فیڈل کاسترو، اشتراکی عہد کا سپوت

بیسویں صدی کا آغاز جنگوں سے ہوا اور انہی جنگوں کے بطن سے انقلابات برپا ہوئے اور آزادی کی تحریکیں بھی۔ صدی کے آغاز کی پہلی تین دہائیوں میں جہاں دو عالمی جنگیں ہوئیں ، اس دوران روس و چین سمیت دنیا میں اشتراکی انقلاب بھی برپا ہوئے۔ اس کے ساتھ متحدہ ہندوستان سے لے کر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں آزادی کے سبب درجنوں نئی ریاستوں نے نو آبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرلی۔

جنگی جنون اور فاشزم کو شکست ہوئی اور یوں پانچویں دہائی کے بعد دنیا میں ترقی پسند سوشلسٹ تحریکوں نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کو ایک نئی سوچ اور فلسفے سے خوش گوار حیران کن حد تک متاثر کیا۔ فیڈل کا سترو انہی سماجی تغیرات میں ابھرے اور انہوں نے لاطینی امریکہ میں انقلابی جدوجہد کی قیادت کی جس میں چی گویرا اور اُن کے بھائی راؤل کاسترو بھی شامل تھے۔ انہوں نے ابھرتے امریکی سامراج کے ناک تلے انقلاب برپا کرکے پچھلی صدی کا سب سے بڑا محیرالعقل کارنامہ سرانجام دیا۔  اس دوران چی گویرا کو سامراجیوں نے بے دردی سے ہلاک کر دیا۔ امریکی سامراج نے فیڈل کاسترو کو بھی متعدد بار قتل کرنے کے لیے  کوششیں کیں جو ناکام ہوئیں۔ انہوں نے کیوبا میں کامیاب اشتراکی انقلاب کی بنیادرکھی۔ وہ مارکسٹ لیننسٹ نظریات کے علمبردار تھے اور مرتے دم تک (نومبر2016) اپنے نظریات پر کاربند رہے۔

کیوبا میں اشتراکی انقلاب نے لاطینی امریکہ پر جواثرات چھوڑے، اس کا علم ہمارے ہاں کم ہی لوگوں کو ہے۔ اس لیے آج بھی لاطینی امریکہ دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں پر سوشلسٹ، مارکسٹ اور اشتراکی، سیاسی و فکری تحریکیں اہم وجود رکھتی ہیں۔ امریکی سامراج کو اپنی ناک تلے ایک اشتراکی انقلابی حکومت کا اس قدر خوف تھا کہ اس نے اس انقلابی حکومت کے خاتمے کے لیے دنیا کو ایٹمی میزائلوں کی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس کے لیے  کیوبن اشتراکی رہنما کے قتل کی سازشیں کی گئیں اور کیوبا کو اقتصادی پابندیوں میں جکڑ کر امریکہ کے قدموں تلے گرنے پر مجبور کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔  جب تمام امریکی سازشیں ناکام ہوئیں تو امریکہ نے بدنامِ زمانہ سی آئی اے کے تحت کیوبن اشتراکی انقلاب کو لپیٹنے کی منصوبہ بندی کی، جس کے تحت گوئٹے مالا اور نکاراگوا سے تربیت یافتہ مسلح گوریلوں کے ذریعے کیوبا پر حملہ کیا گیا۔ اسے Bay of Pigs Invasion کا نام دیا گیا۔

17 اپریل 1961 کو بریگیڈ 2506 نے ردِ انقلاب گوریلا جنگ کا آغاز کیا اور اسے ڈیموکریٹک انقلابی فرنٹ کے نام نہاد پرچم تلے منظم کیا گیا۔ کیوبا نے امریکی سامراج کو صرف تین دن میں شکست سے دوچار کر دیا۔ فیڈل کاسترو انقلابی بھی تھے اور محاذِ جنگ پر لڑتے بھی تھے۔ وہ امریکہ کی سرپرستی میں تیار کردہ ’’خاموش مجاہد‘‘ نہیں تھے ، انہوں نے اس جنگ کی خود قیادت کی۔

امریکہ کی اس شکست نے ایک طرف فیڈل کاسترو کو دنیا میں مقبولیت کی معراج پر پہنچا دیا تو دوسری طرف امریکہ نے اپنی ناکامی پر دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا۔ اس کشمکش میں امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ فیڈل کاسترو نے امریکی دھمکیوں کے سبب سابق سوویت یونین کو کیوبا میں ایٹمی میزائل کی تنصیب کی اجازت  دی تھی۔ کیوبا اور سابق سوویت یونین کے اس اقدام نے امریکی سامراج کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب بھی کیا اور بے بس بھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افریقہ، ہند چینی ایشیا اور لاطینی امریکہ میں سوشلسٹ تحریکیں برپا تھیں اور یوں فیڈل کاسترو، بلا رنگ و نسل و مذہب، آزادی اور انقلابی تحریکوں کے مقبول لیڈر کے طور پر دنیا بھر اپنا مقام پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ شعلہ بیان مقرر تھے اور سیاسی مدبر بھی۔ مرتے دَم تک انہوں نے امریکی سامراج کو اپنے تدبر اور دلیری سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنائی رکھی۔ اس دوران انہوں نے چلی، نکاراگوا، گرینیڈا اور انگولا میں انقلاب و آزادی کی تحریکوں کی مدد بھی کی۔ اُن کے ملک میں صحت کے نظام نے دنیا بھر کو متاثر کیا۔ پاکستان شروع دن سے امریکہ کا اتحادی ہے، لیکن کیوبن ڈاکٹرز نے 2005 کے زلزلے میں جس طرح مدد کی، اس نے اشتراکی کیوبا کے اس فلسفے کو یقین میں بدل دیا کہ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے۔

فیڈل کا سترو کا شمار دنیا کے اُن لیڈروں میں ہوتا ہے جن کی امریکی سامراج اور مغربی میڈیا اپنے طاقتور اور وسائل سے بھرپور نظام کے تحت کردار کشی کرتا رہا۔ ان رہنماؤں میں فیڈل کا سترو کے علاوہ معمر قذافی، جمال عبدالناصر، چاؤ شسکو، ایلا ندے، سوئیکارنو، بلغارین لیڈر ٹوڈرزیکوف، ذوالفقار علی بھٹو، بن بیلا سمیت سینکڑوں لیڈر شامل ہیں۔ فیڈل کاسترو  اور دیگر تمام عوامی رہنما امریکی سامراج کے دِل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ اِن کی حکومتوں کے خاتمے، اِن کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے علاوہ، اِن رہنماؤں کی کردار کشی امریکی سامراج کی پالیسی کی اہم حکمت عملی تھی۔

پچھلی صدی کا آغاز جنگوں سے ہوا، لیکن سوشلسٹ انقلابات اورآزادی کی تحریکیں بھی اس صدی کا عنوان ہیں۔ سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں سوشلسٹ حکومتوں کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا کے مفکروں نے جاری صدی کو جمہوریت کی صدی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ تاریخ کا خاتمہ ہو گیا، سرد جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اگر ہم ٹھنڈے دل، تحقیق اور محنت سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جاری صدی میں مختلف خطوں کو جنگوں کے گرداب میں پھنسا دیا گیا ہے۔ امریکی سامراج نے اس کے لیے گہری پالیسی اپنائی اور خطوں کو جنگ زدہ کرنے کے لیے مذہب کا سہار ا لیا۔ بلقان، یوریشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک جنگوں کے لیے مختلف میدان طے کر دئیے گئے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ اِن اندھی جنگوں میں کئی نامعلوم اور متعدد معلوم چہروں کو عالمی میڈیا میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے ماننے والوں کے ہیرو ہیں۔ لیکن حقیقت میں انہوں نے اپنے ہاں اور اردگرد جنگوں اور تباہی کے سوا کچھ اکٹھا نہیں کیا۔

عراق، شام، لیبیا، افغانستان، پاکستان، ترکی، یوکرائن، چیچنیا، وسطی ایشیا، کاکیشیا، جارجیا سمیت متعدد علاقے اس امریکی سامراجی پالیسی کے اہم خطے ہیں۔ لیکن آج اِن خطوں میں کوئی ماؤزے تنگ، چواین لائی، سوئیکارنو، بن بیلا، معمر قذافی، جمال عبدا لناصر، لینن، چی گویرا اور فیڈل کاسترو آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ یہ دَور ردِ انقلاب کا دَور ہے اور امریکی سامراج نے جنگوں اور میڈیا کی طاقت سے معاملات کو بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔ فیڈل کاسترو اس سلسلے کے اہم ترین اور آخری رہبر تھے جن کے دَم سے پچھلی صدی نے امید اور انقلاب کے خواب دیکھے۔

فیڈل کاسترو اس جہانِ فانی سے الوداع ہوئے لیکن اب ہر طرف جنگ، جنگوں کے سرپرست، دہشت گردوں کو انقلابی بنا کر پیش کرنا اور انقلاب دشمن فضا ہے۔ اُمید اور انقلاب کی فضا بہت حد تک مٹا دی گئی ہے۔ اب اس کو ہی خوشی سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کم یا محدود ہو گئی (عارضی طور پر)۔ کوئی انقلابی تحریک اور عوامی انقلاب صرف ناسٹلجیا میں موجود ہے۔ الوداع فیڈل کاسترو، اس دعا کے ساتھ کہ آج کی نسلیں پھر ایک ایسے زمانے کو دیکھ سکیں جو جنگوں، دہشت گردی، قتل و غارتگری کی بجائے امن ، انقلاب، خوش حالی، ترقی اور حقیقی آزادی سے رقم ہو۔