امتناعِ قبولِ اسلام ایکٹ
- تحریر جاوید صدیقی
- ہفتہ 10 / دسمبر / 2016
- 5492
اللہ سبحانہ تعالی نے نبی کریم کو داعی ، جنت کی خوش خبری سنانے والا اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر دنیائے انسانیت کے لیے مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپ کی پوری پیغمبرانہ زندگی اس ذمہ داری کے احساس اور ادائیگی سے پر ہے۔ فرمان الٰہی ہے: اے نبی صلی الله علیہ وسلم بے شک ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور انکار وبدعملی کے نتائج سے آگاہ کرنے والا اور اللہ کی اجازت سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا اور روشن آفتاب کی حیثیت سے بھیجا ہے(سورہ احزاب آیت نمبر45۔46)۔
نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ دین اسلام کا عکس ہے۔ اللہ کے تمام احکامات اور دنیا میں عظیم و برتر اور امن و سکون کی زندگی کا اصل نمونہ آپ ﷺ نے اپنے نبوت سے قبل چالیس سال اپنے بہترین اعمال کے ذریعے دیا۔ پھر دین اسلام کے بعد سے آپ ﷺ نے نہ صرف اللہ کے احکامت بنی نوع انسان کو پہنچائے بلکہ تمام تر اللہ کے احکامات پر عمل کرکے مشعل راہ روشن کی۔ آپ ﷺ اور آپ کے دین میں داخل ہونے والوں کے اعمال کے سبب اسلام جزیرہ عرب سے پوری دنیا میں تیزی سے پھیلا۔ شروع زمانے سے ہی لوگ دین محمدی سے متاثر ہوکر از خود اس میں داخل ہوتے چلے گئے۔ یہ دین احسن اعمال اور سچائی کے سبب لوگوں کے دل میں رچ بس گیا تھا ۔ دین محمد اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ہے۔ اسی لئے اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ یہ دین تا قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ قرآن پاک دنیا بھر کے مسلمانوں کے سینہ میں محفوظ کردیا گیا ہے جبکہ اس کی طباعت بھی کروڑوں کی تعداد میں ہوتی ہے۔ پانچ وقت کی آذان اور نماز دین محمدی کی روح ہے۔ جمعہ اور عیدین کے اجتماع کفار کے دلوں پر حاوی ہوتے ہیں۔ اسلام کی روحانیت کے سبب کفار جوق در جوق اس پاک اور سچے دین میں داخل ہوتے ہیں۔
آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بظاہر دنیا میں تشریف لائے چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن دین محمدی کی روحانیت و کیفیت آج بھی اسی طرح ترو تازہ ہے۔ مسلمان جب خشوع و خضوع کےساتھ نماز و دیگر عبادات اور حقوق العباد ادا کرتا ہے تو اُس کا دل انتہائی نرم اور روح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے والہانہ محبت ہی دین محمدی کی کامیابی و کامرانی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں اور نبیوں میں سب سے زیادہ اپنے پیارے حبیب محمد ﷺ سے محبت کرتا ہے۔
سندھ کی اسمبلی نے قبولِ اسلام کے بارے میں ایک ایکٹ پاس کیا ہے جو امتناعِ قبولِ اسلام ایکٹ ہے۔ اس ایکٹ کی رو سے اٹھارہ سال سے کم عمر میں کوئی غیر مسلم اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ جو غیر مسلم اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کربھی لے تو وہ اکیس دن تک اس کا اعلان نہیں کرسکتا۔ درحقیقت یہ بِل دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 2، 2A،8، 20، 31اور 227کے منافی ہے۔ آرٹیکل31ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کے بارے میں سازگار ماحول پیدا کرے۔ یہ ایکٹ آزادیٔ مذہب اور حقوقِ انسانی کے بھی منافی ہے ۔ اپنے مذہب کے اظہار کے لیے کسی پر قانونی پابندی عائد کرنا شریعتِ اسلامی اور پاکستان کے آئین کے خلاف ہے ۔ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جہاں تک جبراً مسلمان بنانے پر تعزیری سزا مقرر کرنے کا تعلق ہے، اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کیا کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ طے کرنا عدالت کا کام ہے۔ یہ کسی انتظامی افسر کا دائرۂ اختیار نہیں ہے۔ عدالت میں کسی بھی الزام کے ثبوت کے لیے اقرار یا شہادت یا عدالت کے نزدیک قابلِ قبول قرائن وشواہد کا پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سندھ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمد بن قاسم سمیت تمام مسلم سپہ سالاروں نے اپنی مذہبی روایات اور اعمال کے سبب یہاں کے غیر مسلموں کو متاثر کیا تھا۔ یہی طریقہ بزرگان دین نے بھی اختیار کیا۔ ان میں سندھ کے صوفی بزرگ شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی ، سچل سرمست، شاہباز قلندر سمیت بےشمار اولیا و اسلافین نے دین کی ترویج اپنے احسن اخلاق اور دین محمدی پر عمل پیرا ہوکر کی ۔
اس پس منظر میں کسی کو زبردستی مسلمان کرنے کے خلاف قانون سازی درست ہے لیکن جو لوگ خود اسلام سے متاثر ہو کر اس دین حق کو قبول کرنا چاہتے ہیں ، ان کے لئے مشکلات پیدا کرنا درست نہیں ہے۔