ایک انقلابی لیڈر کی موت

25 نومبر کو فیڈل کاسترو کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد کیوبا کے لوگوں میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی اور حکومت نے9 دن تک ملک میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ فیڈل کاسترو ایک انقلابی اور متنازعہ شخصیت تھے جس کی وجہ سے دنیا کے لیڈر اور تاریخ دان ان کے بارے میں ملی جلی رائے رکھتے ہیں۔ فیڈل کاسترو کے حامیوں کا ماننا ہے کہ وہ کیوبا میں استحکام لائے۔ جبکہ فیڈل کاسترو کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک جابرانہ حکومت کو بدل کر دوسری آمرانہ حکومت  قائم کی۔

کیوبا کے سابق صدر اور دنیا میں لمبی مدت تک حکومت کرنے والے 90 سالہ فیڈل کاستروکو دنیا کے اہم لیڈروں کی فہرست میں ایک ’شناخت کے قابل لیڈر ‘ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترونے 50 سال تک حکومت کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ چند سال قبل خراب صحت اور ضعیفی کی وجہ سے فیڈل کاسترو نے اپنی ذمّہ داری سے سبکدوش ہو کر اپنے بھائی راؤل کاسترو کو کیوبا کا صدر بنایا تھا۔ فیڈل کاستروکی موت کا اعلان کیوبا کے موجودہ صدر اور ان کے بھائی راؤل کاسترو نے ٹیلی ویژن پر آکر کیا۔
اس بات کوماننا پڑے گا کہ فیڈل کاسترونے پچھلے پانچ دہائی میں کیوبا کو ایک عظیم ملک بنا نے کی جی توڑ کوشش کی اور اس کو سوشلسٹ اسٹیٹ بنانے میں نمایاں رول نبھایا تھا۔ فیڈل کاستروسویت یونین کے ٹوٹنے اور دم توڑنے کے باوجود  امریکہ کے اثرو رسوخ کے خلاف تن تنہا کھڑے رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  فیڈل کاستروکو اکیسویں صدی کا ایک اہم اور متنازعہ شخصیت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

فیڈل کاستروکی موت پر جہاں دنیا کے زیادہ تر ممالک اور لیڈروں نے خراجِ تحسین کا اظہار کیا ہے تو وہیں امریکہ کے  نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’ فیڈل کاسترو ایک ظالم ڈکٹیٹر تھا‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ کیوبا ایک آزاد مستقبل کی طرف گامزن ہوگا۔‘ تاہم امریکہ کے موجودہ صدر بارک اوباما نے فیڈل کاسترو کی موت پر کہا کہ ’ اب وقت آچکا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیڈر بات چیت جاری رکھیں تاکہ کیوبا کے لوگوں کی بھلائی ہو۔‘ اس سے قبل بارک اوباما نے ایک گھنٹے تک راؤل کاسترو سے فون پر بات چیت کی۔

فیڈل کاسترو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر منصفانہ طور پر حکومت چلائی تھی اور وہ ایک ڈکٹیٹر تھے۔ لیکن وہیں بہت سارے لوگ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ فیڈل کاسترو نے کیوبا کی فلاح و بہبود کے لئے عمدہ کام کیا۔ وہ غریبوں کی بھلائی کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ 1960میں فیڈل کاسترو نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ کیوبا سے ناخواندگی کو ایک سال میں ختم کردیں گے۔ اس کے بعد کیوبا میں ناخواندگی 23% فی صد سے گھٹ کر 4% فی صد ہو گئی۔ جس کے لئے انہوں نے رضاکاروں کی مدد لی۔
فیڈل کاسترو نے اپنے دورِ حکومت میں سویت یونین کو اپنا دوست بنایا تھا جو کہ امریکہ کو سخت ناپسند تھا ۔ اس کی ایک وجہ کیوبا امریکہ کے قریب ہی واقع ہے ۔ امریکہ نے کیوبا اور سویت یونین کی دوستی سے ناراض ہو کر کیوبا پر اقتصادی پابندی لگا دی تھی۔ جس پر فیڈل کاسترو نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ پر غیر منصفانہ قدم کا الزام لگا یا تھا۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ فیڈل کاسترو پر امریکی خفیہ ایجنسی(CIA) سی آئی اے نے لگ بھگ 600سے زائد بارقتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کی شاید ایک وجہ یہ تھی کہ فیڈل کاسترو نے امریکہ کے پچھواڑے ایک انقلابی لیڈر کے طور پر کیوبا کو ایک کمیونسٹ اسٹیٹ بنایا تھا جو کہ امریکہ کے لئے اب بھی درد سر بنا ہوا ہے۔ فیڈل کاسترو کے دشمن انہیں بے رحم اور ظالم ڈکٹیٹر کہتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ انہوں نے سویت یونین سے گہری دوستی کی تھی اور جس سے ایک بار دنیا نیو کلئیر جنگ کے دہانے پر آگئی تھی۔ کاسترو کیوبا اور دیگر حمایتی ممالک میں ایک انقلابی لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کاسترو نے اتنی مدّت تک کیوبا پر تن تنہا حکومت کی تھی۔

بچپن سے ہی فیڈل کاسترو کو کیوبا کی حکومت اور اس کے طریقہ کار سے سخت اختلاف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ کیوبا میں کافی مسائل ہیں اور حکومت عام لوگوں کی پریشانیوں پر توجہ نہیں دے رہی تھی۔ فیڈل کاسترو نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج تیار کی تاکہ وہ کیوبا پر قبضہ کرلیں اور اس بات کا عہد کیا کہ کیوبا کی غریب عوام کی مدد کرنا ان کا پہلا قدم ہوگا۔ کاسترو نے اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں کوئی اپوزیشن نہیں ہوگی، نہ ہی ان کی کوئی مخالفت کرے گا اور الیکشن کروانے سے انکار کر دیا۔ کاسترو نے بہت سارے لوگوں کو جیل میں ڈال دیا اور بہت سارے لوگ جنہوں نے فیڈل کاسترو کی مخا لفت کی تھی وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔

فیڈل کاسترو کی پیدائش 1926میں کیوبا میں ایک غیر شادی شدہ ماں باپ ے ہاں ہوئی تھی۔ ان کے والد اینجل گنّے کی کاشت کے رئیس تاجر تھے اور ان کی ماں لینا گوناجالیز ان کے والد کی نوکرانی تھیں۔ کاسترو اپنے والد کے فارم میں(Haitian) ہیٹئین مزدوروں کے ساتھ پلے بڑھے تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عدم مساوات کے شکار مزدوروں کو دیکھا تھا ۔ 8  سال کی عمر میں کاسترو کو (Santiago) سانٹیاگو کے سخت بورڈنگ اسکول میں ڈال دیا گیا ۔ ایک اڑیل لڑکا ہونے کی وجہ سے کاسترو کو اپنے ساتھیوں اور اساتذہ سے جھڑپ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں کاسترو کو (Jesuit) جے سوٹ اسکول میں داخل کیا گیا جہاں وہ اپنے اساتذہ کے ذاتی اعزاز کی اقدار اور ہمت سے کافی متاثر ہوئے۔ ایک ہونہار نوجوان ہونے کی وجہ سے کاسترو نے اسپورٹس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور خاص طور پر باسکٹ بال میں خوب نام کمایا۔

فیڈل کاسترو نے ممتاز سیاستداں میرتھا کی بیٹی میرتھا ڈایاز دی نونیز سے شادی کی تھی جو کہ کاسترو کی یونیورسٹی کی ساتھیوں میں سے تھیں۔ میرتھا کی فیملی نے کاسترو کی بنیاد پرست سیاست کو نامنظور کر دیا تھا لیکن انہوں نے کاسترو کو امریکہ ہنی مون جانے کے اخراجات کو بطور تحفہ ادا کیا تھا۔ 1945میں فیڈل کاسترو نے (Havana) ہوانا یونیورسٹی سے قانون میں ڈگر ی حاصل کی تھی۔ کاستروکو یونیورسٹی میں ناانصافی اور سر کشی کا احساس تھا اور جس کے لئے انہیں یونیورسٹی میں نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یونیورسٹی میں اسلحہ سے لیس سیاسی جماعتوں کا قبضہ تھا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق طلباء میں کتابیں بانٹتے  نتائج کا فیصلہ کرتے تھے۔ کاسترو نے طلباء کی سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن کاسترو جب اسٹودنٹس فیڈریشن کے صدر بننے میں ناکام ہوئے تو وہ کافی پریشا ن ہوئے۔ تاہم کاسترو کی کرشماتی تقاریر اور حکومت پر تنقید نے لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کیا۔ 

1947 میں کاسترو معروف لیڈر چھیباس کی مقبول سماجی انصاف سے منسلک سوشلسٹ پیغام اور کرپشن کے خلاف جنگ سے متاثر ہوکر (Partido Ortodoxo) میں شامل ہوگئے۔1951میں فیڈل کاسترو کو اس وقت بہت بڑا دھچکہ لگا جب ان کے سر پرست چھیباس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کے بعد فیڈل کاسترو نے کیوبا کے سیاسی مسائل کے حل کے لئے کارل مارکس کی باتوں اور خیالات کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ کاسترو کا کہنا تھا کہ ’ مارکسزم نے مجھے سکھایا ہے کہ معاشرہ کیا تھا۔ میں جنگل میں آنکھوں پر پٹی باندھے بھٹک رہا تھا، جسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ شمال اور جنوب کہاں ہیں‘۔

1952میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انہوں نے کیوبن کانگریس میں قدم رکھا لیکن ان کو اس وقت ناکامی ہوئی جب Batista باتیستا نے فوجی بغاوت کے بعد کیوبا پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ کاسترو نے اپنے ہزاروں کامریڈوں کا قتل ہوتے دیکھا تھا اور فیڈل کاسترو کا جمہوری سسٹم سے اعتماد اُٹھ گیا۔ اس کے بعد ہی سے انہوں نے مسلح انقلاب لانے کی ٹھان لی۔ فیڈل کاسترو اور ان کے بھائی راؤل کاسترو نے زیرِ زمین انقلابی تنظیم کی تشکیل دی اور اپنے ساتھیوں کو ملٹری ٹریننگ دینا شروع کیا۔ کاسترو اور ان کے ساتھیوں نے Batista باتیستا حکومت کے خلاف جم کر لڑائی کی اور ان کے بیچ کافی جھڑپیں ہوئیں ۔ 1958میں  Batista باتیستا کیوبا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ جنوری 1959میں فیڈل کاسترو ہوانا میں ہیرو بن کر داخل ہوئے اور کیوبا کے لوگوں کے لئے ایک انقلابی لیڈر بن کر کیوبا کے صدر بن گئے۔