حضرت عثمان کا بینک اکاؤنٹ
- تحریر جاوید صدیقی
- جمعرات 01 / دسمبر / 2016
- 39645
سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آج بھی کرنٹ اکاؤنٹ موجود ہے۔ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے ۔ آج بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے، مسجد نبوی کے پاس ایک عالی شان رہائشی ہوٹل زیر تعمیر ہے جس کا نام عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوٹل ہے۔
یہ وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدق نیت کا نتیجہ ہے۔ مسلمان جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے صاف پانی کی بڑی قلت تھی۔ ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا۔ اس کنویں کا نام بئر رومہ یعنی رومہ کنواں تھا۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے ۔ ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطا کرے گا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ یہودی سے کہا پورا کنواں نہ سہی ، آدھا کنواں مجھے فروخت کر دو۔ اس طرح ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہوگا اور دوسرے دن میرا ہوگا۔ یہودی لالچ میں آ گیا۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان اپنے دن میں پانی زیادہ پیسوں میں فرخت کریں گے اس طرح زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا۔ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان کو فروخت کر دیا ۔ حضرت عثمان نے پانی لینے کا اپنا دن مسلمانوں کے لئے وقف کردیا۔
لوگ اس دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لیے بھی ذخیرہ کر لیتے۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہیں جاتا۔ یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی گزارش کی۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی ہو گئے اور پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا ۔ اس دوران ایک آدمی نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کنواں دوگنی قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے۔ اس نے کہا میں تین گنا دوں گا۔ حضرت عثمان نے فرمایا مجھے اس سے کئی گنا کی پیش کش ہے۔ اس نے چار گنا پیشکش کی لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا جواب وہی تھا۔ وہ آدمی رقم بڑھاتا گیا اور حضرت عثمان انکار کرتے رہے۔ آخر اس آدمی نے پوچھا کہ حضرت کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا۔ یہاں تک کہ کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا۔ عثمانی سلطنت کے دور میں اس باغ کی دیکھ بھال ہوئی۔ بعد میں سعودی عہد میں اس باغ میں کھجوروں کے درختوں کی تعداد پندرہ سو پچاس ہو گئی ۔ یہ باغ میونسپلٹی میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ وزارتِ زراعت یہاں کی کھجور، بازار میں فروخت کرتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بینک میں جمع کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اکاؤنٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی کہ مرکزی علاقہ میں ایک پلاٹ لیا گیا جہاں فندق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیاگیا ہے۔ اس ہوٹل سے ایک اندازے کے مطابق کم از کم سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی ہوتی ہے۔ اس آمدنی کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم ہوتا ہے اور باقی آدھا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بینک اکاونٹ میں جمع کردیا جاتا ہے۔
اندازہ کیجئے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایثار کو اللہ تعالیٰ نے کیسے قبول فرمایا اور اس میں ایسی برکت عطا کی کہ قیامت تک کے لئے صدقہ جاریہ بن گیا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ تجارت کی۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ، اچھا قرض، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیا۔ دنیا کی پہلی اسلامی ریاست مدینۃ المنورہ تھی۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ کو ریاست کے آئین و قوانین کا پابند ہو نا چاہئے۔ لیکن وطن عزیز پاکستان میں کیا ایسا ہی ہؤا ہے؟ ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خود پاکستانی عوام بھی ہیں۔ جو کرپٹ، بدعنوان اور لوٹ مار کرنے والوں کو اپنا لیڈر منتخب کرتے ہیں۔ عوام ان لوگوں کے ماضی اور حال کے بارے میں جانتے ہیں ۔ پھر بھی اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کی وجہ سے بار بار انہی لوگوں کو منتخب کرکے ریاست پاکستان کو برباد کرنے سے نہیں باز آتے۔
مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی ترغیب اثر انگیز نہیں ہوتی۔ علما و مشائخ کے درس بے اثر رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما بھٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ مسلمان ہیں۔ وہ اللہ اور حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ سے عقیدت و احترام اور محبت کا رشتہ بھی رکھتے ہیں۔ پھر بھی وہ بھول گئے ہیں کہ خود ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل سے ہمیں نظام ریاست عطا کیا تھا۔ ایسی ریاست کا نظام چلایا کہ جس میں ہر مذہب ، مسلک اور انسان کو حقوق حاصل تھے۔ ہمارے ہاں یہ صورت حال نہیں ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کا چلن ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں پاک افواج نے دہشتگردی پر قابو تو پالیا لیکن دہشت گردی کی اصل جڑ کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانی، بندر بانٹ، اقربا پروی اور لاقانونیت اسی طرح موجود ہے۔ ہمارے سیاستدان کوئی ایسا قانون نہیں بنانا چاہتے جس سے ان کی شان و شوکت میں فرق آئے۔ انہیں تومظلوموں پر ظلم کرنا اور غرور و تکبر کے دائرہ میں رہنا ہی پسند ہے۔
ان حالات میں حکمرانوں کے علاوہ عوام پر بھی حالات کو تبدیل کرنے اور اپنے اسلاف کی زریں روایات کو اآگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔