ملک حاکمین خان کی خود نوشت
- تحریر شاہداقبال شامی
- ہفتہ 03 / دسمبر / 2016
- 5847
اکتوبر 1999کی ایک چمکتی صبح گاؤں سے شہر جانے کے لئے تانگہ پر بیٹھ کر عازم سفر ہوا۔ راستے میں ساتھ بیٹھے شخص نے بڑی خوشی سے بتایا کہ رات کو جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس وقت باقی لوگوں کی طرح میں بھی خوش ہوا۔ ہمارے گھرمیں اس وقت ٹیلی ویژن نہیں تھا۔ میری تمام معلومات کا انحصار اخبارات یا لوگوں سے سنی سنائی باتیں تھیں۔ میں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور نہیں دیکھا اور بے نظیر ونوازشریف کا دور یاد نہی۔ اس لئے ان ادوار کی خوبیوں اور خامیوں سے صرف نظر کروں گا۔
میں نے اپنی زندگی میں اپنے علاقے کی جس سیاسی شخصیت کا تذکرہ سب سے زیادہ سنا وہ ملک حاکمین خان ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جب بھی کہیں ملک حاکمین خان کا تذکرہ ہوا تو ان کا صرف تمسخر ہی اڑایا گیا۔ اس طرح ذہن میں ان کی ایک منفی تصویر سی بن گئی۔ پہلی دفعہ ملک حاکمین خان کو اپنے بیٹے ملک شاہان کی الیکشن کمپئین چلاتے ہوئے دیکھا اور سنا ۔ ہمارے ہاں الیکشن کی مہم ہمیشہ سے صرف ہلہ گلہ، شورشرابہ اور تمسخرانہ ہی ہوتی ہیں۔ ویسے بھی انسان کے دماغ میں جس شخص کے بارے میں کوئی تصویر راسخ ہو، وہ آسانی سے نہیں مٹتی۔ بہرحال ملک شاہان حاکمین تاریخ ساز ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے اپنا امیج بنانے میں ناکام رہا۔ جس میں اس کے اپنوں کی ریشہ دوانیوں کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ ان کے مخالفین کا بھی مضبوط نیٹ ورک ان کے خلاف سرگرم رہا جو عجیب وغریب خرافات عوام میں پھیلاتا رہا، جس سے حقیقت عوام سے اوجھل ہی رہی۔
نئی نسل واقعی ملک حاکمین خان کی قربانیوں اور عوامی خدمات سے نابلد ہے۔ ملک حاکمین خان کی پارٹی کے لئے قربانیاں بھلانے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی عوامی خدمات بھی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ اٹک کے چھوٹے سے گاؤں شین باغ سے تعلق رکھنے ولا معمولی سا انسان ملک حاکمین خان بڑے دل اور ظرف کا مالک ہے جس نے اس وقت بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں، خانوں ، ملکوں، سرداروں اور انگریز کے خطاب یافتہ نوابوں سے ٹکر لی جب ہر طرف ان کا طوطی بولتا تھا۔ ان کی مرضی کے بنا کوئی کام نہیں ہوتا تھا چارسو ان کے قبضہ مافیا کا راج تھا۔ اس اندھیر نگری میں ملک حاکمین خان عوام کے لئے امید کی ایک کرن بن کر ابھرا۔ پسے ہوئے، جاگیرداروں کے ڈسے ہوئے، بنیادی حقوق سے محروم طبقے نے ملک حاکمین خان کو اپنا نجات دہندہ منتخب کیا۔ پھر ملک حاکمین خان نے بھی وعدے کی لاج رکھی۔ ہر طرف سے اس پر مخالفین کا دباؤ تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بارہا اس کے گھر کے سامنے جلسہ سجا کر مخالفین نے اپنے دلوں کا عناد نکالا۔ لیکن آفرین ہے اس وفا کے کوہ گراں اور حلم وتدبر کے پیکر پر، اس نے اف تک نہ کی۔ اس ناروا سلوک پر احتجاج تو کجا اپنی زبان سے گلہ تک نہ کیا۔
ملک حاکمین خان کی کتاب کا تذکرہ پہلی دفعہ ایک کالم نگا ر سے سنا۔ انہوں نے مجھ سے کہا آج چئیرمین پریس کلب نے فلاں شخص کے خلاف خبر نکالی ہے کہ "اس کا باپ ملک حاکمین خان کی حویلی کا پرانا نمک خوار ہے اس کا ذکر ضرور اس کتاب میں بطور خدمت گزار کے آئے گا "۔ کچھ عرصہ کے بعد فیس بک پر ملک حاکمین خان کی کتاب "خارزارسیاست کے شب روز " کو دیکھا۔ میںنے کتاب حاصل کی۔ میں نے جب کتاب کو پڑھا تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ بہت سی حقیقتیں آشکار ہوئیں۔ ملک حاکمین خان بڑے دل اور ظرف کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری کتاب میں سوائے راجہ پرویزاشرف سابق وزیراعظم پاکستان کی زیادتیوں کے، کسی کی برائی بیان نہیں کی۔ ملک حاکمین خان کے پاس بیک وقت پانچ پانچ وزارتیں رہیں لیکن ان کا دماغ خراب نہ ہوا۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ وہ شاید ملک کی واحد شخصیت ہیں جن پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں۔ کسی قسم کی کرپشن کی، نہ ہی قرضے معاف کرائے یا کسی قسم کے پرمٹ لئے۔ نہ ہی کوئی غبن کیا بلکہ بچوں کی شادی کے لئے اپنی آبائی زمینیں تک فروخت کیں۔
ملک حاکمین خان کی خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں سب سے اہم ضلع کیمبلپور کو پسماندہ قرار دلوانا ، دیہی علاقوں کو گیس کی فراہمی، روٹی کپڑا مکان کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد، پسماندہ، بے کس، مجبوراور بے بس عوام کو جابر ظالم جاگیرداروں کے چنگل سے آزادی ، پیپلزکالونیوں کی بنیاد، جیلوں میں اصلاحات، قیدیوں کے لئے ہنرمندی کے منصوبہ جات، سکول ، کالج، ہسپتال، سڑکیں، پل اور لاتعدار عوامی منصوبے شامل ہیں۔آ ج تک تمام سیاسی ذمہ داران کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن ملک حاکمین خان کوہمیشہ عوامی جلسوں اور ریلیوں میں گرفتار کیا گیا۔ یہ ان کی بہادری کی واضح مثال ہے۔ مارشل لاء کا سخت دور میں سات سال قید بامشقت کاٹی، بے سروسامانی اور مشکلات کوہنس کر جھیلا اور ہمیشہ شکرگزار رہے۔ کبھی گلہ تک نہ کیا۔ خاموش طبیعت کے مالک ہیں لیکن ملک اور عوام کے مفاد کی جب بھی بات آئی کبھی خاموش نہیں بیٹھے۔ خواہ اسمبلی کا فلور ہو یا چوک چوراہ، ہمیشہ عوام کے حق کے لئے بڑے سے بڑے ظالم وجابر کو للکارا۔
ملک حاکمین خان کی کتاب "خارزارسیاست کے شب و روز " ان کی طویل سیاسی جدوجہد، یاداشتوں اور چشم کشا انکشافات پر مشتمل داستان حیات ہے۔ اس میں جابجا ان کے کارہائے نمایاں بکھرے پڑے ہیں۔ ان کی پوری سیاسی زندگی اور نصف صدی کے سیاسی حالات کا واضح اظہاریہ ہے۔ اس میں تمام مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر سیاسی ذمہ دار، ہر سیاسی ورکر اور تمام پڑھے لکھے اور خاص کر اٹک کے نوجوانوں کے لئے ضروری ہے۔ یہ ان کے لئے مشعل راہ بھی ہے اور اپنی مٹی سے وفا کرنے والوں کی تاریخ بھی۔ کتاب میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جس سے میرے ذہن کے دریچے کھلے اور بہت سے شبہات اور غلط فہیمیوں کا ازالہ ہوا۔ خاص کر وہ باتیں جو ہمارے ہاں ملک حاکمین خان کے خطابات کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ان پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاا رہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ "میں ملک میں جیلوں کے جال بچھا دوں گا۔ "۔ اس جھوٹے پروپیگنڈا کی گتھی بھی خود عباس اطہر نے سلجھا دی تھی جو اس غلط خبر کے بانی تھے۔