سعادت کی زندگی، شہادت کی موت
- تحریر مفتی محمد وقاص رفیعؔ
- جمعرات 08 / دسمبر / 2016
- 10748
تبلیغی جماعت سے وابستہ وطن عزیز پاکستان کے مشہور و معروف نعت خواں ، داعی الیٰ اللہ بھائی جنید جمشید بھی مسافرانِ آخرت میں شامل ہوگئے ہیں۔ وہ چند روز قبل اپنی اہلیہ کے ہمراہ دس روز کی تشکیل کے لئے ’’ دعوت و تبلیغ ‘‘ کے سلسلے میں چترال کی طرف گئے ہوئے تھے ، جہاں سے 7 دسمبر بروز بدھ ان کی اسلام آباد کی طرف واپسی متوقع تھی ۔ لیکن طیارہ کے سانحہ کی وجہ سے وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
گزشتہ روز تین بج کر تیس منٹ پر وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ پی آئی اے کی پرواز P.K-661 پر سوار ہوکر چترال سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ حویلیاں کے قریب بودلہ نامی گاؤں کے قریب اچانک جہاز کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا۔ اور جنید جمشید سمیت47 مسافروں کی زندگیاں حویلیاں کی پہاڑیوں میں ہمیشہ کے لئے موت کی آغوش میں چلی گئیں ۔ جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ عنفوانِ شباب میں ہی وہ پاپ موسیقی گروپ وائٹل سائنز کے نمائندہ گلوکار کی حیثیت سے اس میں شامل ہوئے۔
1987 میں جنید جمشید نے جب پاکستان ٹیلی ویژن پراپنا ملی نغمہ ’دل دل پاکستان‘ گایا تو اس نے اس قدر شہرت حاصل کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور کروڑوں دلوں کی آواز بن گیا ۔ چنانچہ یوم آزادی ، یوم پاکستان ، اور دیگر قومی دنوں پر اس نغمے کی دھنوں کا بجنا ایک لازمی حصہ تصور کیا جانے لگا ۔ اس نغمے کی بدولت جنید جمشید ایسے چھائے کہ اگلی پوری دہائی میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہ ہوسکا ۔ اس زمانے میں ان کے تین البم ریلیز ہوئے۔
تاہم تبلیغی جماعت کے مشہورعالم دین مولانا ڈاکٹر طارق جمیل کے زیر اثر جنید جمشید کارجحان اسلامی تعلیمات کی طرف ہو گیا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے گانوں ، باجوں اور موسیقی کو خیر آباد کہہ دیا اور دعوت و تبلیغ اور اشاعت اسلام کی طرف مائل ہوکر داعی الیٰ اللہ بن گئے ۔ 2002 سے لے کر 2016 تک کی ان کی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور حضور نبی کریمؐ کی نعت خوانی و ثناء خوانی اور دعوت الیٰ اللہ جیسے رفیع العظمت اور عظیم المرتبت کام میں گزری ۔ مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری جماعت رائیونڈ سے کراچی کی طرف ٹرین میں سفر کر رہی تھی کہ اچانک میری نظر ٹیلی ویژن کی سکرین پر پڑی جس میں جنید جمشید چند نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا ۔ میں دل ہی دل میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگا کہ اس نوجوان کو بھی اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق عطا فرماسکتے ہیں۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کو راہِ راست پر لانے کے لئے اللہ تعالیٰ میرا ہی انتخاب فرمائیں گے۔
جنید جمشید نے 2002 حمد و نعت پڑھنا شروع کی اور اس میدان میں بھی انہوں بام شہرت کے عروج کو چھؤا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میدان میں بھی ان کو خوب عزت و ترقی سے سرفراز کیا ۔ 2007 میں ان کو تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا ۔ ان کا حمد اور نعتیہ کلام پر مشتمل پہلا البم ’جلوۂ جاناں‘ کے نام سے2005 میں ریلیز ہوا۔ دوسرا البم ’محبوب یزداں‘ کے نام سے 2006 میں سامنے آیا۔ تیسرا البم ’ بدر الدجیٰ ‘ کے نام سے 2008 میں ریلیز ہوا۔ او ر چوتھا البم ’’بدیع الزماں‘‘ کے نام سے 2009 میں ریلیز کیا گیا ۔ اس کے علاوہ اس دوران جنید جمشید نے اپنا کاروبار بھی شروع کیا ، جس کی شاخیں بڑے بڑے شہروں میں قائم ہیں ۔ وہ ٹی وی پروگراموں میں’ رمضان نشریات‘ کی میزبانی بھی کرتے رہے اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے ۔
جنید جمشید کی زندگی اس لحاط سے بھی قابل رشک ہے کہ جب ان کے والد ماجد دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ اللہ کے راستہ میں تھے ، پھر جب ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال کا وقت آیا تب بھی وہ اللہ کے راستہ میں تھے اور اب جب خود ان کی شہادت کا وقت آیا تو بھی اپنی شریکہ حیات کے ساتھ اللہ کے راستہ میں تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیسی سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے تمام شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین