انسانی حقوق کا عالمی دن اور پاکستان
- تحریر منور علی شاہد
- جمعہ 09 / دسمبر / 2016
- 10070
10دسمبر کو ہر سال دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور یہ کہ دنیا میں تمام انسان عزت ، احترام ، بنیادی حقوق ، عدل و انصاف ، رنگ و نسل اور ذات کے حوالے سے برابر ہیں۔ ان کے ساتھ ہی کسی بھی ریاست میں صنفی یا عقیدہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا۔
اس لحاظ سے دس دسمبر کا دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ ہم سب کو نہ صرف ان بنیادی انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنی ہے بلکہ ان کے تحفظ کے لئے جدوجہد بھی جاری رکھنی ہے۔ یہ ایک عام نہیں بلکہ بہت خاص دن ہے ۔ آج سے68 سال قبل 1948میں اسی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک انتہائی غیر معمولی دستاویز کی منظوری دی تھی۔ اسے انسانی حقوق کا عالمی منشوریو ڈی ایچ آر یعنیUniversal Declation of Human Rights,UDHR کہا جاتا تھا۔ اپنے قیام کے بعد یہ سب سے بڑی اور اہم ترین کامیابی تھی جو اقوام متحدہ نے حاصل کی تھی۔ اس وقت ممبرز ممالک میں سے 48 نے اس کی حمایت کی تھی جب کہ 8 ممالک نے خاموشی اختیار رکھی تھی۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں دنیا بھر کے انسانوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور ان کے ہر قسم کے بنیادی حقوق کی بات کی گئی تھی۔ اس منشور میں کل 30 دفعات شامل ہیں۔ اس کی پہلی دفعہ نمبر ایک میں کہا گیا کہ تمام انسان آزاد ، اور حقوق اور عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ضمیر اور عقل وویعت ہوئی ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیئے۔
اسی طرح دفعہ 3 میں ہر شخص کو آزادی ، زندگی اورتحفظ کا حق دیا گیا ہے۔ دفعہ18میں تمام انسانوں کی مکمل فکر، ضمیر اور مذہبی آزادی کی بات کی گئی ہے۔ یہ بہت اہم دفعہ ہے۔ موجودہ دور میں اس کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اس دستاویز میں ایک انسان کی زندگی سے لے کر اس کی تعلیم ، صحت، کھیل اور ہر قسم کی معاشی ، سماجی و سیاسی حقوق کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی منشور پر اپنے اپنے ملک میں عمل درآمد کریں اورملک کے تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے لئے یکساں پالیسیاں بنائیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا اور خاص طور پر اسلامی ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ان میں خواتین اور مذہبی اقلیتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سعودی عرب، ایران اور پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہیں ۔
مہذب ممالک میں اس دن کی مناسبت سے بہت سی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالی کا نہ صرف جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ حکومت وقت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے بہت سی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اخبارات میں نہ صرف خبریں شائع ہوتی ہیں بلکہ انسانی حقوق کے ادارے سیمینارز بھی منعقد کرتے ہیں جہاں انسانی حقوق کی کی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال کر ان کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجو ابھی تک پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے نیک نامی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گڈ گورنس کے حوالے سے بھی پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ خواتین کو زندہ جلانے اور غیرت کے نام پر قتل کرنے کے پے درپے واقعات سے پاکستان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح پاکستان بھرمیں مذہبی اقلیتیں شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
پاکستان میں صحافی برادری اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے اور انجانے خطرات میں گھرے رہتے ہیں۔ اس سال پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں اس قرار داد کی مخالفت کی تھی جس میں انسانی حقوق کے محافظین کے کردار کو تسلیم کرنے اور انہیں تحفظ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ رویہ انتہائی تکلیف دہ اور حکومت وقت کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ میں یہ قرار داد 117 ووٹوں سے منظور ہو گئی تھی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوتا جنہوں نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔
پاکستان کے آئین میں اس وقت انسانی حقوق کے حوالے سے21 شقیں موجود ہیں۔ شق نمبر 8 سے 28 میں انسانی حقوق کی بات کی گئی ہے۔ لیکن وہ سب کچھ محض دکھاوا ہی لگتا ہے۔ پاکستان کے آرٹیکل 9 میں کیا گیا ہے کہ ہر شخص آزاد ہے اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے۔ کسی شخص کو زندہ رہنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ آرٹیکل 20 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ 25 میں تمام شہریوں کو مساوی قرار دیا گیا ہے۔ جنسی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ آئین کے ان ارٹیکلز کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں خود ریاستی اداروں کی طرف سے کی جاتی ہیں، جس پر آواز بلند کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ خواتین کے غیرت کے نام پر قتل عام کی بازگشت تو اب دوسرے ممالک تک پہنچنے لگی ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں دو ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں اور 2015 بدترین سال تھا جس میں 1095 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا ۔ پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ انتہائی غیر انسانی رویئے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ تھانوں میں پولیس تشدد ، ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی ، بچوں کو تعلیمی سہولیات اور سکولوں کا نہ ملنا، بنیادی ضروریات کا فقدان سبھی کچھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو انسانی حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے تاکہ وہ نہ صرف خود اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں بلکہ ایک باشعور شہری بن سکیں۔ پھر حکومت وقت سے یہ حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد بھی کر سکیں۔ لیکن جو بات اس کام میں حائل ہورہی ہے وہ سیاست اور ریاستی امور میں مذہب کی مداخلت ہے۔ عام پاکستانی ہر بات کو پہلے مذہب کے حوالے سے دیکھتا اور سوچتا ہے۔ دوسرے پاکستانیوں کی شناخت اسی حوالے سے کرتا ہے۔ اور پھر طے کرتا ہے کہ اسے کیا کہنا اور کرنا ہے۔ اس طرح انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ وہ فرقہ اور مذہب کو فوقیت دیتا ہے ۔ حالانکہ اگر یو ڈی ایچ آر کو دیکھا جائے تو اس میں شامل آرٹیکلز وہ ہیں جن کی اسلامی تعلیمات میں اہمیت بیان کی گئی ہے۔ لیکن پاکستان میں ملا اس کو بھی غیر ملکی ایجنڈا قرار دیتا ہے۔
پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے کافی خوش کن پیش رفت بھی ہوئی ہیں، جن میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے باعث صوبوں کو ملنے والے اختیارات کے نتیجہ میں بعض صوبائی حکومتوں نے صوبائی سطح پر ایسے اقدامات کئے ہیں جن کو بہت سراہا گیا ہے۔ ان میں پنجاب اسمبلی میں عورتوں کے خلاف تشدد کا بل خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اسی طرح سندھ کی اسمبلی نے تو انسانی حقوق کے فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں اور قانون سازی بھی کی ہے۔ ان میں سب سے اہم پیش رفت تعلیمی نصاب میں انسانی حقوق کے باب شامل کرنا ہے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی ہی میں فروری میں ہندو میرج بل منظور کیا گیا تھا جو ہندو کمیونٹی کا یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس کے لئے ہندوں نے ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کی تھی۔
حال ہی میں سندھ کی اسمبلی میں زبردستی کی تبدیلئ مذہب اور جبری شادی کے خلاف بھی قانون سازی ہوئی ہے۔ یہ سب بہت جرات مندانہ فیصلے ہیں اور ان پر مذہبی جماعتوں کا ردعمل بھی سامنے ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے سد باب کے لئے غیرمذہبی جمہوریت رویوں کے لئے کام کیا جائے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی ملائیت ہی جمہوریت اور انسانی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔