فیصل آباد کا ادھورا ادبی میلہ
- تحریر محمد ارسلان محمود
- جمعرات 01 / دسمبر / 2016
- 6827
فیصل آباد کی ادبی سرگرمیوں میں سے سب سے بڑی اور اہم تقریب فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کے نام سے پچیس اور چھبیس نومبر کو آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی۔ کراچی کی اردو کانفرنس، لاہور کے فیض فیسٹیول اور اسلام آباد کے ادبی میلے کے ساتھ ساتھ اب فیصل آباد کا یہ میلہ بھی خوب اہمیت اختیار کر چکا ہے جسے ذرائع ابلاغ میں خوب پذیرائی حاصل رہی۔ نامور ناول نگار بانو قدسیہ کی موجودگی ادبی شائقین کے لیے باعث فرحت بنی رہی۔
لٹریری فیسٹیول کی خاص بات افتتاحی نشست میں نامور ناول نگار بانو قدسیہ کی شرکت تھی ۔ سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور اصغر ندیم سید بھی اس افتتاحی نشست کا حصہ تھے ۔ شاعری پر مشتمل دوسری نشست میں معروف کالم نگار اور پنجابی شاعر منو بھائی، عباس تابش، کشور ناہید، انجم سلیمی اور مزاحیہ شاعر خالد مسعود نے اپنا کلام سنایا۔ کشور ناہید کی طرف سے شاعروں اور سامعین کو بار بار ٹوکنے پر منو بھائی نے ان کو 'ادب دی وڈی پھوپھی' قرار دے ڈالا۔ ادبی میلے میں مدعو کم و بیش نصف مہمان ادیبوں نے شرکت نہیں کی۔
تاہم گزشتہ دو سالوں کی طرح اس برس بھی اس میلے میں فیصل آباد کے ادیبوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی اور صرف پہلے دن ہونے والی شعری نشست میں فیصل آبادی شاعر انجم سلیمی کو مدعو کیا گیا۔ اگرچہ پچھلے سال نشاندہی پر اس فیسٹیول کے منتظمین سارہ حیات اور راؤ منظر حیات نے اس برس فیصل آباد کے ادب پر ایک پوری نشست مختص کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ لیکن یہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کے لیے مایوس کن بات یہ رہی کہ کم و بیش نصف مہمان ادیب اور مقرر مختلف وجوہات کی بناء پر اس لٹریری فیسٹیول میں شامل نہ ہو سکے ۔غیر حاضر ادیبوں میں عطاء الحق قاسمی، آصف فرخی، نعیم بخاری، فاروق قیصر (انکل سرگم)، ظفر اقبال اور عتیقہ اوڈھو شامل تھیں، جس کے سبب فیسٹیول کے دوسرے دن مہمانوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے شیڈول میں شامل چار نشستیں نہ ہو سکیں۔
دوسرے روز میزبانی کے فرائض مشہور ٹی وی کمپیئر نورالحسن نے سر انجام دیئے جبکہ عرفان کھوسٹ، سرمد سلطان کھوسٹ، آفتاب اقبال اور زیبا محمد علی جیسے نامور فنکاروں نے اپنی پرلطف گفتگو سے سامعین کو محظوظ کیا۔ معروف ادیب ڈاکٹرعارفہ سید اور مؤرخ و تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ، ثقافت اور تہذیبی ورثہ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انگریزی نشست میں عبدالستار ایدھی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تہمینہ درانی کی نئی کتاب 'اے مرر ٹو دی بلائنڈ' کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ایدھی صاحب کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
پچھلے سال کے برعکس اس مرتبہ پنجابی زبان کے لیے کوئی بھی نشست مقرر نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے وہاں موجود پنجابی ادب کے سامعین مایوس دکھائی دیئے ۔ مدعو کردہ مہمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود نہ ہونے کے باعث رواں سال کا لٹریری فیسٹیول ادھورا محسوس ہوتا رہا اور مقررہ وقت سے پہلے اختتام پذیر ہو گیا۔ شیڈول میں درج نشستوں کی ترتیب اور وقت کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ اگر گفتگو کی نشستیں کم کرکے ان میں قوالی، داستان گوئی یا بیت بازی کی نشستیں شامل کرلی جاتیں تو ادبی میلے کو دلچسپ بنایا جا سکتا تھا۔ اس طرح شاید اس کے ادھورے پن کا احساس بھی کم ہوتا۔ تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس میلے میں شرکت کرکے فیصل آباد کے باسیوں کے اعلیٰ ادبی ذوق کا بھرپورثبوت دیا۔ اس کا اعتراف مہمان ادیبوں اور دیگر شخصیات نے بھی کیا۔