پاکستان پیپلزپارٹی، پہلی نسل کی قیادت
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 10 / دسمبر / 2016
- 4975
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اب تیسری نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب اس پارٹی کو بنایا، اس وقت وہ اقتدار کی سیاست سے بہت حد تک آگاہ ہو چکے تھے۔ ایوب خان کی کابینہ میں رہ کر قومی اور عالمی سیاست کی Dynamics سے اُن کو بھرپور آگاہی ہوچکی تھی۔ انہوں نے اقتدار کی سیاست سے بغاوت کرکے اپنے آپ کو عوام کی سیاست سے جوڑا اور یوں پاکستان میں طالب علموں، نوجوانوں اور درمیانے طبقات کی عوامی تحریک کی قیادت کی، جس کے بطن سے پاکستان پیپلز پارٹی نے جنم لیا۔
اپنے طبقے (جاگیردار) اور اقتدار کی سیاست سے بغاوت کے بعد انہوں نے نظریاتی حوالے سے ایک ایسی پارٹی کی قائم کی جو سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئی۔ ان کی پارٹی کو شہر سے دیہات تک ایک ایسا تیار ترقی پسند کیڈر میسر ہوا جس کی آبیاری پچھلی تین چار دہائیوں میں مختلف ترقی پسند تحریکوں نے کی تھی۔ اُن کی کرشماتی شخصیت نے اس Cadre Building میں گراں قدر اضافہ کیا۔ انہوں نے جب پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل کی، اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُن کی قیادت میں بننے والی پارٹی اس قدر عوامی مقبولیت حاصل کر پائے گی۔ اس پارٹی کا مرکز پنجاب تھا۔ 1970 کے انتخابات میں وہ پورے مغربی پاکستان سے پچیس کے قریب قومی اسمبلی کے اراکین منتخب کروانے کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن صرف پنجاب سے اُن کی نومولود پارٹی کو 81 سیٹیں مل گئیں۔ ایسی صورت حال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عوام قیادت سے آگے نکل گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طاقت اس کا نظریہ اور اس میں شامل ہونے والے وہ طبقات تھے جو نہایت پسماندہ اور پیداواری کے حوالے سے سب سے اہم تھے۔ یوں پی پی پی کا ظہور درحقیقت ایک طبقاتی بغاوت تھی۔ شہری طبقات سے ترقی پسند دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اور دیہاتی طبقات سے کسان تحریکوں سے متعلق کیڈر اس نئی پارٹی کا بے مثال امتزاج تھا۔ یہ پاکستان کی پہلی منظم طبقاتی بغاوت تھی جس کا ادراک پی پی پی مخالف حکمران طبقات کو ہر گز نہیں تھا۔ اسی لیے گورنر مغربی پاکستان نے اس نئی پارٹی کا تمسخر اڑاتے ہوتے اسے تانگہ بانوں اور گندے کپڑے پہننے والوں کی جماعت قرار دیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر پی پی پی مخالف حکمرانوں کو اس کی مقبولیت کا ادراک نہیں تھا تو اس کی اپنی قیادت بھی اس پارٹی کی مقبولیت سے آگاہ نہ تھی جو عوام نے طبقاتی بغاوت کے سبب اسے عطا کر دی تھی۔ یہ پارٹی مغربی پاکستان کی مقبول ترین جماعت بن کر ابھری۔ یہ پاکستان میں دراصل ایک نئی سیاست کا ظہور تھا۔ عوام کی سیاست، کسانوں، محنت کشوں، مزدوروں، طالب علموں، نوجوانوں اور خواتین کی سیاست۔ یہ سب کچھ پی پی پی کے منظم پلیٹ فارم سے ہوا۔ اس سیاست کی کامیابی نظریے اور تنظیم کے مرہون منت تھی۔ ایک جدید سوشلسٹ نظریہ اور طاقت ور عوامی تنظیم۔ اس پر دانشوروں کی دانش کا حسن سونے پر سہاگہ ثابت ہوا۔ بڑے چھوٹے شہروں میں رہنے والے ادیب، شاعر، دانشور اور اہل فکر، اس پارٹی کے نظریاتی وکیل بن کر ابھرے۔ یہ پارٹی عملاً عوام نے بنائی، ذوالفقار علی بھٹو نے تو ایک ایسی پارٹی بنانے کی خواہش ہی کی تھی جو ترقی پسند نظریات کے متعلق ہو۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں پارٹی کی تشکیل سے بہت پہلے ایک جگہ جب خطاب کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں ایسے نظریات (سوشلسٹ) کے مطابق ایک پارٹی بنانا چاہتا ہوں تو لاہور کے ایک نوجوان سہیل منان نے اس تقریر سے متاثر ہو کر سرخ اور سیاہ رنگ کا ایک پرچم شورش کا شمیری کی پریس سے چھپوا کر سارے شہر میں چسپاں کر دیا، جو کہ اس وقت ایک سنگین سیاسی جرم تھا۔ اور اگر ہم تحقیق کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ ہر شہر اور قصبے کے لوگوں نے پی پی پی بنا کر ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تو اپنی تقاریر اور عوامی رابطے سے عوام کو سیاسی فکر کے حوالے سے ایک Message دیا اور پنجاب کے لوگوں نے ہر شہر اور قصبے میں ایسی پارٹی کو از خود منظم کر لیا۔ ایسی پارٹیاں انقلابی پارٹیاں ہوتی ہیں جو از خود عوام منظم کریں۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں پہلے سے موجود بکھرا کیڈراور ذوالفقار علی بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت سے جنم لینے والا طبقہ اس جماعت کی تنظیم اور تحریک کا ہر اول دستہ ثابت ہوا۔ طلبا کے ساتھ ساتھ ٹریڈ یونین لیڈرز نے اس نئی پارٹی کو مضبوط تنظیمی تجربات فراہم کر دئیے اور یوں پی پی پی مین سٹریم کی مقبول سوشلسٹ جماعت بن کر سامنے آئی۔ اس نئی پارٹی میں حنیف رامے جیسے شہری دانشور، مختار رانا جیسے مزدور رہنما قیاد ت کررہے تھے تو اس جماعت کو بابائے سوشلزم شیخ رشید جیسے کسان لیڈر میسر ہوئے۔ پنجاب میں پی پی پی کی تنظیم کا تمام بیٹرا بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید نے اٹھایا۔ یہ ایک شان دار عوامی اتحاد تھا۔ ایک ایسی بغاوت جسے نظریہ مل گیا اور یوں بغاوت ایک انقلاب میں بدل گئی۔ ایک عوامی جمہوری انقلاب۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی دستاویز اس حوالے سے برصغیر میں جنم لینے والی تمام عوامی جماعتوں سے کہیں زیادہ Radical سیاسی دستاویز ہے۔ ذرا غور کریں، مغربی پاکستان اس سیاسی بغاوت میں طبقاتی انقلاب کے دہانے پر کھڑا تھا تو مشرقی پاکستان تنگ نظر قوم پرستی کے تحت بغاوت کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ مغربی پاکستان میں پی پی پی کے پلیٹ فارم سے لوگوں کا شعور تاریخی حوالے سے مشرقی پاکستان میں جنم لینے والی تنگ نظر قوم پرستی کے حوالے سے کہیں آگے تھا۔ مغربی پاکستان جسے اس وقت غاصب حکمران طبقات کا مرکز کہا جاتا تھا، وہ ایک جمہوری سوشلسٹ انقلاب برپا کر رہا تھا، جب کہ اس کے مقابلے میں مشرقی پاکستان (سر زمین بنگال) جسے دانشوروں کی سرزمین کہا جاتا ہے، Narrow Nationalism کے گرداب میں گھر چکا تھا۔ مشرقی پاکستان جو تاریخی حوالے سے زیادہ روشن خیال اور ترقی پسند سیاست کی ہمعصر عوامی تاریخ رکھتا ہے، اس حوالے سے مغربی پاکستان سے کہیں پیچھے رہ گیا۔
طبقاتی بغاوت کے حوالے سے یہ بغاوت عوامی لیگ کے مقابلے میں ایک نئی جنم لینے والی سیاسی جماعت نے برپا کی تھی۔ طبقاتی، نظریاتی، سوشلسٹ، عوامی جمہوری اور سامراج مخالف بغاوت۔ ذرا مغربی پاکستان میں ہماری بغاوت کی قیادت پر نظر دوڑائیں، جے اے رحیم، محمود علی قصوری، خورشید میر، شیخ محمد رشید، مختار رانا، حنیف رامے، حق نواز گنڈا پور، امان اللہ خان، ڈاکٹر مبشر حسن اور ہزاروں ترقی پسند دانشور اور سیاسی رہنما اس بغاوت کی طاقت اور قیادت تھے۔ یہ تجزیہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت اس کاروان کی قیادت کررہی تھی لیکن شہر شہر، قصبہ قصبہ، گلی گلی اس کی تنظیمی طاقت ایسے لوگوں کے پاس تھی جو بے مثال ترقی پسند نظریاتی اور تحریکی تجربہ رکھتے تھے، خصوصاً پنجاب کے خطہ میں۔ اگر یہ تجزیہ کیا جائے تو غلط نہیں کہ عوامی و طبقاتی بغاوت اور سیاسی میدان جو ترقی پسند فکر کے حوالے سے تیار ہو چکا تھا، اس نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی سیاست کے پس منظر کو رد کرکے اس بغاوت کے ساتھ جڑنے پر مجبور کیا تو غلط تجزیہ نہ ہو گا۔ ذوالفقار علی بھٹو خاندانی اور سیاسی حوالے سے حکمران طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ جنرل ایوب خان کابینہ سے علیحدگی کے بعد اس عوامی بغاوت میں آ ملے جو مغربی پاکستان میں پھوٹ چکی تھی۔ یوں انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر اور حکمرانی کی سیاست سے علیحدہ ہو کر اس عوامی بغاوت سے اتحاد کر لیا۔ اس کے لیے اُن کو اس طویل عمل سے نہ گزرنا پڑا جو کسی سیاسی بغاوت کی تیاری کے لیے نظریاتی جماعتوں کو دہائیوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔
1966-67 کی عوامی تحریک اور 1970 کے انتخابی نتائج نے پاکستان کے حکمران طبقات کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ پاکستان کی سیاسی کایا پلٹ تھی۔ ایک نئی امید، ایک ایسا پاکستان اور ایک ایسا سماج جو طبقاتی بنیادوں کو گرا کر کھڑا نظر آ رہا تھا۔ عوامی جمہوری بغاوت کے نتیجے میں اس نئی جماعت نے جمہوریت، سوشلزم اور عوام کو اقتدار کا سرچشمہ قرار دیا۔ جاگیردار اور حکمران طبقات اسی لیے اس سیاست کو کفر قرار دینے کی جان توڑ کوشش کی۔ لیکن خلق خدا نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو دسمبر 1971 میں اقتدار کی اس منزل پر پہنچا دیا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ یہ سب کچھ ایک نظریاتی اور منظم پارٹی کے سبب ہوا۔
(نوٹ: اگلا کالم دوسری نسل کی قیادت کے حوالے سے ہو گا، یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید۔)