ابصار عالم کیا چاہتے ہیں
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 03 / دسمبر / 2016
- 6154
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نیو ٹی وی کی ابتدا سے اس قومی ٹی وی چینل سے نہ صرف منسلک ہوا، بلکہ مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ٹی وی کی انتظامیہ نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے پرائم ٹائم پروگرام ’’دستک‘‘ کرنے کا موقع دیا۔ دستک نے اس روایت کو توڑا کہ ریٹنگ کی غرض سے پرائم ٹائم میں "Dog Show" کیا جائے اور اس کے لیے نام نہاد معروف چہروں کو سکرین پر دکھایا جائے۔ بلکہ ’’دستک‘‘ کا حُسن اور اس کی کامیابی اس کا مواد Content تھا۔ معلومات، علم، شعور اور جمہوری مکالمہ۔ اشرافیہ کی شادیاں، نکاح اور طلاقوں کی بجائے عوامی موضوعات اس پروگرام کی کامیابی کا سبب تھے۔
ہمارا الیکٹرانک میڈیا شروع دن سے اشرافیائی کہانیوں، داستانوں اور اشرافیہ کی جنگ وجدل کا حصہ بنا ہوا ہے، ایسے ماحول میں ایسی غیر مقبول لائن اپنانا ایک مشکل کام تھا۔ اس میں چیئرمین نیو ٹی وی چوہدری عبدالرحمان کا اعتماد بنیادی سبب تھا جو انہوں نے مجھ پرکیا اور کبھی کسی طرح سے مداخلت، ہدایت یا حکم نامہ جاری کرنے کی بجائے خوش دلی سے انہوں نے ’’دستک‘‘ کی سرپرستی کی۔ اور یوں چند ماہ میں ’’دستک‘‘ پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں اثرپذیر پروگرام کے طور پر جانا جانے لگا۔ اسی لیے نیو ٹی وی ہو یا پاکستان ٹیلی ویژن دونوں ہی میرے لیے قابل احترام ہیں کہ اِن کے پلیٹ فارم سے میرے جیسے ترقی پسند شخص کو اپنا علمی اور فکری حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ وگرنہ الیکٹرانک میڈیا ہمارے جیسے لوگوں کو میزبان یا مہمان کی حیثیت سے کم ہی خوش آمدید کہتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں عملی سیاست میں ایک متحرک شخص رہا ہوں۔ لیکن اوائل نوجوانی سے قلم بھی میرا اہم ترین ذریعہ اظہار ہے، اور ایک وقت آیا کہ میں نے عملی سیاست کے بندھن کوتوڑ کر صرف قلم اور علم کو ہی مکمل اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اس کے لیے ایسے سیاسی کیریئر کو خیر باد کہا جس کے لیے ہمارے ہاں سیاسی لوگ ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے اپنے سماج میں علم و فکر کا چراغ روشن کرنا تھا۔ میری کالم نگاری بھی اسی کا حصہ ہے۔ اس میں مجھے جو اطمینان ہے وہ سیاست کی شہرت اور سیاست کے بدلے اقتدار کی طاقت میں نہیں۔
ہمارے ہاں پچھلی دو تین دہائیوں سے ایک دلچسپ رحجان سامنے آیا ہے۔ یعنی صحافت کے شعبے سے سیاست یا اقتدار کی طرف مائل ہونا۔ متعدد صحافیوں نے سیاست اور اقتدار کے لیے قلم و علم کا سفر چھوڑ دیا، اس لیے کہ وہ ’’افسری‘‘ کرنے کا خواب دل میں رکھتے تھے۔ عوام کی خدمت تو محض ایک بہانہ تھا۔ ہم دیکھتے ہیں ہر دور میں متعدد صحافیوں نے مختلف حکومتوں کے دربار میں رتبے پائے۔ راقم کو پچھلی حکومت میں ایک ایسی ہی نوکری کی آفر کی گئی، ایک ایسے مقام اور کرسی کی جس کے لیے بڑے بڑے دانشوروں کی رالیں ٹپکتی ہیں۔ لیکن مجھے معلوم تھا اگر میں نے یہ افسری قبول کرلی تو میرا قلم اور علم کا سفر معدوم ہو جائے گا۔ اور میں اشرافیہ کے دربار کا ممنون ہو جاؤں گا، جو مجھے قبول نہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی صحافی کو اعلیٰ سرکاری نوکری عطا کی جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس قابل ہے یا اس عہدے کے لیے کوالیفائیQualify کرتا ہے، بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ ہمارے دربار کا اہم کَل پرزہ ثابت ہوگا۔ کئی قلم کاروں نے دربار میں خلعت پائی اور متعدد انتظار میں کھڑے ہیں۔ اسی خلعت پانے والوں میں ابصار عالم بھی ہیں جن کو سرکار نے نوکری دینے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی۔ ماسٹر ڈگری اور طے شدہ تجربہ جو پیمرا کے لیے درکار تھا، اس کو بدلا گیا۔ اور یوں ’’خبروں سے کھیلنے والے ایک شخص‘‘ کو 22 ویں گریڈ سے بھی اوپر نوکری عطا کی گئی۔ اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ موجودہ حکومت میں ایک وفادار نوکر ہیں۔ اگر وہ وفادار ثابت نہ ہوئے تو ان کو نکال دیا جائے گا۔ یہ اُن کے نوٹیفیکیشن میں لکھا ہے، یعنی اُن کی میعاد نہیں لکھی گئی بلکہ تاحکم ثانی وہ نواز حکومت کے سایہ تلے نوکری کرتے رہیں گے۔
نیو ٹی وی کے ایک پروگرام پر ان کو اعتراض تھا تو اِس کے متعدد طریقہ کار تھے۔ متعلقہ اینکر کو شوکاز نوٹس دینا، اُس کو طلب کرکے موقف پیش کرنے کا حق دینا وغیرہ۔ لیکن ابصار عالم نے دربار سے وفاداری دکھاتے ہوئے نیو ٹی وی کو ہی سات روز کے لیے بند کردیا۔ دراصل انہوں نے دربارِ عالیہ کو پیغام دیا ہے کہ دیکھیں میں آپ کے لیے کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اس طرح پروگرام ک مواد Content پر اعتراض ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ متعصب Biased ہیں۔ اسی لیے انہوں نے چینل کو ہی سات روز کے لیے قفل لگا دئیے۔ موصوف صحافت کے پیشے میں جس قدر کامیاب تھے، اس کا سب کو ہی علم ہے کہ اُن کی کامیابی بھی اُن صحافیوں کی طرح ہی تھی جو نواز دربار، زرداری دربار، عمران دربار، مذہبی دربار، عسکری دربار اور سامراجی دربار سے کامیابیوں کی سند کے طلب گار ہوتے ہیں۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صحافت میں ’’اعلیٰ مقام ‘‘ پانے کے لیے کیا اہم ہے تو میرا یہ جواب سن کر اکثر طالب علم حیران ہو جاتے ہیں کہ اس کے لیے کسی ایک دربار کی چوکھٹ پر کھڑا ہونا لازم ہے۔ ورنہ آپ کا صحافتی مستقبل ڈانواں ڈول ہی رہے گا۔ آپ اپنے قلم کی بدولت جنگ لڑتے لڑتے تھک جائیں گے ۔ ایسے لوگ کم ہی ہیں جو اپنے قلم کی بنا پر زندہ رہنا پسند کرتے ہیں۔ بیشتر کے قلم کی سیاسی انہی میں سے کسی ایک دربار سے لی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اینکرز اور کالم نگار اپنے پروگراموں اور کالموں میں کسی ایک دربار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے جیسوں کو ایک کالم پر کوئی ایک سیاسی دربار لعن طعن بھیجتا ہے تو دوسری بار دوسرا سیاسی دھڑا۔ عسکری اور سامراجی دربار تو روزِ اوّل سے ہی ہم سے نا لاں ہیں کہ ہم ٹھہرے عوام اور عوامی حقوق کی بات کرنے والے۔
جہاں تک ابصار عالم کا تعلق ہے، کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ اُن کی رسائی ’’ہزاروں میل سمندر پار‘‘ کارندوں تک بھی رہی ہے۔ وہ ایک ایسے ادارے کے پاکستان میں سربراہ رہے ہیں، جس کو مشہورِ زمانہ امریکی سامراجی سرمایہ دار جارج سورس کے ادارے کی فنڈنگ تھی۔ وہ Foundation Open Society Institute Pakistan کے کرتا دھرتا ہیں۔ یہ ادارہ پاکستان سمیت متعدد وسطی ایشیائی اور مشرقی یورپ کے اُن ممالک میں مختلف پراجیکٹس کے ذریعہ جو فریضہ سرانجام دیتا ہے، وہ ’’ہزاروں میل سے عالمی حکمرانی کرنے والے دربار‘‘ کا حصہ ہے۔ ممکن ہے اُسی دربار کو خوش کرنے کے لیے ابصار عالم چیئرمین پیمرا نے نیو ٹی وی کے پروگرام میں نہتے کشمیریوں کے موقف کو بلند کرنے کے خلاف اپنے حکم نامے کی طاقت کو استعمال کیا ہو۔
متذکرہ ادارہ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں امریکہ کے بدنامِ زمانہ ایک سرکاری ادارے کا آلہ کار بھی ہے۔ ایسے ادارے جمہوریت اور صحافت کے فروغ کے نام پر جو گُل کھلا رہے ہیں، اس کا ادراک ہمارے ہاں چند لوگوں کو ہی ہے۔ ابصار عالم نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے نیو ٹی وی نہیں کشمیر پر موقف اختیار کرنے پر اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے نیو ٹی وی کے لب سات روز کے لئے بند کرکے، دوسرے ٹی وی چینلز کو بھی پیغام دیا ہے کہ دیکھو میں یہ بھی کر سکتا ہوں۔ یوں انہوں نے پیمرا کے چیئرمین کم اور نواز دربار کے وفادار ہونے کا زیادہ ثبوت دیا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
نیو ٹی وی، پاکستان میں شفاف صحافت کا علمبردار ہے۔ اگر اس کے کسی مواد Content پر کسی ادارے کو اعتراض تھا تو اس کے لیے قانون کا سہارا لیا جاتا نہ کہ حکمرانی کے قلم دان کا ۔ ابصار عالم صاحب، اگر آپ پیشہ ور صحافی ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔