عورت کے کئی روپ
- تحریر تنزیلہ یوسف
- منگل 29 / نومبر / 2016
- 7222
آدم علیہ السلام جنت میں اپنی تخلیق کے بعد کچھ عرصہ تنہا رہے۔ پھر ایک روز وہ سورہے تھے، سو کر اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس حوا بیٹھی ہوئی ہیں جنہیں اللہ نے آدم کی پسلی سے نکالا۔ یہ آدم کی تنہائی دور کرنے اور ہر طرح کے حالات میں ان کا ساتھ دینے کے لئے بنائی گئی تھیں۔ دنیا میں بھیجے جانے کے بعد بھی دونوں نے ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ بخوبی نبھایا۔
بعد کی تاریخ میں بھی اسی عورت نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ۔ کبھی حضرت ابراہیم کی غم گسار بیوی سارہ کی صورت میں باطل کے مقابل اپنے خاوند کے ہمراہ ڈٹ کر کھڑی رہی، تو کبھی ہاجرہ کے روپ میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے شیرخوار بیٹے کے ہمراہ بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کیا، تو کبھی زلیخا کے روپ میں اپنے معبود حقیقی کے عشق میں خاوند سے بھی بے نیاز ہو جاتی ہے۔ کبھی یہ آسیہ کی صورت مہربان ماں کے روپ میں موسی کو اپنی آغوش میں پناہ دیتی ہے، تو کبھی مریم کے پاکیزہ روپ میں دنیا کے سامنے اپنی پاکیزگی کی گواہی اپنے شیرخوار سے دلواتی ہے۔
اللہ نے عورت کو دین اسلام میں بہت بلند مقام عطا کیا ہے۔ بظاہر صنف نازک کہلانے والی، اپنی ذات سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھانے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔ اس کا اعتراف کم ہی ہوتا ہے مگر وہ ایک الگ قصہ ہے۔ اگر یہ بیٹی ہے تو ماں اور باپ کا فخر مان اور عزت کی نگہبان ہے۔ اگر بہن ہے تو جہاں بھائی سے لاڈ اٹھواتی ہے، وہیں اس کی غم گسار اور بہترین دوست کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ اگر بیوی ہے تو شوہر کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھنا خود پر لازم قرار دیتی ہے اور اس کے بچوں کی تربیت بہترین انداز میں کرنے کو اپنا نصب العین قرار دیتی ہے۔ اپنے خاوند کی عزت کو اس کی غیرموجودگی میں پامال نہیں ہونے دیتی۔ شوہر کے آرام وسکون کا خیال ، بچوں کی ہمدرد و غم گسار ماں کے روپ میں سامنے آتی ہے۔
اولاد کی تربیت ایک طویل اور صبرآزما مرحلہ ہے جسے عورت ہی احسن انداز میں نباہ سکتی ہے۔ یعنی جو عورت بچے کو نوماہ تک سنبھالے پھرتی ہے، وہی یہ صبر آزما کام احسن انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچا سکتی ہے کہ خاوند تو اس کے اور بچوں کے عیش وآرام کے لئے دنیا کے سردوگرم حالات کا سامنا کرتا ہے، بعض اوقات یہ مہربان روپ معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے گھر سے باہر بھی مرد کے شانہ بشانہ چلتی ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہی عورت سسی، ہیر، صاحباں وغیرہ وغیرہ کی صورت میں اپنوں کو ایک بالکل غیر شخص کے لئے بے وفائی کا داغ بھی دیتی ہے۔ مجھے کبھی بھی ان لوک داستانوں میں دلچسپی نہیں رہی۔ یہ روحانی کرپشن ہی تو ہے کہ اپنوں کی عزت داؤ پر لگادی جائے۔
آج کی عورت بھی جدیدیت کے چکر میں بہت سارے میدانوں میں مرد کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ بیٹی ہے تو ماں باپ کی سختیوں کی شکایت کرتی نظر آتی ہے اور گھر سے باہر اپنے لئے دلچسپیاں تلاش کرنا اپنی زندگی کا اولین مقصد سمجھ لیا ہے۔ جو مرد عورت کو شادی سے پہلے ہی حاصل کرلے وہ پھر اس عورت سے شادی کیوں کر کرے گا۔ اسے کیا پڑی ہے کہ شادی کے جھنجھٹ میں پڑکر اپنی آزادی ( عیاشی) کو ختم کرے جب اس کا کام ایسے ہی چل رہا ہے ۔ یا اگر شادی کرے گا تو وہاں جہاں اس کے ماں باپ کی مرضی شامل ہو۔ وہ تو اسی سے شادی کرکے گھر بسائے گا جس کا بال بھی غیر مرد نے نہ دیکھا ہ۔ عرف عام میں جسے باکرہ بھی کہا جاتا ہے۔
سکول کے زمانے میں میری ایک ٹیچر کہا کرتی تھیں کہ اگر کوئی لڑکا لڑکی کو دوستی کی آفر کرتا ہے تو جب تک لڑکی کی مرضی نہ ہو بات آگے نہیں بڑھتی اور نہ اس کی تباہی کا آغاز ہوتا ہے ۔ وہ کسی غیر کے لئے اپنے ماں باپ کی بیس بائیس سال کی محبت کو کیسے ایک اجنبی کی خاطر داؤ پر لگانے کو تیار ہو جاتی ہے۔ جس کو وہ صرف بیس یا بائیس دنوں سے جانتی ہے، اس وقت اس کو لگتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ جن میں اس کے خون کے رشتے سرفہرست ہوتے ہیں سب اس کے دشمن ہیں۔ اور جو ساری دنیا کے لئے برا ہے ایک وہی اس کا خیر خواہ ہے۔ کیا بیس بائیس سال کی محبت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ خالی ذہن ویسے بھی شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے اور آج کل وقت سے پہلے ہی سہولت کے نام پر آسائشیں مل گئی ہیں۔ ان کی بدولت تو یہ گھناؤنا کام اور بھی آسان ہو گیا ہے۔
حیرت ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی کے مصداق کیا ہم تباہی کی طرف نہیں جارہے؟ اپنے انجام سے بے خبر۔