کراچی کے ندی نالوں پر ناجائز قبضے
- تحریر جاوید صدیقی
- جمعرات 08 / دسمبر / 2016
- 6170
دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے شہروں اور دیہات میں ندی نالوں کے ذریعے نکاسی آب کا نظام استوارکیا جاتا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پزیر ان تمام ممالک میں ندی نالوں کو پختہ بنایا جاتا ہے اور شہر بھر کے گٹروں سے لنک بناکر ندی یا پھر نالوں میں اتاردیا جاتا ہے۔ یہ نہروں کے ذریعے سمندوں میں جا گرتے ہیں۔
پاکستان کا سب سے زیادہ گنجان شہر کراچی کا محل وقوع دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے اور آبادی کا پھیلاؤ بھی میلوں تک گیا ہے۔ کراچی کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے: ایک نیا کراچی دوسرا پرانا کراچی ۔ نیا کراچی اُن نو آبادیوں پر مشتمل ہے جو شہر سے فاصلے پر بنائی گئی ہیں اور پرانا کراچی اُن آبادیوں پر مشتمل ہے جو تقریباً بیس سال سے قبل آباد ہوئی تھیں۔ کراچی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے زیادہ گنجان شہر ہےلیکن کراچی کے مختلف علاقوں کے درمیان بہتی ندیاں لینڈ مافیا کی پسندیدہ جگہیں بن چکی ہیں۔ جس کا جی چاہتا ہے ندی نالوں کے پشتے میں کوئی دکان بنا بیٹھا ہے، تو کوئی مسجد و مدرسہ بنا لیتا ہے اور غیر قانونی مکانات کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔ ندیوں کے دونوں اطراف کے پشتوں پر برسوں سے ہر طبقہ، نسل، قومیت اور جماعت اپنے اپنے مفادات کے تحت قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ ان غیر قانونی جگہوں پر باآسانی پانی، بجلی اور گیس کی لائنیں بھی میسر ہیں۔ ہر ادارہ کچھ رشو ت کے عوض ان غیر قانونی آبادیوں کو آباد کرنے اور ان کو بڑھاوا دینے کےلئے سہولت فراہم کرتا ہے۔ حالیہ دور میں چند ایک مخصوص اور محدود حد تک آپریشن کرکے چند مکانات و دکانیں مسمار کئے گئے ہیں لیکن میڈیا کو دکھانے والے ایسے اقدامات سے برسوں کی پیدا کردہ مشکلاتا ختم نہیں ہو سکتیں۔
کراچی کی سیاسی جماعتوں کے مفادات کے خاطر تمام غیر قانونی املاک کو قانونی حیثیت دی جارہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے خاطر ہر نا جائز عمل کو قبول کررہی ہیں۔ میڈیا میں مچایا جانے والا شور بے اثر رہتا ہے۔ ایسے میں کراچی کیسے ترقی کون کرےگا۔ کراچی کے ہر شہری کا یہی سوال ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم لندن، پی ایس پی، ایم کیو ایم حقیقی ، جماعت اسلامی یا پھرپی پی پی کون اس کا ذمہ دار ہے۔ اکثر شہریوں کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم یعنی سابقہ ایم کیو ایم کے تمام لوگ جو اب اپنی اپنی جماعت بنائے بیٹھے ہیں انہوں نے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا اور ناجائز قبضے، انہیں کی چشم پوشی کی وجہ سے کئے گئے تھے۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم عرصہ دراز سے اقتدار میں رہی ہیں۔ پھر کراچی کے ندی نالوں پر لینڈ مافیہ کا قبضہ کیسے ممکن ہوسکا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دو جماعتوں میں بے شمار لوگ کرپٹ، لالچی، جھوٹے، فسادی، بے وقوف بنانے والے ہیں اور اب بھی یہی عمل نئے انداز سے اپنائے ہوئے ہیں۔ کراچی کے شہری یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ ہو یا سندھ حکومت رشوت، کرپشن، لوٹ مار کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ شہریوں کے مطابق جب تک افواج پاکستان سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بلا تفریق گرینڈ آپریشن نہیں کریں گی، اُس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کا اثر شہر کی سیکورٹی صورت حال پر بھی پڑتا ہے۔ میں کراچی کے ایک ایک چپے سے میں واقف ہوں۔ میرے نزدیک سندھ اور لوکل گورنمنٹ کراچی چاہے تو کراچی کو اعلیٰ ترقی یافتہ شہر بنا سکتی ہے۔ مگر اس کےلئے انہیں میڈیا میں بیان بازی نہیں بلکہ عمل کرکے دکھانا پڑے گا۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کو اپنے تمام اختلافات کو بالائے تاک رکھ کر یکسوئی اور اتحاد کے ساتھ کراچی کے تمام ندی نالوں سے قبضہ گیروں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
ان ندی نالوں کے دونوں اطراف کم از کم چالیس چالیس فٹ روڈ بنا کر دیگر روڈوں سے منسلک کردیا جائے تاکہ ان شاہراہوں پر چھوٹی گاڑیاں چلائی جاسکیں۔ ہر انٹری پر ٹول ٹیکس بھی لگادیا جائے جس طرح لیاری ایکسپریس وے ہے۔ اس عمل سے جہاں ندیاں پختہ اور مضبوط بنادی جائیں گی اور لنک شاہراہوں سے ٹریفک کا بہاؤ بھی کم ہوجائے گا ،اس عمل سے ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاریوں کو گزرنے کے لئے بھی مشکلات کا سامنا نہیں پڑے گا۔ کراچی میں سیاستدانوں نے ہمیشہ صرف دولت کمانے کےلئے بے جا اور بیکار منصوبہ بنائے ہیں۔ کبھی بھی سنجیدہ ہوکرعوام کے لئے مفید ، سود مند اور سستے پروجیکٹ تیار نہیں کئے۔
میں یہاں اس بحث میں مزید کچھ نہیں لکھوں گا البتہ اسی امر کی جانب توجہ مرکوز کرتا چلوں کہ ہمارے بااختیار افسران، مشیران، وزرا کراچی کے ندی نالوں کو کارآمد بناسکتے ہیں۔ انہیں نہ صرف بہترین شاہراہ کی شکل دے سکتے ہیں بلکہ اطراف میں گرین بیلٹ بناکر علاقے کو خوبصورت بناسکتے ہیں۔ تاہم ان سب کےلئے نیک نیتی ضروری ہے۔ پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے منتخب میئر رہ چکے ہیں۔ ان کی خدمات کے چرچے بہت رہے ہیں۔ مگر کیا کبھی کسی نے ان سے پوچھا کہ ان کے تعمیراتی منصوبے پانچ سال بھی نہ چل سکے۔ ان کے دور میں جس طرح ٹھیکے دیئے گئے وہ ایک الگ تاریخ ہے۔ بےپناہ کرپشن اور کمیشن کا بازارگرم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کی شاہراہیں اورپل جو ان کے زمانے میں تیار کئے گئے تھے، تمام کے تمام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
کراچی اپنے ندی نالوں سے بہت زیادہ استفادہ کرسکتا ہے۔ نئی شاہراہوں کے ذریعے شہر کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسے منصوبوں پر پر عمل کون کرے۔ سیاستدان اگر اپنی روش سے باز نہ آئے تو صورت حال مزید خراب ہوگی۔