بشریٰ بختیار کے دل کے موسم

شعر کیا ہوتا ہے اور کب اور کیسے کہا جاتا ہے۔ اس بارے ادب کی تاریخ میں بہت کچھ محفوظ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ شعروسخن سے انسانی جذبات و احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں انسان خوشی و غم کی کیفیت سے دوچار رہا ہے اور انہی کیفیت کے اظہار کے لئے انسان نے  اپنی اپنی زبان کو استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں ہر زبان میں شعر کہے جاتے ہیں۔ کہنے والوں میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔

تاریخ ادب میں شاعری potery کا مادہ شعر ہے۔ اس کو اگر بہت سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو شعر اس کلام کو کہا جاسکتا ہے جو جذبات و احساسات کے تابع ہوتا ہے۔ ایک انسان جو کچھ غیر معمولی رنگ میں محسوس کرتا ہے تو  اپنے الفاظ میں اس کا اظہار کرتا ہے۔ محبوب سے عقیدت اور اس کی جدائی شاعری کا محور ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ مرد شعرا کی شاعری کا مرکز عورت رہی ہے۔ عورت کی شاعری کا مرکز بھی مرد ایک محبوب کی شکل میں رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عورت کی شاعری میں کچھ مختلف بھی ہے۔ عورت قدرتی طور پر مرد کی نسبت زیادہ حساس  اورسوچنے والی ہوتی ہے۔ لہذا اگر وہ شاعری کرتی ہے تو اس کی شاعری میں جذبات و احساست کے رنگ مرد کی نسبت زیادہ نظر آتے ہیں۔ ایک عورت اپنی ذات کے ہی دکھ اور خوشی کو اپنے شعر میں بیان نہیں کرتی بلکہ اس کی زندگی اور اس کے دل و دماغ میں بسنے والے سبھی مشاہدات اور احساسات اس کے شعروں میں جگہ پاتے ہیں۔ ان میں خونی رشتے بھی شامل ہوتے ہیں جیسے ماں۔ باپ، بچے اور شوہر وغیرہ۔

زندگی کے حادثے بھی انسان کو شاعر بنا دیتے ہیں اور کبھی کبھی بہت بڑی خوشی جو اچانک مل جائے تو بھی انسان اس کا اظہار کرتا ہے۔ کچھ لوگ  روحانیت پسند ہوتے ہیں۔  وہ اللہ سے محبت کے اظہار کے لئے  شعر  کو اپنی عقیدت کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔  برطانیہ میں مقیم بشریٰ بختیار خاں موجودہ دور کی شعر و سخن کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ ان کی شاعری پڑھنے کے لائق ہے اور پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہے۔ اپنے پہلے مجموعہ کلام دل کے موسم میں، میں شاعری کا موسم کے عنوان سے جو کچھ سپرد قلم کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان کا تعلق ایک ادبی اور دینی رحجان رکھنے والے خاندان سے ہے۔ ان کی تربیت بھی  ادبی ماحول میں ہوئی جہاں ان کو تہذیب و ادب کے دائروں میں زندگی بسر کرنا سکھایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے  اپنے جذبہ و احساس کوشاعری میں بیان کیا ہے۔  ان کے پاکیزہ کلام سے دور حاضر کی نوجوان نسل بہت کچھ سیکھے گی۔ انہوں نے خاندانی ادبی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت ہی اچھے انداز میں دل کے موسموں کا حال بیان کیا ہے۔

وقت کی گردش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دلوں کے موسم بدلتے رہتے ہیں اور یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔ لیکن ان موسموں کا حال بتانا ہر انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔  بشریٰ بختیارخاں اس مقصد میں کامیاب دکھائی دیتی ہیں اور اپنی تازہ کتاب کے ذریعے دور حاضر کی شاعرات کے درمیان مقام حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ 128صفحات پر مشتمل ان کا یہ پہلا مجموعہ کلام ہے جس کوسخن سرائے پبلی کیشن ملتان نے شائع کیا ہے۔ اس کا سرورق بہت سادہ لیکن موضوع کے عین مطابق ہے۔ اور عنوان کی مکمل منظر کشی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کے ردعمل میں اپنے احساسات ، جذبات اور خیالات کو بہت اچھے اور متاثر کن الفاظ  سے آراستہ کیا ہے۔ وہ اپنے دل کے موسموں کا حال بہت ہی پر اثر  انداز میں بیان کرتی ہیں۔ 

ان کی شاعری میں ماں کی محبت اور جدائی کے دکھ کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر48 پر ماں کو یاد کرکے کچھ یوں لکھتی ہیں کہ:

ماں کے چھوڑ جانے پر میں اکثر روتی ہوں بشریٰ
جیسے ماں اپنے سینے سے مجھ کو لگا کے روئی تھی

اگرکسی کی زندگی میں کوئی حادثہ یا واقعہ رونما ہوا ہو تو پھر وہی شاعری کا موجب بھی بن جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ  بشریٰ بختیار کے ساتھ ہوا ہے۔ اس بارے وہ خود کہتی ہیں کہ اپنے گھر اور ماں کی جدائی نے مجھے بہت تنہا کردیا اور میں شاعری کی طرف راغب ہوتی چلی گئی۔ زندگی کے انہی نشیب و فراز کے متعلق کیا خوب کہتی ہیں کہ:

زندگی کا سفر عجیب رہا
سخت آساں ، مگر عجیب رہا

ایک اور جگہ رقم طراز ہیں کہ:

کبھی خوش خوش کبھی اداس اداس
دل کے موسم عجیب ہوتے ہیں

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بشریٰ بختیار خاں کا کلام شاعری کے چراغ میں تیل ڈالنے کے مترادف ہے، جس سے دنیائے ادب و شعر و سخن میں روشنی اور پھیلے گی۔ ایک خاتون خانہ کی طرف سے گوناگوں مصروفیات کے باوجود مشق سخن جاری رکھنا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ ان کی  شاعری میں  زندگی کی دھوپ چھاؤں، دکھ و سکھ، جدائی، یادوں کے نقوش اور  وطن سے محبت ، ہر احساس اور تجربہ بیان کیا گیا ہے۔