کراچی کی تباہ حال سرکلر ریلوے

برصغیر پاک و ہند میں سو سال قبل سلطنت برطانیہ نے اپنے دور حکومت میں موجودہ پاک و ہند میں ریلوے نظام کا جال بچھا دیا تھا۔  برطانیہ کے لئے سامان کی ترسیل کراچی کی بندرگاہ سے ہوا کرتی تھی۔  برطانوی حکمرانوں نے تجارت کے فروغ  کےلئے ریل کا نظام استوار کیا تھا۔  لیکن وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس نظام کو مسافروں کے لئے بھی استعمال میں لایا گیا۔

موجودہ بھارت اور پاکستان برطانوی حکمرانوں کے اس عمل سے آج تک مستفید  ہو رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے ریلوے نظام میں مزید بہتری پیدا کی ہے لیکن پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ ریلوےکو سیاستدانوں نے بے سہارا اور لاچار بنا دیا ہے۔ جو آتا ہے اسے لوٹ کر چلا جاتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ، کوئی دیکھنے اور سننے والا نہیں۔  محکمہ ریلوے  کے ذریعے لاکھوں نہیں اربوں روپے کی کرپشن آج تک جاری ہے۔ کراچی تا پشاور ریلوے لائن انگریزوں نے ہی بچھائی تھی۔ یہی نہیں بالائی علاقوں اور بلوچستان میں بھی ریلوے کے نظام کو پروان چڑھایا۔ موجودہ دور میں کراچی شہر میں عوام الناس کو کم قیمت میں سفر دینے والی سرکلر ریلوے کا جنازہ اس بھیانک انداز میں نکالا گیا کہ اس کو بحال کرنا  نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ اس عمل میں جہاں سندھ  میں برسر اقتدار رہنے والی سیاسی جماعتوں کا قصور ہے تو وہیں وفاق بھی اس کا ذمہ دار ہے۔   ٹرانسپورٹ مافیا کے ساتھ ملی بھگت کرکے از خود اس کو برباد کردیا گیا ہے۔ کئی بار  سندھ اور وفاقی حکومتوں نے اعلانات تو بہت کئے کہ ہم کراچی سرکلر ریلوے کے نظام کو بحال کریں گے لیکن یہ بات صرف صرف بیانات تک محدود رہی۔ یہی وجہ ہے کہ لینڈ مافیا کے لوگوں نے سرکلر ریلوے لائن پر غیرقانونی عمارتیں بناڈالیں ہیں۔ اور ریلوے ٹریک اکھاڑ کر بیچ ڈالےہیں۔

اب اس ٹریک کا قابل استعمال بنانا ناممکن ہے۔  کراچی سرکلر ریلوے کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ ٹریک کراچی کے انتہائی مصروف ترین اور گنجان ترین علاقوں سے گزر رہا ہے۔  ان علاقوں میں شاہراہ فیصل ، شاہ فیصل ٹاؤن، ڈرگ روڈ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، عزیز آباد، ایف سی ایریا، لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، پاپوش، سائٹ انڈسٹریل ایریا، ماری پور، مچھر کالونی، مسرور بیس اورکیماڑی وغیرہ شامل ہیں۔ بہتر ہو گا کہ پاکستان ریلوے کی اس زمین پر اب جو بھی بچا کچا ٹریک ہے، اسے نکال کر فی الفور فروخت کردیا جائے اور اس رقم کو محکمہ ریلوے کے دیگر شعبوں کی بہتری و ترقی کےلئے استعمال میں لایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اس ٹریک پر بہترین اچھی شاہراہ بنا دی جائے۔  تاکہ اندرون شہر کےلئے سفر آسان ہو  سکے۔ خستہ پلوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے اور ٹریک سے منسلک تمام سرکاری اراضی کے قبضے کو خالی کراکر شاہراہ کےلئے استعمال میں لایا جائے۔

یوں تو کراچی میں گرین بس ٹریک کا تعمیرات  کے کام کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن اس کے مکمل ہونے کے بعد بھی کراچی کے ٹریفک کے مسائل موجود رہیں گے۔  زیادہ فائدہ حاصل کرنے کےلئے سرکلر ریلوے ٹریک کو سرکلر روڈ میں تبدیل کرنا وقت کی اشد ضرورت بن گیا ہے۔ درمیان میں آنے والے پرانے ریلوے پھاٹکوں پر اوور ہیڈ برج بنادیئے جائیں تاکہ یہ ٹریک براہ راست بغیر کسی رکاوٹ کے متواتر ٹریفک کی روانی کیلئے کار آمد ثابت ہوسکے۔ اگر مزید  سست روی اختیار کی گئی تو لینڈ مافیا ٹریک کی تمام اراضی کو اپنی چالاکیوں کے سبب ہڑپ کرجائیں گے۔ اور کراچی کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ 

حالیہ دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی کے حوالے سے بہت بیانات دے چکی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورآصف علی زرداری  کہتے  رہے ہیں کہ کراچی کی ترقی کےلئے کوئی بھی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔  دوسری جانب کراچی سے بھاری تعداد میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے بھی بہت نعرے، دلاسے، یقین دلائے۔ لیکن ان دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے آج تک عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔  موجودہ میئر وسیم اختر اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر فاروق ستار بھی سرگرمی سے آئے روز میڈیا کے سامنے آتے ہیں۔ سید مراد علی شاہ اور فاروق ستار کراچی کی ترقی کیلئے باتوں تک محدود ہی رہتےہیں۔ پی ایس پی کے رہنماؤں کے دعوے اور دلاسے بھی ان دونوں جماعتوں سے کم نہیں۔ لیکن کیا یہ اپنے گزشتہ ادوار کو بھول گئے جب کراچی کے فنڈ درست  طریقہ سے استعمال  نہ ہوسکے تھے اور اب بھی یہی حال نظر آتا ہے۔ 

کراچی  میٹروپولیٹن شہر ہے۔ لیکن اس کاحال کسی دیہات سے کم نہیں۔ کراچی میں پاکستان کے ہر شہر، ہر دیہات سے آئے ہوئے لوگ  آباد ہیں۔  مگرکراچی کےلئے حکومتی سطح پر یتیموں ، مسکینوں اور سوتیلے بھائیوں جیسا برتاؤ غیر مناسب اور غیر جمہوری ہے۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت اور وفاق کراچی کی سرکلر ریلوے ٹریک کو کس طرح بہتر بنائیں گے۔ کیا یہ دونوں حکومتیں ایک بار پھر اس میں اپنے لئےبھاری کمیشن کے ذرائع تلاش کریں گی یا نہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ سندھ حکومت، لوکل گورنمنٹ کراچی اور وفاقی حکومت کس طرح مخلص ہوکر کراچی کےلئے جامع پلان تیار کرتے ہیں۔