سیاست دان کی ضرورت ہے
- تحریر مختار چوہدری
- ہفتہ 10 / دسمبر / 2016
- 11509
کیا جمہوری پاکستان میں کوئی سیاستدان ہے؟ کم از کم کسی بھی سیاسی جماعت کے صدر یا چیئرمین کے طور پر تو کوئی سیاستدان نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی سیاستدان ہی نہیں تو پھر کوئی قومی راہنما کہاں سے آئے گا۔ کوئی بھی معاشرہ بغیر کسی حقیقی راہنما کے ترقی کی منازل کیسے طے کر سکتا ہے۔ ہم سب اور خصوصی طور پر ہمارے ذرائع ابلاغ بشمول ٹی وی چینل اٹھتے بیٹھتے اپنے سیاستدانوں کو کوستے نہیں تھکتے۔ وطن عزیز کی جو حالت ہے اس کا ذمہ دار بھی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ہی ٹھہراتے ہیں لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ اس ملک میں سیاستدان ہے کون۔
سیاستدان کی تعریف کیا ہے؟ اگر کوئی شخص انتخابات میں حصہ لے لے تو کیا وہ سیاستدان کہلائے گا۔ محمد علی جناح ایک بہت ہی اعلٰی پائے کے قانون دان تھے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک اچھے راہنما اور سیاستدان تھے جن کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔ لیکن ان کو زندگی نے زیادہ مہلت نہ دی۔ وہ خود کہتے تھے کہ ان کی جیب میں صرف کھوٹے سکے ہیں۔ ان کے بعد اگرچہ چند ایک سیاستدان تو تھے مگر کوئی ان کے پائے کا راہنما نہیں تھا جو آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لیتا۔ اور کسی حد تک ہی سہی ان کا خلا پر کر دیتا اور پاکستان کو اپنی منزل کی جانب رواں دواں کر دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان ایک لاغر مریض کی تصویر نہ بنا ہوتا۔ سیاسی راہنما اور جمہوری سیاستدانوں کے فقدان کے سبب پاکستان میں ادارے مضبوط نہ ہو سکے اور سیاست بھی جاگیرداروں اور وڈیروں کا کھیل ٹھہری۔ جس کی وجہ سے فوجی جرنیلوں کو سیاست میں دخل اندازی کا جواز مل گیا۔ آج تک وہی اس ملک کی تقدیر لکھنے پر قادر رہے ہیں۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مبینہ سیاستدان خود ان کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک جنبش ابرو کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم کس طرح یہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ نہج تک لانے کے ذمہ دار سیاستدان ہیں؟
50 کی دہائی میں اگرکچھ سیاستدان تھے بھی تو وہ اس قابل نہیں تھے کہ مختلف اکائیوں، مختلف قوموں اور مختلف زبانوں والے پاکستان کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے سکتے۔ سیاستدان کیسے بنتا ہے۔ یہ کوئی مٹی کا کھلونا مانند تو نہیں ہوتا کہ کسی کمہار سے پیشگی آرڈر پر تیار کروایا جا سکے۔ سیاستدان تو اصل میں ایک نظریے کا نام ہوتا ہے۔ ایک فوجی یا سول افسر اپنی تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر نوکری حاصل کر سکتا ہے۔ ایک صنعت کار پیسے کی بدولت صنعتیں لگا سکتا ہے۔ کسی بھی مدرسے سے فارغ التحصیل شخص ایک اچھا مبلغ یا عالم کہلا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کا حامل شخص اس وقت تک ایک اچھا سیاسی راہنما ثابت نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمینی حقائق کا ادراک نہ رکھتا ہو، کسی نظریے کا قائل نہ ہو، دور اندیش نہ ہو، ملکی اور بین الاقوامی سیاسی بندوبست سے واقف نہ ہو، اپنے عوام کی نفسیات کی خبر نہ رکھتا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ملک کا حقیقی وفادار نہ ہو اور ہر طرح کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف ملکی مفادات کو مقدم نہ رکھتا ہو۔
سیاستدان ایک نظریے کے تحت، خود اپنی راہ متعین کرتے ہوئے منزل کی جانب قدم بڑھانے کے حوصلے سے سرشار ہوتا ہے۔ سیاست ایک نظریے، ایک سوچ کا نام ہے۔ سیاست اور جمہوریت کی ابتدا کب ہوئی اور اس کی داغ بیل کس نے رکھی۔ میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ نہ ہی میں تاریخ کا طالب علم ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ سیاست اور جمہوریت کی ابتدا عربوں سے ہوئی ہے اور اس کا شعور اسلام نے دیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ جیسی کوئی قوم ہوگی ویسے ہی اس کے حکمران ہوں گے۔ میں اس آیت مبارک کو جمہوریت کی طرف ایک اشارے کے طور پر لیتا ہوں۔ پھر بیعت کی روایت بھی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ سے شروع ہوتی ہے جس کو اعتماد کا ووٹ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج عربوں میں بالخصوص اور اسلامی ممالک میں بالعموم جمہوریت کا فقدان ہے۔ ہر طرف ملوکیت، بادشاہت اور آمریت کا دور دورہ ہے۔جید علماء کرام جمہوریت کو شجر ممنوعہ گردانتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کو جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں بہت بڑے راہنما اور سیاستدان پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اسلامی سلطنت کو دنیا کے طول و عرض میں وسعت دی۔ لیکن جیسے جیسے مسلمان جمہوریت سے دور ہوتے گئے اور بادشاہت کی طرف بڑھتے گئے تو سیاسی قیادت بھی ناپید ہوتی گئی۔ مسلمان کمزور ہوتے چلے گئے اور آج وہ اغیار کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔
پاکستان کی بات کریں تو بدقسمتی سے قائداعظم کے بعد کوئی بڑا سیاستدان یا قومی سطح کا راہنما سامنے نہیں آیا اور اگر کوئی حقیقی سیاستدان آیا بھی (جیسے مجیب الرحمٰن ) تو وہ بھی لسانی اور علاقائی نظریے کی بنیاد پر۔ ذوالفقار علی بھٹو واقعی بڑے قد کاٹھ کے لیڈر تھے، دور اندیش بھی تھے۔ ایسے لیڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ لیکن ان کے ساتھ بھی کئی مسائل تھے۔ سب سے پہلے یہ کہ ان کا تعلق ایک بہت بڑے جاگیردار گھرانے سے تھا اور وہ بھی کسی حد تک سٹیٹس کو کے حامی تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ بھی براستہ جی ایچ کیو آئے تھے۔ تیسرا یہ کہ اقتدار کی سیاست ان کی کمزوری تھی ورنہ وہ مجیب الرحمٰن کو اقتدار دینے کی حمایت کر سکتے تھے۔ لیکن اپنی تمام انسانی کمزوریوں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو بالاشبہ بہت بڑے سیاسی راہنما تھے۔ اگر ان کو مزید مہلت ملتی تو پاکستان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔ کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں آخری سیاستدان تھے۔ گو کہ چوہدری ظہور الٰہی، نواب زادہ نصراللہ خان، معراج محمد خان، معراج خالد، رضا ربانی اور اس طرح کے کئی اور بھی سیاستدان پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قومی سطح تک رسائی حاصل نہیں کر پایا۔
1977 کے بعد تو ‘امیرالمومنین‘ نے اس کھیت کو ہی جلا کر راکھ کر دیا تھا جس سے کبھی گل و گلزار کی امید ہو سکتی تھی ۔ سیاست بس روپے پیسے اور ذاتی مفادات کا کھیل بن کر رہ گئی ۔ اور ہیئت مقتدرہ نے مہروں کا ایسا کھیل شروع کیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ملکی ادارے انحطاط کا ایسا شکار ہوئے کہ ملک کے سیاسی بندوبست کی شکل ہی بگڑ کر رہ گئی۔ 1977 کے بعد کوئی نیا سیاستدان سیاسی افق پر نمودار نہیں ہوا۔ بس سیاسی خانوادے، مہرے اور پیشہ ور سیاسی جغادری سیاست کا کاروبار کرتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستانی سیاست روپے پیسے، طاقت، علاقائی ، لسانی اور برادریوں کے کھیل کا نام بن کر رہ گئی ہے۔ جن اداروں پر جمہوری بندوبست کا انحصار ہوتا ہے وہ ادارے تباہی کا شکار ہیں۔ کوئی بھی ادارہ اپنی اصلاح کرنے یا اپنا کام ٹھیک طرح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ دوسروں کے کام میں ٹانگیں اڑائی جاتی ہیں۔
جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو یہ پاکستان کا ایسا واحد مضبوط ادارہ ہے جس کی باقاعدہ تربیت ہوتی ہے اور یہی ایک ادارہ ہے جس میں نظم و ضبط کی پابندی ہے۔ بدقسمتی سے یہ بھی اپنے کام سے ہٹ کر دوسرے معاملات میں مداخلت کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سبب بھی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فوج پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہے یا وہ عوام کی ترقی نہیں چاہتی۔ دراصل فوجی جرنیل یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے ساتھ ساتھ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے بھی وہی اہل ہیں۔ اگر انہوں نے ملک سیاستدانوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا تو خدا نخواستہ ملک بچ نہیں سکتا۔ لیکن وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ کسی بھی ملک کا سیاسی بندوبست اس ملک کے عوام کا حق ہوتا ہے۔ دراصل جس طرح ایک ڈرائیور خود گاڑی چلاتے ہوئے خود کو اور گاڑی کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔ اور کسی دوسرے کو اسٹیرنگ دے کر خود کومحفوظ نہیں جانتا، اسی طرح ہمارے فوجی جرنیلوں کو بھی سولین لیڈروں پر اعتماد نہیں۔
ایسے میں جب تک کوئی حقیقی سیاستدان سامنے نہیں آتا اور فوج کو اعتماد میں نہیں لیتا اور اس کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہو جاتا کہ حضور آپ ہم پر اعتماد رکھیں ہم بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے آپ ہیں۔ ہمیں بھی یہ وطن عزیز ہے اور ہم اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس ملک کے مفاد کو مقدم رکھیں گے۔ آپ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری لیں تو ہم اس ملک کی ترقی کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ یہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی بہتری ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مجھے امید ہے کہ جس دن کوئی حقیقی سیاستدان سامنے آگیا اور فوج سے بامقصد مذاکرات کئے تو فوجی جرنیل بھی اس پر اعتماد کریں گے۔ کیوں کہ فوج اس ملک کے ساتھ مخلص ہے اور اس کو ترقی کی راہ پر رواں دواں دیکھنا چاہتی ہے۔ جس دن فوج اور سویلین قیادت میں اعتماد قائم ہو گیا اور اکٹھے مل کر اپنا اپنا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو گیا، اس دن سے ہمارا ملک ترقی کی جانب رواں دواں ہو جائے گا۔ دوسرے ادارے بھی اپنا اپنا کام ذمہ داری سے کرنا شروع کر دیں گے ۔ ورنہ آج تو یہ حالت ہے کہ ہر ادارہ خود میں ایک ریاست قائم کئے بیٹھا ہے۔
افتخار چوہدری کے زمانے سے عدالتوں میں جو روایات چل نکلی ہیں، وہ کوئی نیک شگون نہیں ہیں۔ جج صاحبان کے ریمارکس پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ کوئی یہ فرماتے ہیں کہ امید تو عورتوں کو ہوتی ہے تو کوئی فرماتے ہیں کہ اخبارات پکوڑے پیک کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر ادارہ دوسروں کے کام میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے چہ جائے کہ اپنا کام کرے ۔
سو میں آج پاکستان کی طرف سے یہ اشتہار دے رہا ہوں کہ ایک سیاستدان کی ضرورت ہے۔ جو قابل ہو۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو۔ اخلاص، ایمانداری، ملکی حالات کا مکمل ادراک رکھتا ہو۔ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرسکتا ہو۔ مستقبل کے پروگرام اور سیاسی نظام کی تیاری میں کردار ادا کرے عوام سے تعلق عقائم رکھے۔ اگر کوئی ان خصوصیات کا حامل شخصموجود ہو تو راقم سے رابطہ کر سکتا ہے۔