سی پیک ، چین اور تحریک انصاف
- تحریر محمود شفیع بھٹی
- جمعہ 25 / نومبر / 2016
- 11594
چین نے خیبر پختون خوا کی انتظامیہ کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس انکار کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ کے پی انتظامیہ میں کیا دہشت گرد تھے۔ یا پھر انتہائی مطلوب افراد شامل تھے۔
خیبرپختون خوا انتظامیہ میں چند بیوروکریٹس اور حکومتی عہدیداران شامل تھے، جنہوں نے چین کے ویزے کے لیے درخواست دی تھی۔ لیکن چینی حکومت نے جواز بتائے بغیر ویزا دینے سے انکار کردیا۔ اس سارے معاملے میں بحث کے تین نکات سامنے آتے ہیں۔ جن پر غور سے شاید معاملہ سمجھ میں آ سکے۔
پہلا نکتہ: اگر ہم اندھی تقلید کی پٹی اتار کر سوچیں تو ہمیں یہ سمندر سے گہری دوستی اپنی گہرائی میں غوطے لگوا رہی ہے۔ چین ایک تاجر قوم ہے اور کاروباری لوگ اپنا مفاد دیکھتے ہیں، نہ کہ دوسرے کی اصلاح کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ چین ہمارے لیے جو بھی کررہا ہے، وہ نہ ہی خیرات ہے اور نہ ہی کوئی نوازش ہے۔
اقتصادی راہداری بھاری سودی قرضوں کے عوض بن رہی ہے۔ ہمارے آنے والے بچے بھی شاید قرض نہ اتار سکیں۔ جہاں پر اقتصادی راہداری کا بننا ہمارے لیے قابل فخر ہے وہاں اس کی تکمیل چینی معیشت میں نئی جان ڈال دے گی۔ چینی معیشت جو سمندری پانیوں پر امریکی اور بھارتی اثر کی وجہ اپنی استطاعت کے مطابق کام نہیں کرہی اور سہمے ہوئے انداز سے اپنا مال منڈیوں میں پہنچاتی ہے۔ اقتصادی راہداری کی تکمیل سے یہی معیشت اژدہا بن کر امریکی اور بھارتی سامراج کو عالمی معیشت سے صاف کردے گی۔ اس لیے اقتصادی راہداری کی تکمیل عالمی طاقت چین کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے جذباتی ہونے کی بجائے ، ہمیں بھی کاروباری سوچ رکھ کر سوچنا چاہیے۔
دوسرا نکتہ: حکومتوں کے باہمی اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔ پارٹیاں آمنے سامنے آتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سب ملکی مفاد اور علاقائی مفاد کی خاطر ہوتا ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت کا آج کل وفاق کے ساتھ مغربی روٹ کے تناظر میں تنازعہ چل رہا ہے۔ جس کے متعلق صوبائی حکومت ہائی کورٹ میں بھی جاچکی ہے۔ کیونکہ اطلاعات کے مطابق مغربی روٹ کو چینی سفارت خانے نے اقتصادی راہداری کا حصہ قرار نہیں دیا تھا۔ یہ تنازعہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ہے ۔ اگر اس معاملے میں چینی حکومت فریق بنتی ہے تو یہ اندرونی معاملات میں دخل اندازی تصور ہوگی۔ جوکہ قومی مفاد کے منافی ہے۔
سفارت کاری اور حکومت سازی دوالگ چیزیں ہیں۔ اس لئے اگر چینی حکومت نے اس معاملے کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا ہے تو ان کو جان لینا چاہیے کہ کل کلاں اگر عمران خان جیسا ہارڈ لائنر وزیراعظم بن گیا تو پھر اس طرز عمل کا جواب کون دے گا۔ اس لئے حکومتوں کے درمیان اختلاف کو اندرونی طور پر حل ہونے دیا جائے۔ نہ ڈکٹیشن دی جائے اور نہ فریق بنا جائے۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔
تیسرا نکتہ: عمران خان کی چین کے بارے میں پالیسی واضح نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں چین انڈیا کے خلاف ہمارا واحد ہتھیار ہے۔ اور چین نے ہر معاملے پر ہمارا ساتھ دیا ہے۔ حافظ سعید ہویا مسعود اظہر یا پھر ذکی الرحمان لکھوی ، ان تمام کے بارے میں عالمی برادری کے سامنے دوٹوک موقف اپنایا ہے۔ لیکن عمران خان اور تحریک انصاف کی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔
قومی جماعتوں کے مختلف ممالک کے سفارت خانوں سے تعلقات ہوتے ہیں۔ لیکن شا ید اقتصادی راہداری کے معاملہ میں تحریک انصاف نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر اتنا سخت موقف اپنایا کہ چینی حکومت بددل ہوکر ویزا دینے سے ہی انکار کررہی ہے۔ اس لئے اس معاملے پر تحریک کے منصوبہ ساز پیچ و تاب کھانے کی بجائے ، چین سے اپنے روابط کو بہتر بنائیں۔ صرف نعرے لگانے اور تقریریں کرنا ہی قیادت نہیں کہلاتا۔