مرض ایڈز سے پاک دنیا

یکم دسمبر کو عالمی سطح پر یوم ایڈز منایا جاتا ہے۔ اس دن صحت کی تنظیمیں ، کالج اور اسکول کے طلبا ریلیاں نکالتے ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ حکومت کے پیغام کو عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایڈز کے مریضوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور پھر دنیا اپنی ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ 1995 میں امریکی صدر نے یکم دسمبر کو عالمی یوم ایڈز قرار دیا تھا اور اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ادارہ صحت WHO کے ایڈز مشن میں کام کرنے والے دو صحافیوں  نے 1988 میں پہلی مرتبہ عالمی یوم ایڈز منانے کی تجویز رکھی تھی، جسے اقوام متحدہ نے قبول کیا اور باضابطہ طور پر ہر سال یکم دسمبر کو عالمی یوم ایڈز کی تقاریب کا  اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایڈز کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ایچ آئی وی اور اس موذی مرض کے خلاف بر سرپیکار ایک اہم گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بالآخر ایڈز کے خاتمے کے آغاز تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ برس پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایچ آئی وی سے نئے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایسے ایچ آئی وی پوزیٹیو افراد کے مقابلے میں کم تھی، جن کی رسائی ان ادویات تک ممکن بنائی گئی۔ یہ دوائیں  ایڈز سے بچنے کیلئے اب انہیں زندگی بھر استعمال کرنا ہوں گی۔ اقوام متحدہ کی ایڈز ایجنسی (UNAIDS) کے مطابق اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کیلئے آگاہی پیدا کرنے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی ایڈز سے بچاؤ کی ادویات تک رسائی بڑھانے اور دیگر اقدامات کی بدولت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سال 2030 تک دنیا سے اس جان لیوا بیماری کا خاتمہ ہو سکے۔ اس مہم کو ’کلوز دی گیپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ فی الوقت پوری دنیا میں لگ بھگ 4کروڑ افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جیسے تیسے جی رہے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق تجرباتی ایچ آئی وی ویکسین کی مدد سے پہلی بار انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ ویکسین پہلے سے موجود تجرباتی ویکسین کو ملا کر تیار کی گئی ہے جسے تھائی لینڈ میں 16ہزار افراد پر آزمایا گیا ہے۔ ویکسین ٹرائل کا یہ اب تک کا سب سے بڑا تجربہ ہے ان 16ہزار افراد کا رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات ویکسین بنانے والے ماہرین کو پیش کرنا ایک نہایت ہی قابل تعریف و تحسین اقدام ہے۔ اس ویکسین نے ایڈز جیسی بیماری کو پھیلانے والے ایچ آئی وی وائرس کے انفیکشن کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کردیا ہے۔ اس تحقیق  کو  بڑی کامیابی مانا جارہا ہے جس پر امریکی فوج کے ڈاکٹر اور تھائی حکومت کی مدد سے سات برس کام کیا گیا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ شعور بیدار اور بہتر علاج کی سہولتوں کے ساتھ اس مرض پر بہت حد تک قابو پایا جاسکے گا۔ ہماری آنے والی نسلیں اس موذی مرض سے پاک دنیا میں جی سکیں گی۔

مرض ایڈس HIV وائرس سے پھیلتا ہے۔ HIV یعنی (Human Immuno Deficiency Virus ) انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو نا کارہ بنا دیتے ہیں۔ یعنی انسانی جسم میں جراثیم سے لڑنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ HIV کی انتہائی حالت (AIDS) ( Immuno Deficiency Syndrome Acquired ) کہلاتی ہے۔ یعنی اگر کوئی انسان HIV سے متاثر ہو جائے تو وہ فوری نہیں مر جاتا اگر وہ مخصوص دوائیں لے طاقت ور غذائیں استعمال کرے اور صحت مند زندگی گذارے تو آٹھ تا دس سال کے بعد HIV ایڈز کی حالت کو پہنچتا ہے۔ HIV کا وائرس انسانی جسم کے درجہ حرارت میں زندہ رہتا ہے۔ یعنی اسی گرمی کے مائعات خون و غیرہ میں زندہ رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈز کی ابتدا براعظم افریقہ سے ہوئی اس کو پہلی مرتبہ 1981 میں دریافت کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک ساری دنیا میں اس مرض سے 40ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اور  35 ملین سے ذائد افراد جن میں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں اس مرض سے متاثر ہیں۔

عالمی یوم ایڈز کے موقع پر UNO کے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحرا سے ملحق افریقی علاقوں میں  ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔  یہاں اس مرض کا شکار ایک تہائی لوگ 14 سے 24 برس کی عمر کے ہیں جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس موذی مرض کی پکڑ میں آچکے ہیں۔ آج ساری دنیا میں اس مرض سے متاثرہ افراد میں بر اعظم افریقہ  سر فہرست ہے۔ ہندوستان اور جنوبی ایشیائی ممالک میں  اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ’’معمولی معلومات‘‘ بھی نہیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ ، وسطیٰ افریقہ، مشرقی ایشیا میں ایسے لوگوں کی گنتی ایک اندازے کے مطابق 13لاکھ سے زائد ہے۔ شمالی امریکہ میں 7لاکھ ، مغربی یورپ میں 6لاکھ ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اور کریبین علاقوں میں چھ لاکھ سے زائد افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے۔

عالمی سطح پر ادارہ صحت اور دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے اس مرض کی روک تھام اور عوامی شعور کی بیداری کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے اقدامات غیر فطری ہیں۔ اور مرض پر قابو پانے کے بجائے اس کے مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ HIV وائرس افریقہ کے بندروں میں پایا گیا تھا۔ وہ وہیں سے انسانی جسم میں منتقل ہوا۔ HIV وائرس کس طرح بندروں سے انسانی جسم میں داخل ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ ایڈز (AIDS) موجودہ دور کی ایک لاعلاج بیماری ہے۔  اس بیماری سے سارے عالم میں لاکھوں اموات واقع ہو رہی ہیں۔ ان میں مرد، عورت، نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں سبھی شامل ہیں۔

بنیادی طور پر HIV چار طریقوں سے پھیلتا ہے۔ HIV سے متاثرہ عورت یا مرد سے غیر محفوظ جنسی تعلقات کے نتیجہ میں، متاثرہ مریض کا خون کسی صحت مند انسان کو لگانے سے، ایڈز کے متاثرہ مریض کیلئے استعمال کی گئی سوئی یا بلیڈ استعمال کرنے سے، یا ایڈز سے متاثر حاملہ عورت سے پیدا ہونے والے بچے اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ایڈز ایک متعدی مرض نہیں ہے یہ ہوا، پانی، غذا، مکھی، مچھر سے نہیں پھیلتا۔ متاثرہ شخص کے استعمال کردہ حمام، بیت الخلا اور تولیہ سے نہیں پھیلتا۔ ایڈز کے مریض کےساتھ اْٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور رہنے سہنے سے نہیں پھیلتا۔ دنیا میں 90 فیصد ایڈز غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیل رہا ہے۔ باقی 10% دیگر تین ذرائع سے پھیل رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور ریاست آندھرا پردیش ایڈز سے متاثرہ مریضوں میں ہندوستان سب میں سر فہرست ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایڈز کے مطابق عالمی سطح پر اس مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں بھی واضح کمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ایڈز کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیش رفت کی وجہ دواؤں کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا بھی شامل ہے۔ اس سالانہ رپورٹ میں تازہ ترین اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ایڈز سے سب سے زیادہ ہلاکتیں 2005 میں ہوئی تھیں اور یہ تعداد 23 لاکھ تھی، جو اب کم ہو کر 2011 کے اختتام تک 17 لاکھ رہ گئی ہے۔ 2010 میں ایڈز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ لاکھ تھی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 34 ملین افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں عالمی برادری کی ایڈز کے خلاف اجتماعی کوششوں کو انتہائی مناسب اور شاندار خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دنیا بھر میں آ پس کے تعلقات یا انتقال خون سے پھیلنے والے انتہائی خطرناک مرض میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔