دادا گیری سے دہشت گردی تک

کیا خوب زمانہ تھا۔ کبھی کہ ہر محلے میں ایک دادا ہوا کر تا تھا ۔ دادا اس بدمعاش کو کہتے تھے جس کی پولیس کے زیر سر پرستی محلے میں دادا گیری چلتی تھی۔ سب کو پتہ ہوتا تھا کہ بھئی وہ دادا ہے۔ اور کسی کو اس کے سامنے چوں چراں کر نے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

دادا ہونے کے لیے ضروری تھا کہ بندے کا کسرتی بدن ہو۔ مارپیٹ کے ہنر سے واقفیت ہو اور دو چار بار محلے میں وہ کسی اور سورما کو ایسی پھینٹی لگا چکا ہو کہ پٹنے والے کے لئے ہلدی چونا کی نوبت آگئی ہو۔ اور وہ اس پٹائی کے بعد دادا کو دیکھ کر محلے میں کترا کر گزر جانے لگا ہو۔ پولیس بچاری جان بوجھ کر اور اکثر مصلحت کے تحت اس پر ہاتھ نہیں ڈالا کر تی تھی۔ کبھی تو پولیس کو ان سے کسی چوری چکاری کے واردات کی مخبری چاہیئے ہوتی تھی ،  تو کبھی پولیس ڈکیتی کے واردات میں اپنا حصہ لےکر خاموش تما شائی بن جا یا کرتی تھی۔ مگر تب ایسی دادا گیری بھی محلے کے سکون کا باعث تھی۔ کیا مجال کہ کوئی اور اس دادا کے علاوہ محلے میں کوئی بدمعاشی کر سکے۔

اگر اس دادا کا دل محلے کی کسی لڑکی پر آجاتا تو کوئی بھی اس لڑکی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا ۔ یہ اور بات تھی کہ جس لڑکی پر دادا کی نظر انتخاب پڑجاتی وہ عام طور سے اس بات سے بے خبر ہی ہوتی کہ دادا دل ہی دل میں اس پرستش کر رہا ہے۔ اور اس کے بدلے میں وہ تحفظ کے اعلی مدارج سے لطف اندوز ہورہی ہے۔ اگر اس کے کان میں اڑتی اڑتی یہ خبر پہنچ بھی جاتی تو وہ اپنی سہیلیوں کے بیچ ہی اس بارے میں کچھ کہہ نہ پاتی اور کہتی بھی کیا۔ بس کوستی ہائے پھٹکار پڑے اس لچے لفنگے پر۔ ابا تک یہ بات پہنچ گئی تو میرا کالج جانا ہی نہ بند ہوجائے۔ ہائے خدا کی مار ہو اس بد بخت پہ۔ لیکن وہ بد بخت بھی اسی طرح بے خبر رہتا جیسے اس کی چہیتی۔  ہاں اگر اس لڑکی کی شادی اس کے والدین کہیں اور کر دیتے تو پھر دادا بھی سینے پر ہاتھ رکھ کر صبر کرنے میں ہی عافیت جانتا۔ چونکہ وہ  اپنے ہی محلے کے بزرگوں کے خلاف دادا گیری نہیں کر سکتا تھا ۔

محلے میں شعیہ، سنی، احمدی سبھی مل جل کر رہتے۔ محرم میں جلوس ، علم نکلتے، حلیم کی دیگ چڑھتی اور دادا سبھوں کو کام پر لگاکر مزے سے نگرانی کر رہا ہوتا۔ اسی طرح عید میلاد النبی کے جلسےکا بھی دادا خوب اچھی طرح سے بندوبست کروایا کرتا۔ الغرض ایک دادا کے بے شمار فوائد تھے۔ محلے میں کسی کا بھی کوئی بھی کام ہوتا دادا ہر وقت مدد کو تیار نظر آتا۔ اکثر و بیشتر تو وہ محلے کے ہی کسی نو جوان کو جو اس کی ہمراہی میں ہوتے،  ایسی کسی مدد کے لیے بھیج دیا کرتا۔ اور آواز لگا کر کہتا ۔۔۔ کہیو دادا نے کہا ہے، یہ اس کے خاص آدمی ہیں۔ سننے والا دادا کا پیغام سن کر سمجھ جاتا کہ جیسے بھی ہو اسے یہ مسئلہ حل کر نا ہے۔ اور وہ پوری تندہی سے مسئلے کو حل کر نے کی کو شش کرتا۔  یوں پورا محلہ دادا کے ہاتھوں میں ہوتا اور خوش بھی رہتا کہ دادا صرف بد معاشوں سے بد معاشی کرتا ہے ورنہ سبھی کی تو وہ مدد ہی کر تا ہے۔

پھر کرنا خدا کا یہ ہوا۔۔۔۔۔ خدا کا یا بندے کا ۔۔۔ بہرحال ہوا یہ کہ دادا لوگ کی دادا گیری ختم ہوگئی اور دادا گیری کی جگہ دہشتگردی نے لےلی ۔ اب کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے کہاں سے آتا ہے اور کیا چاہتا ہے ۔ بس نامعلوم، نادیدہ دہشت گرد آتا اور ایک دھماکہ کر جاتا ۔  فقط  اپنی ٹوپی ، کاندھے کا رومال، خون کے چھینٹے اور اعضا کے چیتھڑے ہی پیچھے چھوڑ جاتا۔ جسے پولیس، رینجرز اور فوج بطور پزل کے جوڑ جوڑ کر اس کہانی کو پڑھنے کی ناکام کوشش کر تے۔ حالانکہ کہانی تو کھلی کتاب کی مانند عیاں ہے۔

واردات میں ملوث کا غیر ملکی پاسپورٹ البتہ صحیح سلامت مل جاتا ہے ۔ ساری دنیا میں ایک ہی طریقہ واردات ہے۔  ہم نے اپنے پرانے محلے کے ایک بزرگ سے احوال پوچھا تو بولے بھئی ہمارے محلے کی حفاظت صرف وہی دادا لوگ کرسکتا ہے۔ یہ ساری فوج رینجرز کو ہٹا دو ہر محلے کا مقامی دادا اس کو لو ٹا دو۔۔۔