فعال سوشلسٹ ریاست کا بانی
- تحریر محمود شفیع بھٹی
- ہفتہ 03 / دسمبر / 2016
- 4782
فیدل کاسترو کا دوسرا نام انقلاب تھا۔ کیوبا کے امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود کیوبا کے غریب عوام کے دلوں میں بستا رہا اور طویل ترین حکمرانی کا ریکارڈ قائم کیا۔ امریکہ کاسترو کو اپنا بہت بڑا دشمن سمجھتا تھا۔ امریکی کوششوں کے باوجود کاسترو کامیاب رہا اور اس دوران امریکہ بہادر کے دس صدور تبدیل ہوچکے تھے۔ امریکہ پوری دنیا میں کمیونزم کو شکست دے چکا تھا، سرمایہ دار محفوظ ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود کاسترو ایک زندہ اور چبھتی ہوئی مثال کے طور امریکہ کے دروازے پر موجود رہا۔ امریکہ نے کئی دہائیوں تک کیوبا پر پابندیاں عائد رکھیں۔ جو اوباما کے موجودہ دور میں کچھ کم ہوئیں ہیں۔
کاسترو تین اگست 1926 کو کیوبا کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی آرام دہ زندگی کا کیوبا کے عوام کی مفلسی سے موازنہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیوبا کےعوام کو غربت، ذلت اور جسم فروشی جیسے ماحول کے سوا کچھ نہ ملتا تھا۔ قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان تمام حالات کے پیش نظر کاسترو نے گوانتانا مو بے کے جنوب میں واقع سیراما اسٹیانامی پہاڑوں میں موجود اپنے اڈے سے بڑے پیمانے پر گوریلا مہم شروع کی۔ کاسترو اس میں کامیاب ہوا اور اپنے باغی گروہ کی مدد سے جولائی 1956 کو ہوانا میں داخل ہوا اور فتح حاصل کی۔ کاسترو نے اپنی حکومت قائم کی اور ملک میں ایک پارٹی سسٹم متعارف کروایا۔ جس کی وجہ کئی لوگوں کو جیل جانا پڑا اور ریاست میں ازادی رائے پر پابندی عائد کی گئی۔
60 کی دہائی میں کاسترو نے کیوبا میں موجود تمام بڑے کاروباری اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ جس میں اکثریت امریکی ملکیت میں تھے۔ اس کے جواب میں کیوبا پر تجارتی پابندیاں لگیں اور یہ تخلیاں اب تک موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں کاسترو نے جب سوویت یونین سے تعلقات استوار کئے ۔ سوویت کی جانب سے گنے کی کاشت کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا۔ جس سے کیوبا کو وقتی طور پر کافی سہارا ملا۔ کیوبا کی چینی کا سب سے بڑا خریدار روس رہا۔ 1980 کی دہائی میں جب عالمی طاقت کا توازن بدلا تو روس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا جس کی وجہ سے کاسترو کو اپنی پالیسیوں کو بدلنا پڑا۔
عالمی منظر نامے کے بدلنے سے کیوبا دوبارہ اندھیرے میں داخل ہورہا تھا۔ اس دوران کاسترو کی مضبوط قیادت نے عوام کو حوصلہ دیا۔ اس وقت کیوبا میں دو طرح کی سوچ ہے ایک کاسترو کو راہنما کہتے ہیں تو دوسرے کاسترو کو جدید دنیا سے الگ تھلگ رکھنے کا مورد ازام ٹھہراتے ہیں۔ کیوبا میں کاسترو مخالف طبقہ کا موقف یہ ہے کہ کا سترو نے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے قومیانے کی پالیسی اپنائی، جس کی وجہ سے امریکہ سے دشمنی کا رشتہ استوار ہؤا۔ کیوبا کی حکومت نے کاسترو کی موت پر 9 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ان کی یاد میں تعزیتی کانفرنسز ہورہی ہیں۔ کاسترو مخالف طبقہ ، کاسترو کی موت کو ازادی رائے کی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اب عوام اپنا موقف اچھے طریقے سے بیان کرسکیں گے۔ ان پر جبر نہیں ہوگا۔ کاسترو مخالف طبقہ کا موقف یہ بھی ہے کہ کاسترو اپنے بعد صدارت کے لیے موزوں امیدوار اپنا بھائی راؤل کاسترو ہی کیوں نظر آیا؟
کاسترو کی شخصیت اور کاموں پر بحث کو ایک طرف رکھ کر اگر کیوبا کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال کافی بہتر ہے۔ آج کیوبا دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں سوشلزم عملی طور پر نافذ ہے۔ عوام کا معیار زندگی بلند ہے۔ لوگوں کو صحت، تعلیم کی کوئی فکر نہیں۔ سب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ گیس کی بھروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیوبا میں صحت کی سہولیات کسی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں ہیں۔ اس طرح کاسترو نے ایک فعال سشلسٹ ریاست قائم کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی۔