اردو اور اردو ادیب
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 26 / نومبر / 2016
- 5110
پاکستانی ادب زیادہ تر اردو میں تخلیق ہو رہا ہے کہ یہ سرکاری طور پر قومی زبان قرار دی گئی ہے۔ لیکن اگر ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو، براہوی اور سرائیکی سمیت دیگر زبانوں کو زیر مطالعہ لائیں تو ہمیں علم ہوگا کہ اردو کے علاوہ دیگر قومی زبانوں میں کس قدر شان دار ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ خصوصاً سندھی زبان میں۔
پاکستان میں چوں کہ اردو ہر علاقے میں پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، اس لیے پاکستانی ادب کا ذکر آتے ہی اردو ادب ہمارے ذہنوں میں نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ اردو کے بارے ہمارے ہاں بڑی حساسیت بھی پائی جاتی ہے ۔ عقیدہ پرست سماج میں ایسے رویے یقیناً غالب آ جاتے ہیں جہاں آپ کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہوئے احتیاط کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں زبان کا مسئلہ بھی حساس مسئلوں میں شامل ہے۔ اگر ہم اپنی سر زمین پر جنم لینے والی دیگر زبانوں کا ذکر کریں تو ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ ہونہ ہو کچھ قومی مفاد کے خلاف بات کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ لیکن ہم حقائق سے کب تک آنکھیں چرائیں گے۔
دریائے سندھ کی تہذیب کے ہم اور ریاست پاکستان وارث ہیں۔ یہ دنیا کی اوّلین منظم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تہذیب کے بطن سے جنم لینے والی زبانیں دنیا کی قدیم ترین زبانیں قرار دی جاتی ہیں جن میں براہوی سر فہرست ہے۔ دنیا بھر کے انتھروپولوجسٹ اسے وادئ سندھ میں بولی جانے والی گم شدہ زبان کا ورثہ Legacy قرار دیتے ہیں۔ ہمارے دوست سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک سمیت دوسرے بلوچی ادیبوں نے براہوی میں جوا دب تخلیق کیا ہے، وہ ہر لحاظ سے انگریزی و فارسی کے ادب کے مقابلے کا ہے۔ اس لیے کہ اس زبان کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے اور اس زبان میں ہزاروں سال کا ادبی خزانہ محفوظ ہے۔ اگر ہم سندھی ادب کا مطالعہ شروع کریں تو میرے نزدیک یہ پاکستانی ادب میں سرفہرست ہے۔ اس لیے کہ سندھیوں نے اپنی زبان کی جدوجہد کرکے حفاظت کی۔ قوموں کی تعمیر (Nation Building) میں زبانیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں کیوں کہ زبان ہی ایسا پہلا اور آخری ذریعہ ہے جو آپ کو علمی خزانوں تک لے جاتی ہے۔ یہ علم سیاسی، مذہبی، تاریخی، تہذیبی، ادبی اور سائنسی تک پھیلا ہوتا ہے۔ اگر زبان کے اندر یہ علوم موجود ہیں اور متعلقہ زبان میں علم جنم لے رہے ہیں یا ڈھالے جا رہے ہیں تو آپ کی قوم ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ کیا اردو کے اندر علم کے خزانے موجود ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو بحیثیت محقق، مطالعہ کرنے والے شخص، لکھنے اور اشاعت کاری کے دوران میرے ذہن میں ابھرا ۔
ہمارے ہاں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اردو بہت خوب صورت زبان ہے، بے شک۔ اور اس کے لیے اردو شاعری کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بے شک یہ درست ہے۔ لیکن کیا شاعری ہی زبانوں کی پہچان ہوتی ہے اور قومیں کیا شاعری سے ہی ترقی کرتی ہیں۔ کیا دنیا بھر کے علوم شاعری میں پنہاں ہیں اور معذرت کے ساتھ ہماری اردو شاعری کا حُسن بھی مانگے کا ہے، عربی اور فارسی زبان سے۔ اب میں اپنی جستجو میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا دنیا کے قدیم اور جدید علوم اردو زبان میں موجود ہیں۔ میرے ناقص تجربات اور جستجو سے اس سوال کا جواب اردو کے اُن لوگوں سے ملنا شروع ہو گئے جن کو میں نے زیادہ تر اردو میں ڈاکٹریٹ کے بعد ڈاکٹر یا اردو کے ادیب پایا۔ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہوا کہ ہمارے اردو کے کون سے ادیب اور دانشور باکمال ہوئے۔ صرف وہی ادیب جن کا مطالعہ دیگر زبانوں میں بھی ہے، خصوصاً انگریزی، فارسی، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور عربی وغیرہ میں۔ اس لیے کہ اُن کی رسائی دنیا کے بڑے ادب تک ہو گئی اور انہوں نے جب اپنی قومی زبان اردو میں ادب تخلیق کیا تو اس کی دھاک بیٹھ گئی۔ وہ ادیب جن کی لسانی رسائی اردو تک محدود ہے، وہ دنیا کے علوم و ادب سے کو سوں دُور رہے، اس لیے کہ اردو میں دنیا کے علوم دستیاب ہی نہیں۔
ہمارے اردو ادیب بس لفظوں کی خوب صورتی سے کھیلتے ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔ آج اسلامی دنیا میں انڈونیشیا، ملائیشیا، ایران، ترکی اور چند عرب ممالک ہی ہیں جہاں ترجمے کے ذریعے دنیا کے جدید و قدیم علوم اور ادب کو اپنی زبان میں ڈھالا جارہا ہے۔ اسی لیے وہاں پر ہم سائنسی، سیاسی، سماجی اور ادبی ترقی دیکھ سکتے ہیں۔ علامہ اقبال، اردو اور فارسی کے عظیم شاعر تھے۔ انہوں نے انگریزی اور جرمن زبان میں اپنی علمی معراج پائی۔ اُن کی ڈاکٹریٹ شاعری یا ادب پر نہیں تھی بلکہ سوشل سائنس کے ایک موضوع پر تھی۔ دوسری زبانوں کے علمی خزانوں کی رسائی کے لیے اردو اُن کے کام نہیں آئی، لیکن پنجابی اور اردو بولنے والے اس سپوت نے اردو پڑھنے والوں کو شاعری بھی با کمال دی اور سماجی فکر بھی، اس لیے کہ وہ اپنی زبان تک محدود نہ تھے۔ ہمارے ہاں اردو ادب میں جن لوگوں نے ناول، افسانہ اور دیگر اصناف میں باکمال حصہ ڈالا ہے، اُن کے مطالعے کی زبان صرف اردو نہیں ۔ حتیٰ کہ اگر آپ مجھے کہیں کہ کرنٹ افیئرز میں عالمی معلومات کسی زبان میں دستیاب ہیں تو مجھے یقیناًانگریزی، فرانسیسی یا کسی دیگر زبان کا سہارا لینا پڑے گا۔ قارئین میرا تقریباً سو فیصد مطالعہ انگریزی میں ہے اور تحریر سو فیصد اردو میں۔ اس لیے کہ علم کے سر چشمے مجھے اپنی قومی زبان میں بہت ہی کم میسر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں عام لوگوں کے لیے لکھوں، عام لوگ جو قوموں کے اصل وارث ہوتے ہیں۔ اس لیے میں نے انہی تجربات کے بعد اردو تراجم کا فیصلہ کیا اور یوں اردو ادب میں سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں شائع کیں۔ لیکن یہ کام ریاستیں اور قومیں کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں اردو کے فروغ کے لیے چند مجنوں جو سڑکوں پر جلوس نکال کر، موبائل فون پر ایس ایم ایس کرکے اور عدالتوں میں اردو کے حوالے سے مقدمات درج کروا کے اردو کے فروغ کے لیے سرگرداں ہیں، اُن کا جذبہ قابل دید ہے لیکن زبانیں عمل سے بنتی ہیں۔
ایک ایسی زبان(اردو) جو ہمارے ہاں برٹش نو آبادیات کے بعد برٹش سرکار نے اُن علاقوں میں نافذ کی جہاں فارسی سمیت دیگر زبانوں میں صدیوں پر انے علوم کے خزانے موجود تھے، اردو کے برطانوی نفاذ کے بعد اِن لوگوں کو پرانے علوم سے محروم کردیا۔ اس میں پنجاب سر فہرست ہے جہاں برطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے سبب حیران کن حد تک تعلیم یافتہ سماج اَن پڑھ لوگوں میں بدل گیا۔ کسی نے اردو کے اس برطانوی نفاذ کے بعد ہمارے ہاں اور پھر آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد جدید سیاسی علوم و ادب کو اردو میں ڈھالا۔ اگر ایمان داری سے جواب دیا جائے تو بائیس کروڑ آبادی رکھنے والی یہ قوم اپنی زبان میں ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور دیگر سائنسی علوم تو کیا دنیا کی سوشل سائنسز کو بھی معمولی حد تک ڈھال نہ پائی۔ شاعری سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ برطانیہ ایک ترقی یافتہ قوم اور ریاست ہے۔ وہاں بھی کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ دنیا میں کرکٹ اس کی پہچان ہے، کیا کرکٹ برطانیہ کی ترقی کا راز ہے۔ ہمارے ہاں بھی کرکٹ کھیلی جاتی ہے اور شان دار کرکٹ کھیلنے کی تاریخ ہے لیکن کیا کرکٹ، پتنگ بازی، اور ایسے دیگر شغل ہماری قومی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔ شاعری کا بھی کردار اتنا ہی ہے اور اس کی بنیاد پر کیا زبان کو خوب صورت قرار دے کر اطمینان کر لیا جائے کہ ہماری زبان بڑی ترقی یافتہ اور خوب صورت ہے۔ تو پھر پنجابی نے صدیوں پہلے بابافرید جیسے عظیم الشان شاعر بھی تو پیدا کیے۔
مجھے اپنے سوالات کے جواب اپنے اکثر اردو ادیبوں کی مفلوک الحال علمی کیفیت سے ملے، جن کا علاقائی اور عالمی وژن محدود ہی نہیں بلکہ تکلیف دہ سطح تک گرا ہوا ہے۔ وہ انگلش بولنے والی دنیا تو کیا، ترکی، فارسی، عربی، ہسپانوی، اطالوی اور فرانسیسی دنیا کے بارے میں صفر وژن رکھتے ہیں۔ اور سونے پر سہاگہ ہماری یونیورسٹیاں جو اَب دھڑادھڑ، پاکستانیات ، اسلامیات، پنجابی، کشمیریات اور اردو سمیت دیگر مضامین پر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عطا کر رہی ہیں۔ ماسکو کی اورینٹل سٹڈی کے ایک استاد یوری گنگوفسکی نے ’’پاکستان کی قومیتیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب دہائیوں پہلے لکھی۔ کیا ہم نے اپنی قومیتوں پر ایسی تحقیق کی۔ اسی لیے کہ ہمارا علم محدود ہے، معذرت کے ساتھ زبان اپنی خوبصورتی کے دعوؤں کے باوجود بانجھ ہے۔ اس کے اندر وہ علوم ہی نہیں ڈھالے گئے جو ہماری قومی ترقی وتعمیر کا سبب بنتے۔ ہمارے ہاں جن لوگوں نے شان دار اردو ادب تخلیق کیا، اُن کی رسائی دوسری زبانوں تک بھی تھی۔ اردو میں دھڑا دھڑ ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں لینے والے اِن ادیبوں کو یہ بھی علم نہیں کہ گلوبلائزیشن اور گلوبل ولیج میں کیا فرق ہے۔ دونوں مختلف اصطلاحیں ہیں۔ دونوں کے مختلف پس منظر اور معانی ہیں۔ مگر مجھے اردو کے ایک معروف استاد کا سٹیج پر گلو بلائزیشن کی جدید کمیونیکیشن کے حوالے سے پورا مقالہ سننے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے کہ اس اردو ادیب نے تحقیق کے لیے علمی محنت کرنا گوارا ہی نہ کی۔ اس کو یہ علم ہی نہیں کہ گلو بلائزیشن عالمی اقتصادی پس منظر میں جنم والی اصطلاح اور حکمت عملی ہے اور اس کا جدید عالمی کمیونیکیشن سے کوئی تعلق نہیں۔ اور ہم یہ جو عالمی اردو کانفرنس منعقد کرتے ہیں، یہ بھی سراب نہیں ایک دھوکہ ہے۔ اردو کو ہم ابھی تک عملی طور پر ایک جدید قومی زبان توبنا نہیں پائے اور عالمی اردو کانفرنس منعقد کرکے ہم کس کو دھوکہ دیتے ہیں؟ اپنے آپ کو!
یہ ایک تکلیف دہ موضوع ہے، اس لیے کہ ہم جہاں اپنی قومی تعمیر و ترقی کا ذمہ دار صرف سیاست دانوں کو قرار دیتے ہیں، کبھی ہم نے سوچا ہم اپنی قوم کی تعمیر میں کتنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ اور جو یہ حصہ ڈالے، تنقید کا حق اُسی کو ہے۔ اردو ادب کی دنیا میں یہ بھی رونا رویا جاتا ہے کہ ہمارے کسی اردو ادیب کو نوبل ایوارڈ کیوں نہیں ملا۔ جواب: اسلامی دنیا کے خلاف عالمی سازش قرار دیا جاتا ہے۔ تو پھر ترکی کے اورحان پا موک، مصری نجیب محفوظ کو نوبل ایوارڈ کیوں مل گئے۔ حضور، وہ زبانیں ترقی کے عمل میں شامل ہیں۔ بڑی زبانیں ہی بڑے ادیب پیدا کرتی ہیں۔ اگر ہم اپنی قومی ترقی کے سفرمیں کامیاب ہونا چاہتے ہیں، سائنس سے لے کر ادب تک، تو ہمیں اپنی قومی زبان کو مالامال Enrich کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ سیاسی، سائنسی، علمی اور ادبی ترقی کی خواہش صرف جذبات کے پہاڑوں تلے دبتی چلی جائے گی۔