عمران خان، نظام کے مخالف یا نواز لیگ کے

عمران خان عملی طور پر پاکستان کی حزبِ اختلاف کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی قیادت میں ایک نئی سیاست کا انداز اپنایا ہے۔ اُن کی سیاست کی بنیاد اقتدار کے لیے متوقع ہر قسم کے ذرائع کو استعمال کرنا ہے اور اس حکمتِ عملی کے تحت ہی انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاملات کو بگاڑ نے کی بجائے تعلقات کو خوش گوار کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے نزدیک سیاست صرف اقتدار، طاقت اور وسائل کا نام ہے۔ اس میں مزدور، محنت کش، طالب علم، کسان، عوام تو آخری کنارے پر کھڑے کررکھے ہیں۔ آصف علی زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سول حکومت جیسی بھی ہے، اس سے بگاڑ کر کچھ حاصل ہونے کی بجائے نقصان ہی ہوگا اور یوں موجودہ سول اقتدار میں وہ درحقیقت حصے دار ہیں۔ اسے وہ جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری سے پہلے ایک ایسی پارٹی تھی جو ہر وقت احتجاجی رو یہ اختیار کرتی تھی۔ اس لیے اس کو اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت کہا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ جب وہ حکومت میں بھی ہوتی تھی تو یوں لگتا تھا کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھی ہے۔ اس لیے کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے اپوزیشن اور حکومت میں بھی لڑتی نظر آتی تھی۔ یہ ہی پی پی  کی شناخت تھی جو اب شعوری طور پر کھو چکی ہے، جس میں فیصلہ کن کردار آصف علی زرداری نے ادا کیا ہے۔ ہمارے متعدد ’’انقلابی صفت قلم کار‘‘ جن میں کراچی کی ایک ادیبہ، کالم نگار سر فہرست ہیں، اس سیاست کو جمہوریت کا حُسن قرار دیتی ہیں۔ ایک ایسی جمہوریت جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے میں’’ گھل مِل ‘‘ گئی ہے۔

ہمارے ایسے لکھاری جو اس ’’لولی لنگڑی‘‘ جمہوریت کو عوام کی واحد بقا قرار دیتے ہیں، لوگوں کو تسلی دینے پر کاربند ہیں۔ حوصلہ رکھیں اِسی لولی لنگڑی جمہوریت سے ہی عوامی حقوق، ترقی اور خوشحالی کے سر چشمے پھوٹیں گے۔ جب کہ ایسی جمہوریت کی حقیقت نسلوں کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اس جمہوریت کے مقابلے میں متعدد لوگ اور قلم کار عسکری مداخلت کو ریفارمز کا راستہ قرار دیتے ہیں۔ ایسی جمہوریت اور ویسی آمریت دراصل تصویر کے دو رخ ہیں۔ اصل راستہ عوامی جمہوریت ہے، جس کے لیے مین سٹریم کوئی جماعت متحرک اور تیار نہیں۔

عمران خان اس صورت حال میں ایک فائیدہ اٹھانے والے Beneficiary سیاست دان ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو مشکل وقت  Tough Timeتو دے رکھا ہے اور اس طرح عملی طور پر ایک متحرک اپوزیشن لیڈر کا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس وہ اس تغیر کا ادارک ہی نہیں رکھتے کہ سماج کس بغاوت کے لئے سر اٹھا رہا ہے۔ سماج ایک ایسی بغاوت پر کھڑا ہے کہ اگر کوئی اس بغاوت کو حکمران طبقات سے نجات دلانے کا ایجنڈا فراہم کر دے تو یہ بغاوت ایک عوامی جمہوری انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ایک ایسی بغاوت جو اشرافیہ اور حکمران طبقات کی بجائے عوامی حاکمیت کی خواہاں بنے۔ عمران خان نظام کے اپوزیشن لیڈر نہیں، صرف میاں نواز شریف کی حکومت کے اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے لیے اُن کو طاقت کے دیگر مراکز سے حمایت بھی ملنے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کاش وہ اس عوامی جدلیات کا شعور رکھتے جو سماج برپا کر چکا ہے۔ ایک انتشار زدہ سماج اور بے چین لوگ، کاش وہ نظام کے مارے لوگوں کے نظریاتی قائد ثابت ہوتے لیکن نہ جانے وہ ایسا کیوں نہیں کر پائے۔ کیا وہ اس سماجی صورتِ حال کا ادراک ہی نہیں رکھتے یا وہ جان بوجھ کر شعوری طور پر ایسا کرنے سے گریزاں ہیں۔ کہ کہیں ایسے میں واقعی انقلاب برپا ہی نہ ہو جائے۔

لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران خان، پاکستان پیپلز پارٹی سے ایک قدم آگے ہیں۔ آصف علی زرداری نظام اور نون لیگ  دونوں کے اتحادی ثابت ہوئے ہیں۔ وہ اپنی بقا، نظام اور نون لیگ میں پا رہے ہیں۔ جب کہ عمران خان نے پچھلے تین سالوں سے جو سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے کہ طاقت کے وہ مراکز جو اُن کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ،اب یا اگلے دو سال میں شاید ایسی حوصلہ افزائی نہیں کر پائیں گے۔ راقم یہ محسوس کر رہا ہے کہ عمران خان پاناما سیکنڈل اور نیوزگیٹ میں نواز حکومت کو آگے لگا کر ہلکان کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگلے دو سالوں میں وہ اپنی اس حکمتِ عملی کو مزید تیز کریں گے۔ پاناما سیکنڈل یا کسی اور سکینڈل میں اگر نواز حکومت بچ بھی گئی تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اب عمران خان اپنی اس حکمت عملی کو مزید شدت سے عمل میں لائیں گے، جس کے تحت وزیراعظم نوازشریف کے لئے مشکلات پیدا کی جائیں۔  اب عمران خان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں کہ اگلے دو سال انتخابات کے انعقاد تک نون لیگ کی حکومت کو آگے آگے دوڑنے پر مجبور رکھا جائے۔ عمران خان یہ سمجھ گئے ہیں کہ اب اُن کی بقا اسی میں ہے کہ میاں نواز کی حکومت کو سانس نہ لینے دیا جائے تاکہ 2018 میں وہ اور اُن کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں اسی رفتار Tempo کے ساتھ داخل ہو۔

انہوں نے اپنی سیاست کا محور میاں نواز شریف کو بنا لیا ہے۔ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جس قدر نواز شریف کی مخالفت کریں گے، اسی قدر سیاسی زندگی پائیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح اگلے دو سالوں میں عمران خان پاناما سکینڈل جسے ایشوز کے بغیر بھی سخت حزبِ مخالف لیڈر کا کردار ادا کریں گے۔ اُن کو اپوزیشن کی سیاست کا ایک چسکا لگ گیا ہے۔ ایک ایسا چسکا کہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جس قدر حکومت مخالف انداز اپنائیں گے، اُسی قدر مقبول ہوں گے۔ اُن کے نزدیک اب پاناما سکینڈل اور دیگر سکینڈلز حکومت کو نشانہ بنانے کا صرف ایک ذریعہ ہیں۔ کاش وہ اپنی حکمت عملی اور سیاست میں سماجی تغیرات کو سمجھتے ہوئے ایک ایسا سیاسی فلسفہ پیش کرتے جو اس اشرافیائی نظام کی چولیں توڑ کر عوام کو سیاست، اقتدار اور اختیارات کا مالک بنا دیتا۔ لیکن نہیں، یہ ایسا نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ اس اشرافیائی نظام کے کَل پرزے اُن کی مقبول ہوتی جماعت کے سرخیل ہیں۔

اشرافیائی لڑائی میں جب  ایک دھڑے کو شکست ہوگی تو ہمیں مزید ایسے چہرے اُن کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے جو آج مسلم لیگ (ن) میں آستینیں چڑھا کر کے پی ٹی آئی کے خلاف صف آرا ہیں۔ یہ لڑائی اشرافیہ اور عوام کے درمیان نہیں بلکہ یہ لڑائی دراصل اشرافیہ اور اشرافیہ کے ہی درمیان ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ پنجاب میں نئی کارپوریٹ مڈل کلاس عمران خان کی اتحادی بن کر ابھری ہے۔ وہ بھی تبدیلی کا وہی تصور رکھتی ہے جو عمران خان رکھتے ہیں۔ اِن لوگوں کے نزدیک بس ایک ہی مسئلہ اہم ہے، اور وہ ہے کرپشن کا۔ یہ کہ حکومت  میں شامل لوگ اور ان کے رفقائے کار، کاروباری لوگ کرپشن کرکے ملک کو لوٹتے ہیں۔ وہ اس نظام کو ڈھانا نہیں چاہتے جو بنیاد ہی کرپٹ لوگوں پر کرتا ہے۔ وہ اس نظام کو صرف ٹھیک ٹھاک کرناچاہتے ہیں۔ اسی لیے اُن کا دوسرا اہم سیاسی نکتہ، بہتر گورننس Good Governance کا ہے۔ یہ نئی مڈل کلاس اور اس کے قائد عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ اربوں ڈالرز لوٹ کر جو باہر جاتے ہیں، بس وہ باہر نہ جائیں۔

پی ٹی آئی کی قیادت اِن جرائم سے آنکھیں چراتی ہے جس نے سماج کے پیداواری طبقات کو محکوم بنا رکھا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کا تصور عوامی طبقات کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر طاقتور  Empowered کیے بغیر ایک ڈھکوسلا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں تو ایک بڑا طبقہ یہ یقین کیے بیٹھا ہے کہ اگر اربوں ڈالرز جو ہمارے حکمران طبقات نے لوٹ کر بیرون ملک جمع کروا رکھے ہیں، وہ واپس آ جائیں تو ملک بدل جائے گا۔ بھلا کبھی دنیا کے سرمایہ دار ممالک کے بینکوں میں رکھی دولت بھی اپنے ممالک کو واپس لوٹی ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیا قومی دولت واپس لانے کے بعد مزید لوٹ کر باہر لے جانا ناممکن ہو جائے گا؟ کیسا دھوکہ کھاتے ہیں ہمارے عوام ایسے دانشوروں کے تجزیوں سے جو خود عالمی سیاست اور نظام سے نابلد ہیں۔

اصل لڑائی تو ہے ہی اندرونی استحصال کی۔ کبھی ہم نے عمران خان کے منہ سے یہ سنا کہ یہ نظام استحصالی ہے۔ کبھی نہیں۔ استحصال کا لفظ اُن کی تقاریر کا موضوع ہی نہیں بنا۔ بس کرپشن۔ جب کہ حقیقت میں استحصال اُم المرائض ہے۔عمران خان کی زبان پر کرپشن سن کرناچنے والے کیا جانیں کہ کرپشن اور استحصال میں کیا فرق ہے۔ عمران خان موجودہ حکومت کو سخت وقت ضرور دیں گے، کرپشن کے خلاف آواز بلند کریں گے، مگر استحصال کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند نہیں کریں گے۔ وہ خود یہ یقین کیے اور اپنے لوگوں کو یقین کرائے بیٹھے ہیں اگر میں میاں نواز شریف کی کرسی پر بیٹھ گیا تو سب کچھ بدل جائے گا۔ حالاں کہ یہ کرسی ہی تو اس نظام کی محافظ ہے۔ بس چہرے بدلتے ہیں، کرسی نہیں بدلتی۔