بچہ مزدوری: سرمایہ دارانہ نظام کی بدہیت شکل
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 29 / نومبر / 2016
- 6516
دنیا بھر میں جہاں ہر سال عورتوں کے حوالے سے عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے وہاں اسی دنیا میں بچوں کی مزدوری کے خلاف عالمی دن بھی منایا جاتا ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ مسلم دنیا میں بالخصوص انہی دونوں ’’ہستیوں‘‘ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 35 لاکھ بچے جبری مشقت یا بچہ مزدوری کا نشانہ یا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں 5 سے 14 سال کے 83 فیصد بچے اور نابالغ بچہ مزدوری (چائلڈ لیبر فورس) کا حصہ ہیں اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ بچہ مزدوری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں کی یہ جبری مشقت صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہ لعنت پھیل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم آئی ایل او (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 10 سے 14 سال کی عمر کے تقریباً 73 ملین بچے مزدوری کرتے ہیں۔ جب بچے گھنٹوں تک ہوٹلوں میں، کھیتوں کھلیانوں میں، فیکٹریوں میں ، کارخانوں میں ، بھٹوں میں ، گھروں اور سڑکوں پر جسمانی مشقت کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں تعلیم حاصل کرنے کا احساس کم سے کم تر ہوتا جاتا ہے۔ بچہ مزدوری کے ذریعے ان کی نشوونما ، تعلیم و تربیت اور ان کا بچپن و مستقبل تباہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بچوں سے مشقت نہ لینے کےلئے کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھارت میں ایسے بچوں کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ ہے۔ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کل ’’مزدور بچوں‘‘ کی تعداد کا 56 فیصد بچوں 27 فیصد کمسن بچیوں پر مشتمل ہے جن کا زیادہ تر تعلق پنجاب سے ہے۔ رپورٹ کے مندرجات میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں بچوں کو نہ صرف تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ انہیں چند سو روپے کے عوض 8 سے 18 گھنٹے مشقت کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں 80 لاکھ بچے غلامانہ طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اور سالانہ بارہ لاکھ بچے مزدوری اور جنسی سرگرمیوں کےلئے اسمگل کئے جاتے ہیں۔ پاک سرزمین میں میڈیا فورم کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چند برسوں کے دوران بچوں پر جنسی تشدد ، زیادتی اور قتل کی وارداتوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت مملکت خداداد میں دو لاکھ سے زیادہ بچے جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ اس وقت بچوں پر تشدد کے حوالے سے وطن عزیز دنیا میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔
جہاں تک بھارت کی بات ہے۔ 2006 اکتوبر میں بچوں سے مزدوری لینے کےخلاف قانون پاس ہو چکا ہے جس کی رو سے 14 سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروانے پر 2 سال قید اور بیس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ بچوں کی عالمی تنظیم یونیسف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 75 لاکھ بچے بیگار کیمپوں میں کام کر رہے ہیں۔ دنیا میں ہر آٹھواں بچہ نامناسب انسانی ماحول اور خطرناک صورتحال میں کام کر رہا ہے۔ جبکہ آئی ایل او (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے مطابق دنیا میں 5 سے 14 برس کے 25 کروڑ بچے مزدور ہیں جن میں سے 14 کروڑ بچے اور 11 کروڑ بچیاں شامل ہیں۔ مزدور بچوں کی تعداد کے حوالے سے ایشیا کا خطہ سب سے آگے ہے۔ 61 فیصد جبری مشقت کے شکار بچے ایشیا میں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں 25 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں (5 سے 14 سال) 83 فیصد بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ ملک کی کل چائلڈ لیبر فورس 73 بچوں بچوں اور 27 فیصد بچیوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد کا نصف ہفتے میں کم از کم 35 گھنٹے جبکہ 13 فیصد مزدور بچے 56 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں۔
دنیا میں 20 لاکھ بچے انتہائی خطرناک ماحول میں مختلف صنعتوں سے وابستہ ہیں جبکہ کل چائلڈ لیبر فورس کا سات فیصد شدید بیماری کے دوران کام کرنے اور مختلف حالات کے دوران زخمی ہو جاتے ہیں۔ 25 فیصد بچے اس صورتحال کا کبھی نہ کبھی سامنا ضرور کرتے ہیں۔ جنسی تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد سات فیصد بتائی جاتی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو فیکٹریوں ، گھروں ، ورکشاپوں ، ہوٹلوں ، بھٹوں ، کھیتوں اور تعمیراتی یونٹس میں کام کرتے ہیں اور دوران ڈیوٹی جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ یونیسف کی ایک رپورٹ کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک عزیز میں اس سال بچوں پر جنسی تشدد کے 1384 دلسوز واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے پنجاب میں 830، سندھ میں 440 اور سرحد میں 75 واقعات پیش آئے۔ گزشتہ برس 324 بچوں کے ساتھ اجتماعی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ یہ انکشاف روح فرسا ہے اور یہ اعداد و شمار ہر صاحب اولاد کا دل دہلا دینے کےلئے کافی ہیں۔ حیرت ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے ہوئے وطن عزیز میں بچوں کی بہبود کے حکومتی بلند بانگ دعوے اور این جی اوز کے اعلانات کیا ہوئے۔ والدین معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو کمسنی میں مشقت کی بھٹی میں جھونکنے پر مجبور ہیں۔ ان والدین کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ارباب اختیار اس جانب کیوں توجہ نہیں دیتے۔
والدین کے استدلال میں وزن نظر آتا ہے کہ کون والدین ہوں گے جو اپنے بچوں کو کمسنی میں اسکول کے بجائے ہوٹلوں ، فیکٹریوں اور ورکشاپوں کے سپرد کر دیں۔ اگر ان کے پاس زندہ رہنے کے وسائل ہوں اور یہ تو ہم سب جانتے اور مانتے ہیں کہ جہاں وسائل نہ ہوں وہاں مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ملت یا امہ یا جو بھی ہے ۔۔۔۔۔ کی غربت اور پسماندگی میں صرف مرثیے پڑھنے سے تبدیلی نہیں آئے گی:
وصل کی اب کوئی ترکیب نکالی جائے
صحن کے بیچ کی دیوار گرا لی جائے