئے حکومت کی سرپرستی ضروری ہے۔

مستقبل کے تلنگانہ میں اردو کو لازمی طور پر ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنایا جائے اور حکومت کے کام اردو میں بھی ہوں۔  تب اردو ذریعہ تعلیم سے ترقی ممکن ہوگی۔ اس بات کو شدت سے اٹھایا جائے کہ اردو والوں کو جیسے تلگو لازمی پڑھائی جارہی ہے ویسے ہی تلگو والوں کو بھی لازمی طور پر اردو پڑھائی جائے۔ اس سے بھی اردو کی ترقی ممکن ہوگی۔ جیسے عثمانیہ یونیورسٹی کے دور اول میں ہوا تھا کہ سب اردو میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ بہر حال یہ چند معلومات تھیں جس سے امکان ہے کہ اردو میڈیم کے طالب علم کو رہبری ہوگی۔